Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Rasool aur Ashab-e-rasool.

Urdu · 8 min

رسول اور اصحابِ رسول، اس منصوبے کے تحت وہ انوکھی ٹیم تیار ہوئی جو مطلوب انقلاب کے لیے پوری طرح اہل تھی۔ اس پروسیس کی تکمیل پر 570 عیسوی میں خالق نے اس نسل میں پیغمبر محمد ابن عبداللہ کو قدیم مکے میں پیدا کیا۔ انہوں نے ایک اعلیٰ پلاننگ کے تحت اس علاقے میں توحید کا مشن چلایا۔ اس مشن کے ذریعے وہ خصوصی نسل پیدا ہوئی جس کو بنی بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔

پھر اس نسل کے اندر ایک حکیمانہ عمل کے ذریعے صحابہ کی جماعت پیدا ہوئی۔ آپ نے ایک منظم جدوجہد کے ذریعے وہ مطلوب ٹیم تیار کی۔ اسی مطلوب ٹیم کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ سورہ ابراہیم، سورہ نمبر 14، آیت 37۔

یہ مطلوب ٹیم بلاشبہ ایک تیار ٹیم تھی۔ اس کا مشن یہ تھا کہ قدیم زمانے سے جاری بادشاہت کے نظام کو توڑ دے، اور اس طرح انسانی تاریخ میں تیسرے دور یعنی تھرڈ فیز کا دروازہ کھلے۔ اس جماعت کو ایک حکیمانہ منصوبے کے ذریعے مشن کے لیے استعمال کیا گیا، یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں دورِ شرک کا خاتمہ ہوا اور تاریخ میں دورِ توحید کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر اللہ رب العالمین نے مداخلت کی۔

اس وقت وہ حالات پیدا ہوئے جبکہ اصحابِ رسول کی ٹیم کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنے وقت کے نظامِ بادشاہت کو توڑ کر نئے تاریخی دور کا آغاز کریں۔ اس واقعے کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: أَلِفْ لَامْ مِيمْ غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ سورہ نمبر 30، آیت 1 تا 5۔ یعنی رومی پاس کے علاقے میں مغلوب ہو گئے، اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔ چند برسوں میں اللہ ہی کے ہاتھ میں سب کام ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔

اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے، اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہ زبردست ہے، رحمت والا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ظہورِ اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں: ایک مسیحی رومی سلطنت اور دوسرا مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کشمکش جاری رہتی تھی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 عیسوی کا واقعہ ہے۔ اس وقت ایسے اسباب پیش آئے کہ دونوں عظیم سلطنتوں میں سخت ٹکراؤ ہوا، جس سے یہ دونوں سلطنتیں بے حد کمزور ہو گئیں۔ یعنی بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی، یہاں تک کہ 616 عیسوی تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضے میں چلا گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو 610 عیسوی میں نبوت ملی۔ اس کے بعد آپ نے مکے میں دعوتِ توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جبکہ مکے میں توحید اور شرک کی کشمکش جاری تھی۔ مکے کے مشرکین نے سرحدی واقعے سے نیک فعال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں یعنی مجوس نے تمہارے اہلِ کتاب بھائیوں یعنی مسیحی کو شکست دی ہے، اسی طرح ہم بھی تمہارا خاتمہ کر دیں گے۔

اس وقت قرآن میں حالات کے سراسر خلاف یہ پیشن گوئی اتری کہ 10 سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آ جائیں گے۔ رومی مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ ہرقل میں پراسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی، یہاں تک کہ 623 عیسوی میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔ 624 عیسوی میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کر لی۔ 627 عیسوی تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے لیے۔

قرآن کی پیشن گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس دو طرفہ جنگ میں دونوں سلطنتیں انتہائی حد تک کمزور ہو گئیں۔ پہلے ساسانیوں نے رومیوں پر فتح حاصل کر کے ان کو کمزور کیا۔ اس کے بعد رومیوں نے ساسانیوں پر فتح حاصل کر کے انہیں بے حد کمزور کر دیا۔

اس طرح باری باری ایک نے دوسرے کو کمزور کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ اور تابعین کو یہ موقع ملا کہ وہ اس طرح جبری بادشاہت کے نظام کو با آسانی توڑ دیں۔ چنانچہ خلیفہ اول ابوبکر اور خلیفہ ثانی عمر کے زمانے میں جب مسلم فوجیں ساسانیوں اور رومیوں کے علاقے میں داخل ہوئیں تو انہوں نے نہایت آسانی کے ساتھ دونوں سلطنتوں کے اوپر فتح حاصل کر لی۔ ساسانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔

یہ خاتمہ صرف دو سیاسی طاقتوں کا خاتمہ نہ تھا، بلکہ اسی کے ساتھ شرک کا خاتمہ بھی تھا۔ کیونکہ یہ سلطنتیں اس زمانے میں مذہبی جبر کی سرپرست بنی ہوئی تھیں۔ اس طرح ساتویں صدی اور آٹھویں صدی میں پوری دنیا کا سیاسی اور تہذیبی نقشہ بدل گیا۔ اور پھر ایک تاریخی عمل کے ذریعے وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کا اعتراف فرانسیسی مؤرخ ہنری پرین نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ اسلام نے زمین کا نقشہ بدل دیا، تاریخ کے روایتی نظام کو ختم کر دیا گیا۔

اسلام چینجڈ فیس اف دا گلوب the traditional order of history was overthrown ہنری پرین اے ہسٹری اف یورپ، لندن، 1958، پیج 46۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جن علاقوں میں مشرک بادشاہ حکومت کرتے تھے، وہاں موحد حکمران حکومت کرنے لگے۔ اس وقت عملاً پوری دنیا میں مسلم ایمپائر کا غلبہ قائم ہو گیا۔ اموی ایمپائر، عباسی ایمپائر، اسپینی ایمپائر، مغل ایمپائر، عثمانی ایمپائر وغیرہ۔

اسی کے ساتھ بڑی تعداد میں چھوٹی چھوٹی سلطنتیں ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں قائم ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں ہر جگہ توحید کا چرچا ہونے لگا۔ لوگ بڑی تعداد میں شرک کو چھوڑ کر دین توحید میں داخل ہونے لگے۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری اف انڈیا میں لکھا ہے کہ اس زمانے کے رواج کے مطابق عام طور پر انفرادی تبدیلی مذہب نہیں ہوتی تھی، بلکہ لوگ عام طور پر پبلک کنورژن کے اصول پر دین توحید میں داخل ہوتے تھے۔

تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو برٹش مؤرخ پروفیسر ارنلڈ یعنی ٹی ڈبلیو ارنلڈ کی کتاب دی پریچنگ اف اسلام الرسالہ ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 16۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.