Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Tufaan-e-Nooh.

Urdu · 4 min

طوفان نوح: اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کر کے زمین پر بسایا، یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان کی آباد کاری ابتدائی دور میں دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان عراق کے اس علاقے میں ہوئی جس کو میسوپوٹیمیا کہا جاتا ہے۔ یہ ایک زرخیز علاقہ تھا، یہاں توالد و تناسل کے ذریعے انسان کی نسل بڑھتی رہی۔ اس علاقے میں انسان لمبے عرصے تک اپنی آزادانہ سرگرمیوں میں مشغول رہا۔ شروع میں لوگ آدم کی شریعت پر تھے، لیکن کئی نسل گزرنے کے بعد ان کے اندر جمود یعنی stagnation آ گیا۔

ان کے اندر ضعیف الاعتقادی اور بدعملی پیدا ہو گئی۔ ان کی بیداری کے لیے پیغمبر نوح آئے، یہ گویا کہ پرامن تبلیغ کے ذریعے ان کے اندر بیداری لانے کی کوشش تھی۔ لیکن لمبی مدت کی پرامن اصلاحی کوششوں کے باوجود ان کے اندر دوبارہ بیداری نہیں آئی۔ اب ان کے اندر نئی زندگی لانے کے لیے harsh treatment کا طریقہ اختیار کیا گیا۔

قوم نوح کے علاقے میں ایک عظیم طوفان یعنی great flood آیا۔ اس وقت اپنی قوم کے منتخب افراد کو پیغمبر نوح نے ایک کشتی میں بٹھایا اور اس کشتی کو تیز طوفان میں ڈال دیا۔ قوم نوح کے یہ منتخب افراد ایک مدت تک کشتی میں تیرتے رہے، یہاں تک کہ کشتی تیرتے ہوئے جودی پہاڑ پر رکی۔ الجودی کوہستان ارارات کی اس چوٹی کا نام ہے جو جبل وام کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔

اس قرب و جوار میں کردوں کی زبان پر آج تک یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ کشتی کشتی نوح یہیں آ کر رکی تھی۔ تفسیر ماجدی، سورہ ہود، حاشیہ 68۔ اس طوفان کا حوالہ قرآن کی سورہ ہود، سورہ نمبر 11، آیت 25 تا 49 میں موجود ہے۔ کشتی کے ذریعے حفاظت کا یہ مخصوص طریقہ کیوں اختیار کیا گیا؟

اس کا مقصد اولاد آدم کو میسوپوٹیمیا سے منتشر یعنی disperse کر کے مختلف ملکوں میں پہنچانا تھا۔ چنانچہ یہ لوگ میسوپوٹیمیا سے کشتی پر سوار ہو کر نکلے اور دھیرے دھیرے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ بعد کو انسانوں کا ایک گروہ سمندر پار کر کے امریکہ پہنچا اور نئی دنیا آباد ہوئی۔ قوم نوح کے ساتھ یہ جو معاملہ پیش آیا وہ ایک اعتبار سے سرزنش کا معاملہ تھا اور دوسرے اعتبار سے اس کا مقصد یہ تھا کہ ان کے جمود کو توڑا جائے اور ان کو زمین کے وسیع تر حصے میں پھیلنے کا موقع دیا جائے۔

محققین نے بتایا ہے کہ کشتی نوح ایسے مقام پر ٹھہری جہاں ایشیا، یورپ اور افریقہ ملتے تھے۔ اس طرح قوم نوح کے افراد کو یہ موقع ملا کہ وہ پھیلتے پھیلتے تین براعظموں میں داخل ہو جائیں اور زمین کے محدود رقبے سے نکل کر زمین کے وسیع تر رقبے میں آباد ہو جائیں۔ قوم نوح کو اس طرح بکھیرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ زمین کے وسیع تر رقبے میں ترقی کے مواقع کو avail کریں۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 15۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.