خلاصہ: مذہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ خدا نے جب انسان کو پیدا کیا تو شروع ہی سے انسان کی رہنمائی کے لیے دنیا میں پیغمبر آتے رہے۔ پیغمبروں کا دور وہ دور ہے جبکہ وحی، یعنی ریولیشن، کی سطح پر حقیقت کا علم دیا جاتا رہا۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ جدید سائنسی انقلاب آیا۔ اب یہ ہوا کہ جو حقیقت پہلے وحی کی سطح پر بیان کی جا رہی تھی، وہ خود علمِ انسانی کی سطح پر آخری حد تک مبرہن حقیقت، یعنی پروفڈ فیکٹ بن گئی۔
اس طرح تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ الہامی کتاب، یعنی قرآن، اور انسانی علم دونوں کے اعتبار سے مشترک طور پر مسلمہ بنیاد، یعنی میوچولی ایکسیپٹڈ گراؤنڈ، فراہم ہوئی ہے، جس نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ سچائی کی یقینی معرفت حاصل کی جا سکے۔ اس کے بعد معرفتِ حق کا کوئی اور درجہ باقی نہیں۔ اس کے بعد جو ہونے والا ہے، وہ صرف یہ کہ قیامت واقع ہو اور خداوند ذوالجلال براہِ راست طور پر انسان کے سامنے آ جائے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ تمام انسان جاگ اٹھیں۔
جو لوگ اب بھی نہ جاگے، ان کو قیامت کا بھونچال جگائے گا، مگر اس وقت کا جاگنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کتاب، قیامت کا الارم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 79۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.