Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Taqleeq,Tahzeeb.

Urdu · 3 min

تخلیق، تہذیب۔ مادی دنیا کی ہر چیز میں ایک پہلو تخلیق کا ہے اور دوسرا پہلو تہذیب کا۔ مثلاً لوہا، یعنی آئرن، خدا کی ایک تخلیق ہے۔ مگر انسان جب لوہا اور ربر سے پہیہ، یعنی ویل، بناتا ہے تو یہ انسانی تہذیب کا ایک واقعہ ہوتا ہے۔

لوہا اور ربر اگر خالق کی یاد دلاتا ہے تو پہیہ انسان کی یاد دلاتا ہے، جس نے اپنی عقل کو استعمال کر کے پہیہ بنایا۔ ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: "من لم يشكر الناس لم يشكر الله" سنن الترمذی، حدیث نمبر 1955۔ یعنی جس نے انسان کا شکر ادا نہیں کیا، وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا۔ اگر آدمی کے اندر صحیح سوچ ہو تو ایک چیز کو دیکھ کر وہ پوری انسانی تاریخ کو یاد کرے گا۔

مثلاً آج وہ ایک پہیے دار گاڑی کو استعمال کرے گا تو وہ سوچے گا کہ اس انسان کا تاریخ میں کتنا بڑا کنٹریبیوشن ہے کہ جس نے اپنی عقل کو استعمال کر کے پہیہ جیسی چیز کو ایجاد کیا۔ اس کے بعد انسان نے پہیے دار بیل گاڑی بنائی۔ اس کے بعد غور و فکر کر کے پہیے دار کشتی، یعنی ویل بوٹ بنائی۔ اس کے بعد مزید غور و فکر کے ذریعے انسان نے پہیے دار بائیسکل بنائی۔

پھر اس نے پہیے دار ریل بنائی۔ پھر اس نے پہیے دار موٹر کار بنائی۔ پھر اس نے پہیے دار ہوائی جہاز بنایا۔ اسی فہرست میں وہ ویل چیئر ہے جس نے کمزور انسان کے لیے چلنے کو آسان بنا دیا، وغیرہ۔

یہی معاملہ پوری انسانی تہذیب، یعنی ہیومن سولائزیشن کا ہے۔ آدمی اگر اس طرح سوچے تو پورا انسانی قافلہ اس کو اپنا محسن نظر آئے گا۔ اس کو محسوس ہوگا کہ پوری انسانیت ساری تاریخ میں سرگرم رہی ہے تاکہ وہ ان تمام چیزوں کو بنائے جس نے آج میری زندگی کو بہت آسان کر دیا ہے۔ یہ سوچ اگر گہرائی کے ساتھ آدمی کے اندر آ جائے تو وہ ایک طرف خالق کی عظمت میں سرشار ہو جائے گا، وہ سوچے گا کہ خالق کتنا عظیم ہے جس نے میرے لیے یہ تمام چیزیں تخلیق کیں۔

اسی کے ساتھ وہ انسانوں کے بارے میں بہت زیادہ اعتراف، یعنی شکر کرنے والا بن جائے گا۔ جس نے تخلیق کو تہذیب میں کنورٹ کیا۔ یہ سوچ آدمی کے لیے شکر خداوندی کا سرچشمہ ہے، اور اسی کے ساتھ محبت انسانی کا سرچشمہ بھی۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 26۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.