← Qiyamat ka AlarmQiyamat ka Alarm
Maseehi role ki aamad.
Urdu · 5 min
مسیحی رول کی آمد: حقیقت یہ ہے کہ مسیح کی آمد سے مراد مسیح کے رول کی آمد ہے، یعنی دورِ آخر میں جب کہ دجال ظاہر ہوگا، اس وقت امتِ محمدی کا کوئی شخص اٹھے گا اور مسیح جیسا رول ادا کرتے ہوئے دجال کے فتنوں کا مقابلہ کرے گا اور اس کو شکست دے گا۔ حدیث میں قتلِ دجال کا ذکر ہے، اس سے مراد دجال کا جسمانی قتل نہیں ہے، بلکہ دجال کے فتنے کو بذریعہ دلائل قتل کرنا ہے۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں؛ علمائے اسلام کی قابلِ لحاظ تعداد اس نقطۂ نظر کو ہمیشہ سے مانتی رہی ہے کہ مسیح جسمانی طور پر آسمان سے نازل نہیں ہوں گے۔ اس نقطۂ نظر کی تائید میں مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں، جو علمائے اسلام اس نقطۂ نظر کے حامی ہیں، ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں: امام فخر الدین الرازی، وفات 1210؛ سید جمال الدین افغانی، وفات 1897؛ مفتی محمد عبدہ، وفات 1905؛ سید رشید رضا مصری، وفات 1935؛ شیخ محمود شلتوت، وفات 1963؛ ڈاکٹر محمد اقبال، وفات 1938؛ مولانا عبیداللہ سندھی، وفات 1944؛ مولانا ابوالکلام آزاد، وفات 1958؛ شیخ محمد ابن احمد ابو زہرہ، وفات 1974؛ شیخ محمد الغزالی، وفات 1996؛ وغیرہ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 2008، مضمون "قربِ قیامت کا مسئلہ"۔ علمائے متقدمین میں علی ابن احمد ابن حزم الاندلسی، وفات 1063 عیسوی؛ اور شیخ تقی الدین احمد ابن تیمیہ، وفات 1328 عیسوی، نے نزولِ مسیح کے مسئلے کو اختلافی مسئلہ قرار دیا ہے۔ اس طرح یہ ظاہر ہے کہ روایات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح کوئی ایسی شخصیت ہیں جو آسمان سے نازل ہوں گے، اور جب مسیح آسمان سے اترنے والی کوئی شخصیت نہ ہوں تو ہمارے لیے صرف یہ انتخاب، یعنی آپشن، باقی رہتا ہے کہ مسیح کو سادہ طور پر "رول" کے معنی میں لے لیں، یعنی آخری زمانے میں امتِ محمدی سے کوئی ایک فرد اٹھے گا جو زمانی حالات کے اعتبار سے مسیح کا رول ادا کرے گا۔ مسیحی رول معروف معنوں میں کوئی فضیلت کی بات نہیں، اور نہ وہ کوئی پراسرار چیز ہے۔
مسیحی رول دراصل ایک تاریخی رول ہے جو کسی امت کے دورِ آخر میں مطلوب ہوتا ہے۔ امتِ موسیٰ کے دورِ آخر میں یہ رول مسیح ابن مریم نے انجام دیا تھا؛ امتِ محمد کے دورِ آخر میں یہ رول خود امت کا کوئی مجدد انجام دے گا۔ امتِ محمد کے دورِ آخر کا رول آسمان سے اترنے والی کسی شخصیت کے ذریعے انجام نہیں پائے گا؛ وہ خود امت کے اندر پیدا ہونے والے ایک شخص کے ذریعے فطری طور پر انجام دیا جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر امت اپنے ابتدائی دور میں اخلاص پر قائم ہوتی ہے، مگر بعد کے دور میں امت کے افراد کے اندر زوال آ جاتا ہے۔
اب امت کے افراد میں منافقت عام ہو جاتی ہے۔ مسیحی رول حقیقت میں یہی ہے کہ دورِ زوال میں منافقت کو ایکسپوز کیا جائے اور اخلاص والے دین سے دوبارہ لوگوں کو متعارف کیا جائے۔ منافقت کیا ہے؟ منافقت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر دین کی حقیقی روح باقی نہ رہے، کچھ ظاہری چیزوں کو دینداری کا معیار سمجھ لیا جائے۔
اسی کو حضرت مسیح نے تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا تھا کہ لوگ اندر سے بھیڑیا ہوں اور انہوں نے اوپر سے بھیڑ کی کھال پہن لی ہو۔ متی، باب نمبر 7، آیت 15۔ حدیث کی پیشنگوئی کے مطابق امتِ محمدی میں منافقت کا یہ دور پوری طرح آ چکا ہے۔ اب عام طور پر یہ حال ہے کہ ظاہری وضاحت کو دینداری سمجھ لیا گیا ہے۔
لوگوں کو قومی فخر کی غذا دینا عین اسلامی کام سمجھا جانے لگا ہے۔ لوگوں کی کنڈیشننگ کو توڑے بغیر ایمان اور اسلام کے شاندار مظاہرے کیے جا رہے ہیں، اور ایسے لوگ مسلمانوں کے اندر قومی ہیرو بن گئے ہیں۔ کمیونٹی ورک کو دعویٰ ورک کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کرنے والے لوگ مجاہدینِ اسلام کا درجہ پا رہے ہیں۔
اسلام کے بھیس میں منافقت کا یہ دور آج امت کے اندر پوری طرح آ چکا ہے۔ آج مسیحی رول یہی ہے کہ اس منافقت کو ایکسپوز کر کے اصلی اسلام کو لوگوں کے سامنے مبرہن حالت میں پیش کر دیا جائے۔ کتاب "قیامت کا علام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 58۔