Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Shock Treatment.

Urdu · 4 min

شاک ٹریٹمنٹ: صفقِ دما یا فساد فی الارض کا واقعہ کون کرتا ہے؟ یہ انسان کرتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کے اندر مزید ایک برعکس صفت موجود ہوتی ہے، اور وہ ہے ضمیر کی صفت۔ اس کو دوسرے الفاظ میں محاسبِ خویش کی صفت کہا جا سکتا ہے۔ انسان کے ساتھ لازماً ایسا واقعہ پیش آتا ہے کہ جب وہ کسی وجہ سے ایک انتہائی اقدام کر بیٹھتا ہے، اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ فطرت کے قوانین کی بنا پر اس کا اقدام بااعتبارِ نتیجہ معکوس، یعنی کاؤنٹر پروڈکٹیو، اقدام ثابت ہوتا ہے، تو اس کے اندر ندامت، یعنی ریپنٹنس، کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔

وہ اپنی فطرت کی بنا پر اپنے عمل کی ری پلاننگ کرتا ہے۔ انسان کے اندر یہ عمل ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ اس کو کوئی بڑا شوق لگے۔ اس قسم کے بڑے شوق کے لیے کوئی بڑا واقعہ چاہیے۔ صفقِ دما یا فساد فی الارض انسان کی شخصیت میں اسی قسم کا شوق پیدا کرتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ وہ چیز جس کو قرآن میں صفقِ دما یا فساد فی الارض کہا گیا ہے، وہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کے ساتھ جب غیر مطلوب صورتحال پیش آتی ہے تو وہ انسان کے اندر تخلیقیت، یعنی کریئیٹیوٹی، پیدا کرتی ہے۔ وہ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیت کو بیدار کر دیتی ہے۔ وہ انسان کے اندر یہ محرک، یعنی انسنٹف، جگاتی ہے کہ وہ دوبارہ نئے سرے سے کوشش کر کے کامیابی حاصل کرے۔

فرشتوں نے انسان کے بارے میں صفقِ دما اور فساد کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے صفقِ دما اور فساد کے مقابلے میں مثبت پہلو کا حوالہ دیا، اور فرشتوں کو مظاہرے کی صورت میں بتایا کہ انسان کی یہ صفت اس کے اندر نئی سوچ پیدا کرے گی، اور وہ ایسے کام کر سکیں گے جو اس سے پہلے نہ حیوانات نے کیا اور نہ جنات نے۔ تاریخ کے واقعات کو پیشِ نظر رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان کو جن اوصاف کے ساتھ پیدا کیا جا رہا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان کے لیے فساد فی الارض اور صفقِ دما جیسے واقعات اپنے عمل پر نظرِ ثانی، یعنی ری تھنکنگ، کا ذریعہ بن جائیں گے۔ اس طرح اس قسم کے منفی واقعات اس کے لیے مثبت نتیجے کا سبب بنیں گے۔

وہ بار بار اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے گا۔ اس طرح منفی واقعات بااعتبارِ نتیجہ اس کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کا سبب بن جائیں گے۔ اس کو اپنی غلطیوں سے اپنے لیے نیا ڈائریکشن، یعنی نیو ڈائریکشن، ملے گا۔ اس طرح غیر مت— اس طرح ہر غیر مطلوب تاریخ کے بعد مطلوب تاریخ بنے گی۔

اور اس طرح انسان کی تاریخ عملاً صحیح رخ پر سفر کرتی رہے گی، اور اس طرح وہ بڑے بڑے نتائج تک پہنچے گی۔ اس سلسلے میں چند تاریخی مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ غالباً منفی واقعے سے مثبت واقعہ نکلنے کا یہی وہ ظاہرہ ہے جس کو قرآن میں قانونِ دفع سے تعبیر کیا گیا ہے۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 12۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.