Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Science aur Islam.

Urdu · 3 min

سائنس اور اسلام: قرآن میں ایک دعوتی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ، وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ». سورہ نمبر 61، آیت 8۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ قرآن کی اس آیت میں "نور" یعنی روشنی سے مراد حق کے دلائل ہیں، یعنی ہر زمانے کے انسان جس چیز کو دلیل کا درجہ دیتے تھے، اس استدلالی زبان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو انبیاء کے ذریعے مدلل فرمایا، تاکہ ہر زمانے کے انسان پر حق کی حجت قائم ہو سکے۔

یہی واقعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر لوگوں کے ساتھ پیش آیا، لیکن رسول اللہ کی نبوت قیامت تک کے لیے ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ انتظام فرمایا تاکہ بعد کے لوگوں کے ذہن کے مطابق اللہ کا دین مدلل ہو سکے۔ اتمام نور سے مراد یہ ہے کہ ہر زمانے کے انسان کے عقلی تقاضے کے مطابق دین کا مدلل کیا جانا۔ اس اعتبار سے آخری زمانہ غالباً وہ زمانہ ہے جس کو سائنس کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی استدلال کو اعلیٰ استدلال مانا جاتا ہے، اس لیے انسان کی نسبت سے اتمام نور یہ ہوگا کہ سائنسی دور کے عقلی تقاضے کے مطابق دینِ حق کو مدلل کیا جائے۔

یہی وہ بات ہے جو حدیث رسول میں اس طرح بیان کی گئی ہے: «مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ». صحیح مسلم، حدیث نمبر 152۔ یعنی ہر نبی کو وہ نشانیاں دی گئیں جن کے مثل پر، یعنی ان کے زمانے کے لوگ ایمان رکھتے تھے۔ اور مجھ کو جو چیز دی گئی ہے، وہ وحی ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجا ہے۔

میں امید رکھتا ہوں کہ میرے متبعین قیامت کے دن سب سے زیادہ ہوں گے۔ اس کی شرح میں احمد بن محمد القسطلانی نے یہ بات بیان کی ہے: «وَهُوَ الْقُرْآنُ فَإِنَّهُ يَشْتَمِلُ عَلَى الدَّعْوَةِ وَالْحُجَّةِ وَيُنْتَفَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». ارشاد الساری، جلد 7، صفحہ 444۔ یعنی مجھے جو دیا گیا وہ قرآن ہے، کیونکہ وہ دعوت اور حجت پر مشتمل ہے، اور ان سے قیامت تک فائدہ اٹھایا جائے گا۔

فَهِيَ تُشَاهَدُ بِعَيْنِ الْعَقْلِ کشف المشکل لابن الجوزی، جلد 3، صفحہ 412۔ یعنی اس کا مشاہدہ عقل کی آنکھ سے کیا جاتا ہے۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 27۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.