Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Daure aakhir ke mujaddid ki pahchaan.

Urdu · 4 min

دورِ آخِر کے مجدد کی پہچان اب یہ سوال ہے کہ دورِ آخِر کے مجدد کی پہچان کیا ہوگی؟ اس کی پہچان بلاشبہ یہ نہیں ہوگی کہ وہ کچھ پُرعجوبہ صفات کا مالک ہوگا، اس کی پہچان بنیادی طور پر دو ہوگی، اور یہ دونوں چیزیں واضح طور پر قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ حدیث میں دورِ آخِر کے بارے میں ایک طویل روایت آئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: لا يبقى من الإسلام إلا اسمه ولا يبقى من القرآن إلا رسمه مساجده معامره وهي خراب من الهدى البيهقي في شعب الإيمان یعنی اس وقت اسلام میں سے کچھ نہیں بچے گا سوائے اس کے نام کے، اور قرآن میں سے کچھ نہیں بچے گا سوائے اس کے نشان کے۔ اس وقت ان کی مسجدیں خوب آباد ہوں گی لیکن وہ ہدایت کے اعتبار سے بالکل ویران ہوں گی۔

اس حدیثِ رسول کا مطلب کیا ہے؟ وہ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس دوسری روایت میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے زمانے کے بارے میں فرمایا: بدأ الإسلام غريبًا وسيعود كما بدأ صحیح مسلم، کتاب الإيمان۔ یعنی اسلام جب شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا۔

اس قسم کی روایتوں پر غور کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ آخِر کے مجدد کی سب سے پہلی علامت یہ ہوگی کہ وہ خدا کی خصوصی توفیق سے دینِ حق کو دوبارہ اس کی حقیقی صورت میں دریافت کرے گا۔ وہ ظاہری فارم سے گزر کر اسلام کی اصل اسپرٹ کا فہم حاصل کرے گا۔ وہ قرآن کی مغالطہ آمیز تشریح سے گزر کر قرآن کے اصل پیغام کو سمجھے گا۔ وہ دینِ اجنبی کو دوبارہ اپنے لیے دینِ معروف بنائے گا۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ خدا کے دین کو دوبارہ اس طرح دریافت کرے گا جس طرح اصحابِ رسول نے اس کو دریافت کیا تھا۔ زمانے کے اعتبار سے وہ بعد کا انسان ہوگا لیکن معرفت کے اعتبار سے وہ اصحابِ رسول جیسی معرفت کا حامل ہوگا۔ اس کی دوسری علامت وہ ہوگی جو قرآن میں پیغمبروں کی نسبت سے ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومه سورہ ابراہیم آیت 4۔ یعنی خدا نے جو رسول بھی بھیجے وہ ان کی اپنی قوم کی زبان میں بھیجے۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں بلکہ وہ ایک نہایت اہم بات ہے جو رسول کو پہچاننے کے معاملے میں ایک یقینی معیار کو بتاتی ہے۔ اس آیت میں لسان سے مراد صرف زبان یعنی لینگویج نہیں ہے، اس میں وہ تمام پہلو شامل ہیں جو ایک کامیاب زبان کا ضروری حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً وضوح یعنی کلیرٹی، مؤثر اسلوب، ایسا کلام جو معاصر ذہن کو پوری طرح ایڈریس کرنے والا ہو، وغیرہ۔ اس قسم کا طاقتور اسلوب کبھی اقتصابی نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ وہابی طور پر کسی ایسے شخص کو عطا ہوتا ہے جس سے خدا اپنے دین کی تبیین کا کام لینا چاہے۔

اس استثنائی صفت کے باوجود جو لوگ اس کو نہ پہچانیں وہ اسی قسم کے اندھے پن میں مبتلا ہیں جس اندھے پن کی بنا پر لوگوں نے پچھلے پیغمبروں کو نہیں پہچانا اور وہ ان کے منکر بنے رہے۔ کتاب، قیامت کا علام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 63۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.