ایک مثال: "پانی زمین پر زندگی کے لیے نہایت اہم ہے" اس کو قرآن میں اشاراتی طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكَةً سورہ نمبر 50 آیت نمبر 9۔ یعنی "ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا"۔ سائنسی مطالعے کے ذریعے اس کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ یہ ہیں: تقریباً 13. 8 بلین سال پہلے سولر سسٹم وجود میں آیا، اس وقت زمین کے اوپر صرف گیس تھی، پھر گیس کے ذریعے پانی بنا، پانی کا فارمولا H20 ہے، یعنی ابتدائی زمانے میں ایسے مالیکیول بنے جس میں ہائیڈروجن کے 2 ایٹم ہوتے تھے اور آکسیجن کا 1 ایٹم، اس طرح زمین کے اوپر پانی وجود میں آیا۔
پھر یہ پانی بڑے پیمانے پر سمندر کی گہرائیوں میں جمع ہو گیا۔ ابتدا میں نیچر نے اس پانی میں حفاظت یعنی پریزرویشن کے طور پر نمک یعنی سالٹ شامل کیا۔ یہ نمک آمیز پانی براہ راست طور پر انسان کے لیے قابلِ استعمال نہ تھا۔ پھر زمین کے اوپر سورج کی حرارت اور پانی کے تعامل سے حیرت انگیز طور پر بارش کا انتظام ہوا۔
فطری طور پر نمک کا وزن زیادہ تھا اور پانی کا وزن کم، چنانچہ پانی جب سورج کی حرارت سے بھاپ بنا تو فطری قانون کے تحت نمک الگ ہو گیا اور پانی الگ۔ پھر یہ ڈی سالینیٹڈ واٹر ہلکا ہونے کی بنا پر فضا میں بلند ہوا، اور پھر آخر کار وہ فطرت کے قانون کے مطابق پانی بارش بن کر زمین پر برسا۔ اس پانی نے زمین کو سیراب کیا اور چشموں اور دریاؤں کی صورت میں محفوظ ہو گیا۔ فطرت کے نظام کے تحت یہ ایک سائیکل ہے جو مسلسل طور پر جاری ہے۔
پانی کا یہی نظام ہے جس نے زمین کو انسان کے لیے حیات بخش سیارہ بنا کر رکھا ہے۔ اگر یہ نظام نہ ہو تو انسان زمین کے اوپر زندہ سماج نہ بنا سکے۔ زمین پر تہذیب کی تشکیل پانی کے بغیر ناممکن ہو جائے۔ اس پورے عمل پر غور کیا جائے تو اس میں حکمت کے اتنے زیادہ پہلو ہیں جو انسان کے لیے مائنڈ باگلنگ ظاہرہ یعنی مائنڈ باگلنگ فینامینا کی حیثیت رکھتے ہیں۔
قدیم زمانے کا انسان ان حقیقتوں سے بے خبر تھا، مگر اب سائنسی مطالعے کے ذریعے یہ حقیقتیں انسان کے علم میں آ گئی ہیں۔ ان حقیقتوں کو جاننا انسان کے عطا خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.