Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Shahadat-e-Aazam.

Urdu · 1 min

شہادتِ اعظم اس تاریخِ عمل کا غالباً آخری دور وہ ہے جو تقدیرِ الہی کے تحت غالباً 21ویں صدی میں پیش آنے والا ہے۔ اس عمل کو قرآن میں "گلوبل انذار الفرقان" سورہ نمبر 25 آیت 1 اور حدیث میں "شہادتِ اعظم" صحیح مسلم حدیث نمبر 2938 کا نام دیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں بتایا ہے کہ انسانی تاریخ کے آخری زمانے میں ایک واقعہ پیش آئے گا، یعنی شہادتِ اعظم کا واقعہ۔ شہادتِ اعظم کا مطلب ہے سب سے بڑی گواہی، یعنی the greatest witness۔

گواہی کا مطلب ہے زمین پر پیدا ہونے والے انسانوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبہ، یعنی creation plan of God سے واقف کرانا، تاکہ انسان دنیا میں خالق کے scheme of things سے باخبر ہو کر زندگی گزارے۔ اس کام کو قرآن میں "انذار" کہا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے ہر دور میں انذار کا یہ کام مسلسل طور پر جاری رہا، کبھی پیغمبروں کے ذریعے اور کبھی ان مصلحین کے ذریعے جنہوں نے پیغمبر کی نیابت میں انذار کے اس کام کو انجام دیا۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 22۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.