Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Inzaar bazaria-e-Taeed.

Urdu · 3 min

انذار بذریعہ تائید: قرآن خدا کے دین کا واحد مستند ماخذ، یعنی authentic source ہے۔ خدا کے دین کے لیے یہ مطلوب ہے کہ وہ سارے عالم میں پھیلے۔ پھیلنے کا یہ عمل دو طریقوں سے جاری ہوتا ہے: انذار اور تائید۔ پہلے طریقے کا ذکر قرآن میں آیا ہے، اور دوسرا طریقہ حدیثِ رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔

پہلا طریقہ قرآن میں ان الفاظ میں مذکور ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا سورہ نمبر 25، آیت 1۔ یعنی: "بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا، تاکہ وہ جہاں والوں کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔ " دین کی اشاعت کے اس عمل کو قرآن میں "انذار" کا عنوان دیا گیا ہے۔ انذار کا مطلب ہوتا ہے آگاہ کرنا، باخبر کرنا۔

عربی زبان کے مشہور عالم ابنِ فارس، وفات 395 ہجری، نے انذار کا مطلب "ابلاغ" بتایا ہے۔ (معجم مقایس اللغة، جلد 5، صفحہ 414) یعنی خدا کے منصوبۂ تخلیق سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ عمل بہت زیادہ سنجیدہ عمل ہے۔ وہ پوری انسانی تاریخ میں مختلف تدبیروں کے ذریعے جاری رہتا ہے۔

انذار کا یہ عمل اتنا اہم ہے کہ اللہ نے اس کے لیے مقدر کر دیا کہ وہ اہلِ ایمان کے علاوہ غیر اہلِ ایمان کے ذریعے بھی دنیا میں پھیلے۔ تائید کے اس عمل میں غیر اہلِ دین اور فاجر، یعنی برے لوگ بھی شریک ہوں۔ اس تائیدی عمل کا ذکر حدیث کی اکثر کتابوں میں آیا ہے۔ مثلاً: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ.

(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) اس معنی کی حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062۔ ان دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی تائید کا کام ان لوگوں سے لے گا جو اہلِ دین نہ ہوں گے۔ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اس معاملے میں اہلِ ایمان کو اتنا زیادہ باشعور ہونا چاہیے کہ وہ تاریخ میں تائید کے اس عمل کو پہچانیں، اور منصوبہ بند انداز میں تائید کے مواقع کو قرآن کی عالمی اشاعت کے لیے استعمال کریں۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 22۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.