Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Marifat,na ke nuzool.

Urdu · 3 min

معرفت نک نزول: ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کے ظہور کے متعلق فرمایا: "وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَعْرِفُوهُ" سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب ذکر دجال۔ یعنی وہ آئیں گے، پس جب تم ان کو دیکھو تو تم ان کو پہچان لینا۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پہچاننا نزول کی بنیاد پر نہ ہوگا، بلکہ خود ان کی شخصیت کو دیکھ کر ہوگا۔ اگر پہچان کا تعلق نزول سے ہو تو آسمان سے ان کا جسمانی طور پر دو فرشتوں کے ساتھ اترنا اتنا زیادہ عجیب واقعہ ہوگا کہ ہر آدمی بلا اعلان ہی ان کو اپنے آپ پہچان لے۔

گویا کہ اس معاملے میں حدیث کے مطابق اصل معاملہ سادہ طور پر معرفتِ مسیح کا ہے، نہ کہ معجزاتی طور پر ان کے آسمانی نزول کا۔ روایت کے مطابق مسیح کی ایک پہچان یہ ہوگی کہ ان کے زمانے میں خدا اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کر دے گا۔ يُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَةَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج دجال۔ اس سے مراد بقیہ ملتوں کی جسمانی ہلاکت نہیں ہے، بلکہ ان کی استدلالی ہلاکت ہے۔

ظہورِ مسیح کے زمانے میں فطرت کے جو موافق دلائل سائنسی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئیں گے، اور مذاہب کے تقابلی مطالعے کے نتیجے میں جو حقیقتیں سامنے آئیں گی، وہ دوسری ملتوں یعنی مذاہب کی استدلالی بنیاد کو ڈھا دینے کے ہم معنی ہوں گی۔ یہ معاملہ ابتداً بالقوّة یعنی پوٹینشلی پیش آئے گا، یعنی نئے دریافت شدہ حقائق دوسری ملتوں یا دوسرے مذاہب کو اپنے آپ ہلاک نہیں کر دیں گے، بلکہ اس وقت ایک شخص درکار ہوگا جو ان دریافت شدہ حقائق کی وضاحت کر کے اس امکان کو واقعہ یعنی ایکچول بنائے گا۔ حدیث کے مطابق استثنائی طور پر یہ کام مسیح انجام دیں گے، جبکہ دوسرے لوگ ایسا کرنے میں اپنے آپ کو پوری طرح عاجز پا رہے ہوں گے۔ یہ واقعہ مسیح کی شخصیت کی ایک پہچان ہوگا۔

اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ حضرت مسیح جب آئیں گے تو وہ ایک سفید مینار کے پاس اتریں گے۔ صحیح مسلم، کتاب الفتن۔ اس حدیثِ رسول میں تمثیل کی زبان میں غالباً اس دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کو عہدِ پرواز یعنی ایج آف ایوی ایشن کہا جاتا ہے۔ ہوائی جہاز جب کسی ایئرپورٹ پر اترتا ہے تو وہاں پہلا نمایاں نشان اس کا کنٹرول ٹاور ہوتا ہے، جس کو ایئرپورٹ کا مینار کہہ سکتے ہیں۔

اس مینار کے پاس اتر کر آدمی شہر کے اندر داخل ہوتا ہے۔ مذکورہ حدیث میں غالباً تمثیل کی زبان میں اسی ظاہرے کو بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے حدیث کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح عہدِ پرواز یعنی ایج آف ایوی ایشن میں لوگوں کے درمیان ظاہر ہوں گے۔ کتاب قیامت کا علام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 65۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.