امامت بذریع کتاب و سنت: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس وقت تمہارا حال کیا ہوگا جبکہ تمہارے درمیان ابنِ مریم ظاہر ہوں گے، پھر وہ تمہاری امامت کریں گے، تم ہی میں سے۔ " ابنِ ابی زیب نے کہا کہ "امامکم منکم" کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہاری امامت کریں گے، تمہارے رب کی کتاب کے مطابق اور تمہارے نبی کی سنت کے مطابق۔ أمّكم بكتاب ربكم تبارك وتعالى وسنة نبيكم. صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان نزول عیسی ابن مریم حاکمہ۔
دورِ آخر میں ظاہر ہونے والے مجدد کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے: وہ کتاب و سنت کو اس کی اصل تعلیمات کے مطابق زندہ کرے گا۔ گویا کہ اس کا رول آخری دور میں کامل معنوں میں تجدیدِ دین کا رول ہوگا۔ یہ فتنہ دوہما کے بعد اظہارِ دین کی اعلیٰ صورت ہوگی۔ مسیح کی پہچان یہی ہوگی کہ وہ دینِ اجنبی کو دوبارہ دینِ معروف بنائیں گے۔
وہ کتاب و سنت کی تعلیمات کو اس کی حقیقی صورت میں زندہ کریں گے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسیح کا ظہور کس وقت ہوگا: یہ واقعہ اس وقت ہوگا جبکہ حق کا اصلی معیار گم ہو چکا ہوگا۔ اس وقت مسیح کے ذریعے اس کا حقیقی معیار سامنے آئے گا۔ یہ معیار ہے خالص کتاب و سنت کا معیار۔
کتاب: قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 66۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.