Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Political Model.

Urdu · 3 min

پولیٹیکل ماڈل قرآن و حدیث نیز اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام میں پولیٹکس کا کوئی ایک متعین معیاری ماڈل نہیں۔ اسلام کی طویل تاریخ میں کوئی واحد عملی ماڈل نہیں ملتا جس کو ہر دور کے لیے ایک اسٹینڈرڈ ماڈل سمجھا جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پولیٹکس کے معاملے میں اسلام کا اصول تمکین یعنی اسٹیبلٹی پر مبنی ہے، نہ کہ کسی ایک معیاری ڈھانچے پر۔ مثلاً اسلام میں کوئی ایسی نس موجود نہیں جس سے معلوم ہو کہ اسلام کا پولیٹیکل ماڈل خلافت پر مبنی ہے، یا حکومتِ الٰہیہ پر مبنی ہے، یا اجتماعی عدل پر مبنی ہے، یا شورائیت پر مبنی ہے، یا اور کسی ماڈل پر مبنی ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا پولیٹیکل ماڈل پریکٹیکل وزڈم پر مبنی ہے، نہ کہ کسی ایک آئیڈیل پر۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سیاست کے معاملے میں اصل چیز تمکین الحج سورہ نمبر 22 آیت 41 ہے، یعنی سیاسی استحکام، یعنی پولیٹیکل اسٹیبلٹی۔ کیونکہ اگر پولیٹیکل استحکام آ جائے تو اسلام کا اصل مطلوب حاصل ہو جاتا ہے۔ اگر امن قائم ہو جائے تو اہلِ ایمان کے لیے یہ آسانی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ مواقع، یعنی opportunities، کو بھرپور طور پر استعمال کر سکیں۔

وہ تعلیم اور دعوت جیسے مثبت مقاصد کی منصوبہ بندی کسی رکاوٹ کے بغیر انجام دے سکیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرِ اسلام کی وفات کے تقریباً 30 سال بعد مسلم دنیا میں عملاً شخصی حکومت قائم ہو گئی، جس کو ڈائنسٹی کہا جاتا ہے۔ اس حکومت کو اگرچہ بعض لوگوں نے یہ نام دیا کہ وہ خلافت کو منسوخ کر کے ملوکیت کو قائم کرنا تھا، مگر جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، علمائے امت نے اجتماعی طور پر اس کو قبول کر لیا اور وہ تقریباً 1000 سال تک پوری مسلم دنیا میں جاری رہا۔ اس نظام کے خلاف بغاوت، یعنی revolt، کا کوئی قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔

اس کا سبب یہ تھا کہ اس طرزِ حکومت نے مسلم دنیا میں پولیٹیکل استحکام قائم کر دیا، جس کے تحت اسلام کے تمام مطلوب کام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پائے۔ مثلاً قرآن کی حفاظت، حدیث کی جمع و تدوین، فقہ کی تشکیل، مسجد اور مدرسہ اور حج کا نظام، عربی زبان کی فنی تشکیل، سیرت اور تاریخ جیسے موضوعات پر کتب خانے کی ترتیب و تشکیل، اور اس طرح کے دوسرے عملی تقاضوں کی تکمیل، وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام کام صرف سیاسی استحکام کے حالات میں انجام پا سکتے تھے۔ چونکہ اس نظام کے تحت یہ مقصد حاصل ہوا، اس لیے عملاً پوری امت نے اس کو قبول کر لیا۔

الرسالہ ستمبر 2020 مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 19۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.