← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Hazrat Yousuf ki misaal.
Urdu · 4 min
حضرت یوسف کی مثال: قرآن میں پیغمبر یوسف کے واقعے کو احسن القصص یعنی "best story" کا ٹائٹل دیا گیا ہے۔ سورہ یوسف، سورہ نمبر 12، آیت 3۔ احسن القصص کا مطلب ہے بہترین طریقہ کار، یعنی best method۔ اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں حضرت یوسف کے ذریعے ایک عملی مثال قائم کی، اور اس طرح ہر زمانے کے اہلِ ایمان کو یہ ہدایت دی کہ تم اپنے حالات کے اعتبار سے اس کامیاب طریقہ کار کو اختیار کرو۔
پیغمبر اسلام کو قرآن میں جو حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک حکمت وہ ہے جو پیغمبر یوسف کے حوالے سے قرآن میں آئی ہے۔ اس طریقہ کار کا خلاصہ تھا: اتھارٹی کے ساتھ ٹکراؤ نہ کرنا، اور موجود مواقع کو پرامن انداز میں استعمال کرنا۔ پیغمبر یوسف کنعان میں پیدا ہوئے، جو اب الخلیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ، بقول اغلب، 1800 تا 1910 قبل مسیح کا ہے۔
ان کے ساتھ کچھ خاندانی اسباب پیدا ہوئے، اور وہ فلسطین سے نکل کر مصر پہنچ گئے۔ اس زمانے کا مصر کا بادشاہ ان سے متاثر ہوا، اور اس نے آپ کو اپنی سلطنت میں پورے ملک کی زراعت کا انچارج بنا دیا۔ پیغمبر یوسف ایک گاؤں سے نکل کر مصر پہنچے تھے۔ ان کو یہ غیر معمولی کامیابی کیسے حاصل ہوئی؟
اس کا راز یہ تھا کہ انہوں نے مصر میں اس وقت کے بادشاہ سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ ایسا طریقہ اختیار کیا جس کو "political adjustment" کہا جا سکتا ہے۔ وہ political adjustment یہ تھا کہ پیغمبر یوسف اس پر راضی ہو گئے کہ حکومت کے تخت پر مشرک بادشاہ بدستور قائم رہے، لیکن ملک کے خزائن یعنی زرعی نظام پیغمبر یوسف کے ہاتھ میں ہو۔ یہ قصہ قرآن اور بائبل دونوں میں آیا ہے۔ بائبل پیدائش باب 41، ورس 40 میں اس کا ذکر ان الفاظ میں ہے: "سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی؛ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگتر ہوں گا۔
" Only as regards the throne will I be greater than you. جینیسس باب 41، ورس 40۔ پیغمبر یوسف کے قصے کو قرآن میں احسن القصص یعنی بہترین طریقہ کار یعنی best method قرار دیا گیا ہے۔ یہ بہترین طریقہ کار کیا تھا جس نے پیغمبر یوسف کو قدیم مصر میں اعلیٰ مواقع عطا کر دیے؟
وہ طریقہ کار ایک لفظ میں یہ تھا: سیاسی اقتدار کے ساتھ political opposition کے بجائے political adjustment کا طریقہ اختیار کرنا۔ یہ طریقہ جو پیغمبر یوسف نے اختیار کیا، وہ قدیم زمانے میں بھی سب سے زیادہ کامیاب طریقہ تھا، اور موجودہ زمانے میں بھی وہ سب سے زیادہ کامیاب طریقہ ہے۔ حضرت یوسف کے زمانے میں یہ طریقہ کار مصر کے ایک بادشاہ کے ذاتی ذوق کی بنا پر ممکن ہوا تھا۔ موجودہ زمانے میں انسانی تاریخ ایک نئے دور میں پہنچ چکی ہے۔
اب جدید دور کے مسلمہ اصول یعنی accepted norm کے تحت یہ ممکن ہو گیا ہے کہ احسن القصص کا اعادہ زیادہ وسیع پیمانے پر کیا جائے، اور دعوت کو احسن القصص کے اصول پر منظم کر کے عالمی کامیابی حاصل کی جائے۔ الرسالہ ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 37۔