Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Qur'an me aayi huvi peshangoiyan.

Urdu · 11 min

قرآن میں آئی ہوئی پیشنگوئیاں، نمبر 1: قرآن اور حدیث میں کثرت سے بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ علامتی واقعات ظاہر ہوں گے جو یہ بتائیں گے کہ قیامت اب قریب آ گئی ہے۔ مثال کے طور پر اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتِ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ سورہ ابراہیم، آیت 48۔ یعنی جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی، اور سب اللہ واحد و قہّار کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس آیت میں کرّہ ارض کے اندر جس تبدیلی کا ذکر ہے، وہ غالباً اچانک تبدیلی نہیں ہے، بلکہ وہ بتدریج ہونے والی تبدیلی ہے۔

موجودہ زمانے میں یہ واقعہ عملاً پیش آ رہا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے میں سائنس کی مختلف شاخوں میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان ان ہونے والی تبدیلیوں کو بروقت جان سکے۔ جبکہ سائنسی ترقی سے پہلے انسان کے لیے ان تبدیلیوں کو جاننا ممکن نہ تھا۔

یعنی خدا نے ایک طرف قیامت کی پیشگی خبر کے طور پر زمین میں چشم کشا تبدیلیاں پیدا کیں، اور عین اسی وقت خدا نے انسان کو وہ جدید سائنسی طریقے عطا کر دیے جن کے ذریعے وہ ان تبدیلیوں کو براہ راست طور پر جان سکے۔ اکیسویں صدی کے آتے ہی دنیا بھر کے سائنس دانوں نے اپنے مطالعے کے مطابق متفقہ طور پر یہ اعلان کرنا شروع کر دیا۔ اکیسویں صدی کے آتے ہی دنیا بھر کے سائنس دانوں نے اپنے مطالعے کے مطابق متفقہ طور پر یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ زمین میں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں نہایت تیزی سے تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ جدید سائنسی مشاہدات کے مطابق ان تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ ہونے والا ہے کہ تقریباً 2050 سے پہلے ہی ہماری زمین ناقابلِ رہائش یعنی ان ہیبیٹیبل ہو جائے۔

پچھلے دس برسوں کے اندر اس سلسلے میں سائنس دانوں کی طرف سے بہت سی رپورٹیں شائع ہو چکی ہیں۔ حال میں امریکہ کے سائنس میگزین میں اس سلسلے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ یہ ناسا کے ایک ٹاپ سائنٹسٹ یعنی جیمز ہینسن کی طرف سے ہے۔ اس کا خلاصہ ٹائمز آف انڈیا 9 اپریل 2008 میں اس عنوان کے تحت چھپا ہے: "زمین خطرے میں: Earth in Crisis"۔

اس رپورٹ کے مطابق زمین پر بحران کی حالت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ بروقت ہی وہ خطرے کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ "We have already reached dangerous level of carbon dioxide in the atmosphere" پیج 35۔ زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کے بگڑنے کے معاملے میں سائنس دان جو خبریں دے رہے ہیں، وہ نظریاتی تخمینے پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ وہ خالص مشاہدات کے ذریعے حاصل کی ہوئی معلومات ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو جدید ترین سائنسی طریقے دریافت ہوئے ہیں، ان کے ذریعے مسلسل مشاہداتی مطالعہ کیا گیا ہے اور پھر یہ رپورٹیں میڈیا میں بھیجی گئیں۔

یہ معلومات تمام کی تمام ایسی ہیں جن کو کوئی بھی شخص سائنسی ذرائع کو استعمال کر کے جان سکتا ہے۔ نمبر 2: قرآن کی سورہ نمبر 27 میں قیامت کے قریب پیش آنے والی ایک نشانی کا ذکر ہے جس کو دابہ کہا گیا ہے: وَلَمَّا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ سورہ النمل، آیت 82۔ یعنی جب ان پر قول پورا ہو جائے گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک دابہ نکالیں گے، وہ ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ دابہ کے لفظی معنی ہیں رینگنے والا یعنی کریپر۔

یہ لفظ قرآن میں حیوان اور انسان دونوں کے لیے آیا ہے سورہ فاطر، آیت 45۔ آیت دابہ میں یہ لفظ زندہ مخلوق یعنی کریچر کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس زندہ مخلوق سے مراد غالباً ایک انسان ہے، نہ کہ کوئی جانور۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک انسان کو اٹھائے گا جو خدا کی ان نشانیوں سے لوگوں کو باخبر کرے گا جو اگرچہ موجود تھیں، لیکن لوگ ان کو خدا کے حوالے سے سمجھنے سے قاصر ہو رہے تھے۔

دابہ کے سلسلے میں مختلف روایتیں آئی ہیں۔ ان روایتوں سے بظاہر یہ متصور ہوتا ہے کہ دابہ ایک انوکھی مخلوق ہوگا۔ ان روایتوں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کو تمثیلی اسلوب قرار دے کر سمجھا جائے۔ چنانچہ مفسرین کی ایک جماعت نے ان روایتوں کو تمثیل پر محمول کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ دابہ سے مراد انسان ہے، نہ کہ کوئی عجیب الخلقت جانور۔

اس کے مطابق دابہ عام انسانوں جیسا ایک انسان ہوگا، اور وہ خدا کی خصوصی توفیق کے ذریعے خدا کی نشانیوں کے اظہار کا ذریعہ بنے گا۔ مفسر القرطبی، وفات 671 ہجری نے اس رائے کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے: إِنَّ الْأَقْرَبَ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الدَّابَةُ إِنْسَانًا مُتَكَلِّمًا يُنَاظِرُ أَهْلَ الْبِدَعِ وَالْكُفْرِ وَيُجَادِلُهُمْ لِيَنْقَطِعُوا فَيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَا مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ تفسیر القرطبی، جلد 13، صفحہ 236۔ یعنی بعض متاخر مفسرین نے کہا ہے کہ قریب تر بات یہ ہے کہ یہ دابہ ایک بولنے والا انسان ہو۔ وہ اہل بدعت اور اہل کفر سے مباحثہ کرے گا تاکہ وہ باز آ جائیں۔

چنانچہ جس کو ہلاک ہونا ہے، وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو، اور جس کو زندہ رہنا ہے، وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ قرآن کی اس آیت میں جب دابہ سے مراد دورِ آخر میں ظاہر ہونے والا انسان ہے، پھر کیوں ایسا ہوا کہ یہاں انسان کے بجائے دابہ کا لفظ استعمال کیا گیا؟ اس کا سبب قانون التباس ہے، جس کا بیان قرآن کی سورہ الانعام کی آیت نمبر 9 میں کیا گیا ہے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ اپنی وحی کو فرشتے کے ذریعے بھیجتا ہے، لیکن دوسروں کے سامنے اس وحی کا اعلان ایک آدمی کے ذریعے کرایا جاتا ہے۔

ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ سنت الہی کے مطابق شبہ کا عنصر یعنی ایلیمنٹ آف ڈاؤٹ باقی رہے۔ وحی لانے والا فرشتہ اگر خود ہی ظاہر ہو کر لوگوں کو آیتیں سناتا تو شبہ کا عنصر ختم ہو جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بشر کو اپنی وحی کے اعلان کا ذریعہ بنایا۔ غالباً یہی وہ حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن میں دابہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تاکہ شبہ کا عنصر باقی رہے۔

اگر یہاں انسان کا لفظ استعمال کیا جاتا تو قانون التباس کی حکمت باقی نہ رہتی۔ دابہ کا رول جو قرآن میں بتایا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ دابہ ظاہر ہو کر خدا کی مخفی نشانیوں کو اشکارہ کرے گا اور دلیل کی زبان میں لوگوں سے کہے گا کہ جب یہ کھلی ہوئی نشانیاں موجود ہیں تو کس چیز نے تم کو روکا ہے کہ تم ان نشانیوں پر یقین نہ کرو؟ قرآن کی مذکورہ آیت میں جن نشانیوں یعنی آیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان سے مراد غالباً وہ نشانیاں ہیں جو آخری زمانے میں ظاہر ہو کر دینِ خداوندی کی حقانیت کو آخری حد تک مبرہن کر دیں گی۔ اس طرح گویا دابہ یا دورِ آخر میں ظاہر ہونے والا داعی، اللہ کی طرف سے لوگوں کے اوپر آخری اتمامِ حجت ہوگا۔

اس اتمامِ حجت کے بعد دوسرا واقعہ صرف یہ ہوگا کہ فرشتہ اسرافیل اپنا سور پھونک دے اور قیامت برپا ہو جائے۔ نمبر 3: علاماتِ قیامت میں سے ایک علامت وہ ہے جس کے لیے قرآن اور حدیث میں دخان یعنی دھواں (smoke) کا لفظ آیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیت یہ ہے: فَارْتَقِبَ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ عَلِيمٌ سورہ الدخان، آیت 10 تا 11۔ یعنی انتظار کرو اس دن کا جب آسمان ایک کھلے ہوئے دھوئیں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا اور لوگوں کو گھیر لے گا۔

یہ ایک دردناک عذاب ہے۔ اپریل 2010 میں یورپ میں جو واقعہ پیش آیا، وہ غالباً اسی پیشنگوئی کے مطابق تھا۔ 14 اپریل 2010 کو یورپ کے ملک آئس لینڈ میں اچانک ایک آتش فشاں پھٹ پڑا۔ یہ آتش فشاں برف کے پہاڑ (glaciers) کے نیچے تھا، جس کے نتیجے میں اتنا زیادہ راکھ نکلی جو تقریباً پورے یورپ کی فضا میں پھیل گئی۔

ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ یورپ کے شہروں میں ہر دن تقریباً 30,000 فلائٹس آپریٹ کی جاتی ہیں، مگر اس کے نتیجے میں نصف سے زیادہ جہازوں کی آمد و رفت بند ہو گئی۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہوائی کمپنیوں کو ہر دن تقریباً 200 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ نہ صرف یورپ بلکہ دوسرے ملکوں کی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں۔

یہ سلسلہ ایک ہفتے سے زیادہ مدت تک جاری رہا۔ اس قسم کی قدرتی آفت معلوم تاریخ میں پہلی بار ظاہر ہوئی ہے۔ یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ آئس لینڈ کا آتش فشانی انفجار وہی دخان تھا جس کی پیشنگوئی قرآن اور حدیث میں بہت پہلے کی گئی تھی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ غالباً دوسرے نشانات جو حدیث میں بتائے گئے ہیں، وہ ظاہر ہو چکے ہیں۔

دخان کا معاملہ غالباً آخری نشانی سے پہلے کی نشانی یعنی last but one کا معاملہ ہے۔ اس کے بعد جو نشانی ظاہر ہونے والی ہے، وہ غالباً سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ہے۔ اس کے بعد غالباً آخری واقعہ ہوگا، یعنی فرشتہ اسرافیل کا سور پھونکنا۔ کتاب: قیامت کا الارم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 69۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.