← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Tareeq ke do bade advaar.
Urdu · 7 min
تاریخ کے دو بڑے ادوار انسانی تاریخ کے دو بڑے دور ہیں: ایک "سائنسی انقلاب" سے پہلے کا دور اور دوسرا "سائنسی انقلاب" کے بعد کا دور۔ وہ دور جس کو "سائنسی دور" کہا جاتا ہے، وہ اٹلی کے سائنسدان گیلی لیو گیلیلی 1564 تا 1642 کے بعد شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ قبلِ سائنس دور میں استدلال کی بنیاد عقلِ عام یعنی common sense ہوا کرتی تھی۔ بعد از سائنس دور میں استدلال کی بنیاد reason ہو گئی۔
قدیم زمانے میں عقلِ عام استدلال کے لیے کافی ہوا کرتی تھی، لیکن اب سائنسی طور پر مسلمہ reason یعنی accepted reason استدلال کے واحد بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ رب العالمین کو معلوم تھا کہ تاریخ میں یہ انقلاب آنے والا ہے، اس لیے اللہ نے یہ انتظام کیا کہ قبل از سائنس دور میں عقلِ عام کی بنیاد پر دینِ خداوندی کی بات کو مدلل کیا جائے۔ لیکن سائنسی دور آنے کے بعد فطری طور پر اللہ کی منشا یہ ہوئی کہ اللہ کے دین کو وقت کی مسلمہ دلیل یعنی سائنسی دلیل کی بنیاد پر پیش کیا جائے، تاکہ انسان پر اللہ کی حجت قائم ہو سکے۔ ایک اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دورِ آخر میں جو داعی لوگوں کے سامنے دینِ خداوندی کو پیش کرے گا، وہ حجيج صحیح مسلم حدیث نمبر 2937 ہوگا۔
حجيج کا مطلب بذریعہ دلیل کلام کرنے والا، یعنی وہ شخص جو عقلی دلیل یعنی rational argument کے ذریعے اپنی بات پیش کرے۔ شہادتِ اعظم کے دور میں شاہد یعنی گواہ کی یہی صفت ہوگی۔ وہ مسلمہ دلیل یعنی accepted reason کی زبان میں لوگوں کے سامنے دینِ خداوندی کو پیش کرے گا۔ یہ سادہ بات نہ تھی؛ یہ بنائے استدلال میں تبدیلی کا معاملہ تھا۔
اس کے لیے ضرورت تھی کہ علم کی دنیا میں ایک نیا انقلاب لایا جائے: عقلِ عام پر مبنی استدلال کو عقلی دلائل کے ذریعے استدلال پر قائم کیا جائے، قیاسی استدلال کی جگہ سائنسی طور پر ثابت شدہ استدلال مسلمہ استدلال کا درجہ دیا جائے۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً اللہ رب العالمین کا منصوبہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت پوری طرح حفاظتِ دین کے کام میں مشغول ہو جائے، کیونکہ آپ کے بعد کوئی پیغمبر آنے والا نہیں تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی نمائندگی کرنے کے لیے مکمل معنوں میں ایک محفوظ دین باقی رہے۔ امت محمدی نے اپنی کئی سال کی غیر معمولی کوششوں کے ذریعے دینِ اسلام کو مکمل طور پر ایک محفوظ دین بنا دیا۔
امت محمدی کا یہ رول پندرہویں صدی عیسوی تک پوری طرح جاری رہا، جبکہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آ گیا۔ اب دین کی حفاظت کے لیے مشین نے انسانی کوششوں کی جگہ لے لی۔ اب وہ وقت آ گیا تھا جب کہ خدا کے دین کو انسان کے اپنے مسلمات کی بنیاد پر ثابت شدہ بنایا جائے۔ یہ ایک بہت بڑا کام تھا۔
اس کام کے لیے ایک تازہ دم قوم یعنی fresh nation کی ضرورت تھی۔ حدیث میں اس قوم کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ "اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اس دین میں سے نہ ہوں گے"۔ المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں "رجال" سے مراد ایسا گروہ ہے کہ اس حدیث میں رجال سے مراد ایسا گروہ ہے جو کہ بعد کے زمانے میں دینِ اسلام کے لیے عقلی تائید یعنی rational support کا کام کرے گا۔
یعنی ان کے ذریعے اہلِ اسلام کو یہ موقع ملے گا کہ وہ دینِ خداوندی کی دعوت کا کام سائنسی طور پر ثابت شدہ عقلی دلیل کی بنیاد یعنی rational basis پر انجام دے سکیں۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تائیدی گروہ مغرب کے مسیحی لوگوں کا گروہ ہے۔ نشأتِ ثانیہ یعنی رینیسانس کے بعد مغرب کی قوموں نے غیر معمولی کوشش کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا دور پیدا کیا، جس کو سائنسی دور یعنی scientific age کہا جاتا ہے۔ سائنسی دور اگرچہ زیادہ تر مسیحی قوموں کی کوشش سے وجود میں آیا، لیکن پورے معنوں میں یہ موافقِ اسلام دور ہے۔
یہ امت کو اپنے دین کے لیے وہی تائید فراہم کرتا ہے جس کو اوپر حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے بعد کے زمانے میں پیش آنے والی اس شہادتِ اعظم کا ذکر خود قرآن میں بھی آیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: سَنُرِّيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ سورہ نمبر 41، آیت 53۔ یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر پوری طرح ظاہر ہو جائے کہ یہ حق ہے۔
قرآن کی اس آیت میں جس چیز کو آفاق اور انفس کی آیات یعنی signs کہا گیا ہے، وہ موجودہ کائنات میں کثرت سے پھیلی ہوئی ہے، مگر قرآن میں اس کا ذکر اشارات کی زبان میں ہے۔ ان اشارات کو actual بنانے کا کام موجودہ زمانے میں انجام پایا ہے۔ یہ کام زیادہ تر مغرب کی مسیحی قوموں نے انجام دیا ہے۔ ایک ایسی بات ہے جس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ شہادتِ اعظم کی ادائیگی کا کام اگرچہ عملاً امت محمدی کے لوگ انجام دیں گے، لیکن اس کام کی انجام دہی کے لیے تائیدی اسباب بلاشبہ مغرب کی مسیحی قوموں نے فراہم کیے ہیں۔ گویا کہ شہادتِ اعظم کے کام میں ملت محمدی کا رول، شاہد کا رول ہے، اور مسیحی اقوام کا رول، مؤید کا رول ہے۔ تائید کا یہ ظاہرہ بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ خالق نے ہماری زمین یعنی planet Earth کو بے شمار ٹیکنالوجی سے بھر دیا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی قوانینِ فطرت کی صورت میں ہمیشہ سے موجود تھی، لیکن اب تک وہ مخفی قوانین یعنی hidden laws کی صورت میں غیر دریافت حالت میں پڑی ہوئی تھی۔ صلیبی جنگوں کی شکست سے یورپ کی مسیحی قوموں کے لیے ایک جبر یعنی compulsion پیدا ہوا۔ انہوں نے حالات کے دباؤ کے تحت اپنی ساری طاقت فطرت کے قوانین کو دریافت کرنے میں لگا دی۔ یہ عمل اٹلی کے سائنسدان گیلی لیو گیلیلی 1564 تا 1642 کے زمانے میں شروع ہوا اور تقریباً 400 سال تک جاری رہا۔
اس دوران بے شمار فطری قوانین دریافت ہوئے، یہاں تک کہ دنیا میں وہ عظیم انقلاب پیدا ہوا جس کو جدید تہذیب یعنی modern civilization کہا جاتا ہے۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 23۔