ہبوتِ آدم: انسان کی پیدائش فطرت کے جس نظام کے تحت ہوئی ہے، اس کے مطابق انسان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل طور پر متحرک رہے۔ حرکت سے انسان کے اندر ترقی ہوتی ہے، اور ٹھہراؤ سے انسان کے اندر جمود یعنی stagnation آ جاتا ہے۔ اس بنا پر خالق نے یہ مقدر کر دیا کہ انسان کو ہمیشہ شوق لگتا رہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے شوق ٹریٹمنٹ کا طریقہ مقرر کیا گیا۔
انسان کی تاریخ میں اس نوعیت کا شوق ٹریٹمنٹ سب سے پہلے آدم اور حوا کے ساتھ پیش آیا، جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔ آدم کو پیدائش کے بعد پہلے مرحلے میں جنت کے باغوں میں بسایا گیا۔ وہاں اس کے لیے ایک امتحان یعنی ٹیسٹ مقرر کیا گیا، اور وہ شجرِ ممنوعہ یعنی forbidden tree کا ٹیسٹ تھا۔ انسان اپنے مزاج کی بنا پر عزم طہٰ سورہ نمبر 20 آیت 115 کا ثبوت نہ دے سکا، چنانچہ اس کے لیے جنت سے بے دخلی یعنی eviction کا حکم ہوا۔
جنتِ اول سے یہ بے دخلی ایک اعتبار سے بطورِ مؤاخذہ تھی، اور دوسرے اعتبار سے وہ بطورِ شوق ٹریٹمنٹ کا معاملہ تھا۔ شوق ٹریٹمنٹ کا یہ طریقہ پوری انسانی تاریخ میں مختلف صورتوں میں جاری رہا۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 14۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.