Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Hadis me aayi huvi peshangoiyan.

Urdu · 9 min

حدیث میں آئی ہوئی پیشنگوئیاں: نمبر 1، حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں ایک سنگین فتنہ ظاہر ہوگا، یعنی فتنۂ دُہَیما، سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم۔ اس سے مراد غالباً ذہنی کہر، یعنی intellectual fog، جیسی صورتحال ہے۔ یہ صورتحال پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد شروع ہوئی، اور انٹرنیٹ کے دور میں آ کر وہ اپنی آخری حد تک پہنچ گئی۔ اس زمانے میں پرنٹنگ مٹیریل اور الیکٹرانک مٹیریل کے ذریعے اتنی زیادہ باتیں لوگوں کے درمیان پھیلائی گئی ہیں کہ اب ہر انسان معلومات کے جنگل میں جی رہا ہے۔

نمبر 2، ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ حرج بہت زیادہ نہ بڑھ جائے۔ " لا تقوم الساعة حتى يكثر الحرج لوگوں نے کہا کہ حرج کیا ہے؟ اے خدا کے رسول! آپ نے فرمایا: القتل، القتل صحیح مسلم، کتاب الفتن و عشرات الساعہ۔

پیغمبر اسلام کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں جدید ہتھیار نہیں بنے تھے۔ اس وقت یہ ناقابل تصور تھا کہ قتل اور خون ریزی ہر طرف عام ہو جائے۔ یہ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا ہے، جبکہ عمومی تباہی کے ہتھیار weapons of mass destruction بنائے گئے، اور وسیع پیمانے کا قتل و خون ممکن ہو گیا۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں ہر طرف اور ہر روز کثرت سے قتل اور خون ریزی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ اب قیامت بہت قریب آ چکی ہے۔ اس پیشنگوئی کی صداقت کے لیے یہ ثبوت کافی ہے کہ یہ پیشنگوئی بہت پہلے اس وقت کی گئی جبکہ موجودہ قسم کا قتل اور تشدد بالکل ناقابلِ قیاس تھا۔ نمبر 3، ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يوشك الفرات أن يحسر عن كنز من ذهب صحیح مسلم، کتاب الفتن۔

یعنی وہ زمانہ آنے والا ہے جبکہ دریائے فرات میں سونے کا ایک خزانہ نکلے۔ اس حدیث میں جو پیشنگوئی کی گئی ہے، اس سے مراد واضح طور پر پیٹرول ہے، جس کو موجودہ زمانے میں سیال سونا، یعنی liquid gold، کہا جاتا ہے۔ اور جو بہت بڑی مقدار میں شرقِ اوسط، یعنی Middle East کے عرب علاقے میں ظاہر ہوا ہے۔ یہ واقعہ بھی پیغمبر اسلام کے زمانے میں ناقابلِ تصور تھا۔

موجودہ زمانے میں بلاشبہ آپ کی یہ پیشنگوئی پوری ہو چکی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی ایک علامت ہے کہ قیامت اب زیادہ دور نہیں۔ نمبر 4، ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنكم سترون بعد قليل أمراً عظيماً يُحرق البيت ويكون ويكون صحیح مسلم، کتاب الفتن۔ یعنی آئندہ تم ایک امر عظیم دیکھو گے، وہ یہ کہ ایک گھر جلا دیا جائے گا۔

ایسا ہوگا، اور ضرور ہوگا۔ حدیث کے الفاظ پر غور کیجئے تو یہ کسی عام گھر کو جلانے کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ ایک بہت بڑے گھر کو جلانے کی بات ہے، جیسا گھر قدیم زمانے میں موجود نہ تھا۔ اس پیشنگوئی سے غالباً وہ واقعہ مراد ہے جو 11 ستمبر 2001 کو نیویارک، امریکہ میں پیش آیا۔ یہاں مشہور ورلڈ ٹریڈ سینٹر واقع تھا۔

یہ سینٹر 1970 تا 72 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی 110 منزلیں تھیں۔ یہ گویا کہ ایک عمارتی پہاڑ تھا۔ روایتی طریقوں سے اس کو توڑنا یا جلانا ناممکن تھا۔

مذکورہ تاریخ کو کچھ لوگوں نے دو ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کیا، اور اس کو فضا میں تیز اڑاتے ہوئے لے جا کر ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیا۔ اس کے بعد ایک عظیم دھماکے کے ساتھ پوری بلڈنگ جل کر کھنڈر ہو گئی۔ ایسے کسی واقعے کے ظہور میں آنے کے لیے بہت سے اسباب درکار تھے۔ یہ اسباب تاریخ میں پہلی بار بیسویں صدی عیسوی میں انسان کو حاصل ہوئے۔

ایسی حالت میں اس انوکھی پیشنگوئی کا حرف بہ حرف پورا ہونا اس بات کی یقینی علامت ہے کہ اب قیامت کا وقت قریب آ چکا ہے۔ اس کے آنے میں اب زیادہ دیر نہیں۔ نمبر 5، ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تقوم الساعة حتى لا يقال في الأرض الله الله صحیح مسلم، کتاب الایمان، الترمذی، کتاب الفتن۔ یعنی قیامت صرف اس وقت قائم ہوگی جبکہ زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا باقی نہ رہے۔

اس حدیث میں قول سے مراد قولِ لسان نہیں ہے، بلکہ قولِ معرفت ہے، جیسا کہ قرآن، المائدہ، آیت 83 سے ثابت ہوتا ہے۔ قولِ معرفت کا معیار قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ قولِ معرفت ایک ایسے انسان کی زبان سے نکلتا ہے جو اللہ کے ساتھ حبِ شدید، سورہ البقرہ آیت 165، اور خوفِ شدید، سورہ التوبہ آیت 18 کا تعلق رکھتا ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کے سامنے خدا کا ذکر کیا جائے تو اس کا سینہ خدا کی عظمت کے احساس سے دہل اٹھے۔

سورہ الانفال، آیت 2۔ جب زمین پر اس معنی میں خدا کی عظمت کا اعتراف کرنے والے لوگ باقی نہ رہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کا وقت قریب آ گیا ہے۔ انسان کا وجود اور یہاں کی ہر چیز جو انسان کو ملی ہوئی ہے، وہ سب خدا کا انعام ہے۔ اللہ کا چرچہ کرنے والوں کا زمین پر نہ ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔

ایسی صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خدا کے انعام کو تو خوب، کہ لوگ خدا کے انعام کو تو خوب خوب لے رہے ہیں، لیکن وہ منعم کا اعتراف نہیں کرتے۔ جب زمین پر ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان نے آخری طور پر اس بات کا جواز کھو دیا ہے کہ اس کو خدا کی زمین پر مزید آباد رہنے کا موقع دیا جائے۔ موجودہ زمانے میں یہ پیشنگوئی واقعہ بن چکی ہے۔ موجودہ زمانے میں ایسے لوگ تو کثرت سے ملیں گے جو تکرارِ لسان کے طور پر اللہ کا نام لیں، مگر اللہ کے نزدیک ایسے لوگوں کی کوئی قیمت نہیں۔

اور جہاں تک حقیقی معنوں میں اللہ کو یاد کرنے کا سوال ہے، ساری زمین پر بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو اس معاملے میں مطلوب معیار پر پورے اتریں۔ اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس اور اسٹیج کے دور کے آنے کے بعد مسلمان بڑی بڑی سرگرمیاں کر رہے ہیں، مگر حقیقی معنوں میں خدا کا چرچہ کرنے والے لوگ کہیں نظر نہیں آتے۔ لوگ اپنے قومی فخر میں جی رہے ہیں، نہ کہ خدا کی عظمت میں۔ خدا کی حقیقی عظمت کا ذکر ان کی تقریروں اور تحریروں اور ان کے اداروں میں کہیں نظر نہیں آتا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی قومی عظمت کو تو ضرور دریافت کیا، لیکن وہ خدا کی عظمت کو دریافت نہ کر سکے۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ ان کی زندگیاں خدا کی حقیقی عظمت کے چرچے سے خالی نظر آئیں۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ ان کی زندگیاں خدا کی حقیقی عظمت کے چرچے سے خالی نظر آئیں۔ نمبر 6، قربِ قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت حدیث میں یہ بتائی گئی ہے کہ اس زمانے میں اسلام کا کلمہ دنیا کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل ہو جائے گا۔

لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام مسند احمد، جلد 6، صفحہ 4۔ اس حدیث رسول میں ادخالِ کلمہ سے مراد واضح طور پر ادخالِ قرآن ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر سی پی ایس انٹرنیشنل، نئی دہلی کے تحت اپریل 2010 میں القرآن مشن کا قیام عمل میں آیا ہے۔ القرآن مشن کا واحد مقصد جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے ادخالِ کلمہ کی پیغمبرانہ پیشنگوئی کو واقعہ بنانا ہے۔

یہی اس وقت کرنے کا سب سے بڑا کام ہے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ ہم ادخالِ کلمہ کے واحد نشانے کو لے کر کھڑے ہو جائیں۔ اہل ایمان کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ زمین پر بسنے والے تمام مردوں اور عورتوں تک خدا کا کلام پہنچا دیں، تاکہ قیامت سے پہلے تمام لوگ قرآن کے پیغام سے باخبر ہو جائیں، جو کہ زمین پر واحد محفوظ خدائی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ کتاب، قیامت کا علام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 74۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.