موافقِ اسلام انقلاب یہ سائنسی انقلاب، یعنی Scientific Revolution، پورے معنوں میں ایک موافقِ اسلام انقلاب تھا۔ اس انقلاب کے ذریعے اللہ کی وہ رحمتیں انسان پر کھلیں جن کو قرآن میں آیات اللہ، کلمات اللہ، اعلیٰ اللہ جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہی وہ موافقِ اسلام انقلاب ہے جس کو مختلف حدیثوں میں تائیدِ دین بذریعہ غیر مسلم اقوام کہا گیا ہے۔ مسند احمد میں یہ بات ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّهَ سَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ مسند احمد، حدیث نمبر 20454۔
یعنی یقیناً اللہ اس دین کی مدد اس قوم کے ذریعے کرے گا جن کا اس دین میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ تہذیبِ جدید، یعنی ماڈرن سویلائزیشن کا یہ انقلاب، مختلف پہلوؤں سے بلاشبہ ایک موافقِ اسلام انقلاب، یعنی Pro-Islamic Revolution تھا۔ لیکن مسلم رہنما اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے؛ وہ مغربی تہذیب اور مغربی کلچر، اسی طرح مغربی کلونیلزم کے درمیان فرق نہ کر سکے۔ اور مغربی تہذیب کی اصل حیثیت کو دریافت نہ کر سکے۔
اس لیے موجودہ دور کے مسلم رہنما غیر ضروری طور پر ویسٹوفوبیا کا شکار ہو گئے؛ وہ مغرب کے خلاف نفرت اور تشدد میں مبتلا ہو گئے۔ جو چیز حدیث کے الفاظ میں تائیدِ دین کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو انہوں نے برعکس طور پر دشمنی اور سازش وغیرہ سمجھ لیا۔ بدقسمتی سے ویسٹوفوبیا کی یہ حالت مسلم دنیا میں ابھی تک جاری ہے، مگر یہ سوچ قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 29۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.