گلوبل وارمنگ یا موسمیاتی تبدیلی بطور آغازِ قیامت؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام اور سائنس دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں؛ اسلام کا موضوع الگ ہے اور سائنس کا موضوع الگ۔ یہ بات کسی حد تک درست ہو سکتی ہے، لیکن ایک شعبہ ایسا ہے جہاں اسلام اور سائنس دونوں ایک دوسرے سے بالکل ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ یعنی جو بات سائنس اپنی تحقیق کے ذریعے بتا رہی ہے، وہی بات اسلام میں وحی کے ذریعے بتائی گئی ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ اسلام میں یہ بات ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے، 7ویں صدی عیسوی میں بتا دی گئی تھی، جبکہ سائنس نے اس بات کو ابھی حال کے برسوں میں دریافت کیا ہے، خاص طور پر 21ویں صدی عیسوی کے آغاز کے بعد۔ یہ شعبہ قیامت یا تاریخِ انسانی کے خاتمے کے بارے میں ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس سلسلے میں جو باتیں قرآن اور حدیث میں بطور پیشگی خبر کے طور پر بتائی گئی تھیں، وہ اب سائنسی مشاہدات کے ذریعے بطور واقعہ انسان کے علم میں آ رہی ہیں۔ یہاں اس سلسلے میں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں: کتاب "قیامت کا علام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 68۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.