اہلِ ایمان کا رول مسلم دور میں یہ ہوا کہ ساری دنیا میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دینِ شرک کے بجائے دینِ توحید کا چرچا ہونے لگا۔ پہلے اگر دنیا میں شرک اور اہلِ شرک کو وقت کے بادشاہوں کی سرپرستی حاصل تھی، تو اب توحید اور اہلِ توحید کو حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہونے لگی۔ اس طرح اصولی طور پر یہ ہوا کہ ہر جگہ دینِ شرک کا غلبہ تقریباً ختم ہو گیا، اور دینِ توحید کا غلبہ عام طور پر قائم ہو گیا۔ پہلے اگر مظاہرِ فطرت یعنی نیچر کو خدائی کا درجہ حاصل تھا، تو اب فطرت کے خالق کو خدائی کا درجہ حاصل ہو گیا۔
تاہم یہ اصل کام کا نصف حصہ تھا؛ فطرت یعنی نیچر کی اعتقادی بالادستی ختم ہو گئی۔ لیکن اس کام کا دوسرا پہلو ابھی باقی تھا، یعنی فطرت یعنی نیچر کے قوانین کو دریافت کر کے ان کو ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنا۔ مسلم عہد میں یہ ہوا کہ فطرت یعنی نیچر پرستش کا موضوع، یعنی آبجیکٹ آف ورشپ، نہ رہی۔ اب دوسرا کام یہ تھا کہ فطرت کو تحقیق کا موضوع، یعنی آبجیکٹ آف ان انویسٹیگیشن، بنایا جائے۔
فطرت میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کر کے دنیا میں ٹیکنالوجی کا دور لایا جائے، جو اپنی تکمیل تک پہنچ کر جدید تہذیب کا موجد بنے۔ یہ دوسرا کام یورپ کے مسیحی علماء نے انجام دیا۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 20۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.