Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Hazrat Maseeh ka role.

Urdu · 3 min

حضرت مسیح کا رول: حضرت مسیح بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر کے طور پر آئے، اس وقت بنی اسرائیل کے درمیان خدا کا دین موجود تھا، لیکن وہ دینِ منزل نہ تھا، بلکہ عملاً اس کی حیثیت دینِ محرف کی بن چکی تھی۔ حضرت مسیح نے امتِ یہود کو دوبارہ دینِ منزل کا پیغام دیا، یہی کام امتِ محمدی کی نسبت سے بھی مطلوب ہے۔ حدیث کے مطابق امتِ محمدی کے دورِ آخر میں امت کے درمیان تقریباً وہی صورتحال پیدا ہو جائے گی جو حضرت مسیح کے زمانے میں امتِ یہود کی تھی۔ اس لیے ضرورت ہوگی کہ امتِ محمدی کے آخری دور میں دوبارہ مسیحی کردار کو دہرایا جائے۔

اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تجدیدِ دین کا ایک معاملہ ہے، نہ کہ کسی پراسرار فضیلت کا معاملہ۔ حدیث کے الفاظ میں، آج اسلام ایک غریب دین، یعنی اجنبی دین بن چکا ہے۔ بعد کو پیدا ہونے والے تصورات نے اصل دین کے اوپر پردہ ڈال دیا ہے۔ آج کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ دین کو بعد کی ملاوٹوں سے پاک کر کے اس کو اس کی اصل صورت میں پیش کیا جائے۔

دینِ اجنبی کو دینِ معروف بنایا جائے۔ یہ کام مسلمانوں کی نسبت سے بھی مطلوب ہے اور غیر مسلموں کی نسبت سے بھی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امتِ محمدی کے آخری دور میں مسیحی رول کا اعادہ اس وقت ہوگا جب قیامت بالکل قریب آ چکی ہوگی۔ حالات بتاتے ہیں کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں قربِ قیامت کی تمام نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں۔

دینی اعتبار سے اس کی نشانی یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان بگاڑ اس آخری حد تک پہنچ جائے گا جب انسان یہ جواز، یعنی جسٹیفیکیشن، کھو دے گا کہ اس کو خدا کی زمین پر مزید باقی رہنے دیا جائے۔ حضرت نوح کے آخری زمانے میں وہ حالات پیدا ہو گئے جس کو انہوں نے اپنی ایک دعا میں اس طرح بیان کیا تھا: إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا سورہ نوح، آیت 27۔ جب اس قسم کے انتہائی حالات پیدا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم طوفان کے ذریعے قومِ نوح کو تباہ کر دیا۔ اس عمومی تباہی سے صرف تھوڑے لوگ بچ سکے جو ایمان لا کر حضرت نوح کے ساتھی بن چکے تھے۔

اب پھر دنیا میں اتنا زیادہ بگاڑ آ چکا ہے کہ آج کے انسان کے اوپر دوبارہ "وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا" کے الفاظ صادق آ رہے ہیں۔ تقریباً یقینی معلوم ہوتا ہے کہ جلد ہی طوفانِ نوح سے بھی زیادہ بڑا طوفان آنے والا ہے، جو روئے زمین سے انسان اور انسانی تہذیب کا خاتمہ کر دے، اور تمام انسانوں کو آخری حساب کے لیے میدانِ حشر میں خداوندِ ذوالجلال کے سامنے حاضر کر دے۔ کتاب: قیامت کا علام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 61۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.