Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Qanoon-e-Dafa.

Urdu · 2 min

قانونِ دفع: اللہ رب العالمین کا ایک قانون وہ ہے جس کو قرآن میں "قانونِ دفع" کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن کی دو آیتوں میں اس قانون کا ذکر ہوا ہے: وَلَوْلَا دَفْعَ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ سورہ نمبر 2، آیت 251۔ یعنی: اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین فساد سے بھر جائے۔ نیز دیکھیے سورہ الحج آیت 40۔

دفع کا مطلب ہے دور کرنا یا ہٹانا، یعنی to repel۔ یعنی اللہ صاحبِ اقتدار گروہ کو، جب اس میں جمود آ جائے تو بدل کر دوسرا گروہ اس کی جگہ لاتا ہے۔ قانونِ دفع کا تعلق جزوی طور پر جہاد سے ہے، لیکن وہ توسیعی اعتبار سے اللہ رب العالمین کی عمومی سنت ہے۔ اس کے تحت اللہ انسانی تاریخ میں مداخلت، یعنی interference، کرتا ہے، اور انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو غلط رخ پر چلنے سے بچاتا ہے۔

اس طرح انسانی تاریخ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ جہاد تو مسلم حکومت کا اپنے دفاع کے لیے ہوتا ہے، لیکن دفع کی سنت ایک ایسی سنت ہے جو عمومی اعتبار سے یہ کام انجام دیتی ہے کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کا سفر صحیح سمت میں جاری رہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں تاریخ کی کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں: الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 13۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.