Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Fitnaye duhaima.

Urdu · 4 min

فتنۂ دوہیما۔ فتنۂ دوہیما کے لفظی معنی ہیں: سخت سیاہ اور تاریک فتنہ۔ الفتنة السوداء المظلمة لسان العرب، جلد 12، صفحہ 211۔ یہاں سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہوگی جو اس عمومی سیاہی یا تاریکی کا سبب بنے گی؟

کیوں ایسا ہوگا کہ لوگ اپنے آپ کو فکری اعتبار سے تاریکی کے جنگل میں بھٹکتا ہوا محسوس کریں گے؟ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آئے گا جبکہ لکھے اور بولے ہوئے الفاظ کی بہت زیادہ کثرت ہو جائے گی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کے حالات پہلی بار موجودہ زمانے میں پیش آئے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جب پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا اور الیکٹرانک میڈیا کا رواج عمل میں آیا، تو تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا کہ بے شمار کتابیں چھپ کر ہر جگہ پھیل گئیں۔

اسی کے ساتھ ریڈیو اور ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے الفاظ کی ایک نئی دنیا وجود میں آ گئی۔ انٹرنیٹ پر مختلف قسم کی جو معلومات ڈالی جا رہی ہیں، وہ اتنی زیادہ ہیں کہ ہر دو منٹ میں اس کے اندر 5000 صفحات سے زیادہ معلومات کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ مطبوعہ کتابوں کا ہے۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔

اس میں بعد کے زمانوں کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے فرمایا: فتنة اللسان فيها أشد من السيف ابو داؤد کتاب الملاحم۔ یعنی ایک زمانہ آئے گا جبکہ زبان یا الفاظ کا فتنہ تلوار کے فتنے سے بھی زیادہ خطرناک ہو جائے گا۔ موجودہ زمانے میں الفاظ کا یہ فتنہ اپنی آخری صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو چیز سب سے زیادہ گمراہی کا سبب بن رہی ہے، وہ بلاشبہ خوشنما قسم کے پرفریب الفاظ ہیں جو فضا میں اس طرح بھر گئے ہیں کہ کوئی بھی عورت یا مرد اس سے محفوظ نہیں۔

الفاظ کے اس تاریک فتنے سے بچنا کس طرح ممکن ہوگا، اس کا راز ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے فرمایا: المعرفة جنة من الفتن الدارمي مقدمة یعنی معرفت فتنے کے مقابلے میں ڈھال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خوشنما الفاظ کے سحر سے باہر آنے کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی کے اندر معرفت موجود ہو۔ معرفت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو آدمی کو اس قسم کے فتنے سے بچا سکے۔

مہدی دراصل اسی قسم کا ایک صاحبِ معرفت انسان ہوگا۔ اس کے اندر خدا کی خصوصی توفیق سے یہ صلاحیت ہوگی کہ وہ لفظی مغالطے کو سمجھ سکے۔ وہ خوشنما الفاظ اور حقیقی استدلال کے فرق کو جانے۔ وہ ایک گمراہ کن بیان کا تجزیہ کر کے اس کی گمراہی کو کھول سکے۔

اس کے اندر تجزیہ (Analysis) کی طاقت کمال درجے میں موجود ہو۔ وہ محدد تبیین یعنی Precise Description کی صلاحیت کا حامل ہو۔ اپنی اسی معرفت کی بنا پر وہ خود الفاظ کے فتنے سے بچے گا اور دوسروں کے لیے الفاظ کے فتنے سے بچنے کا ذریعہ بنے گا۔ مہدی یا رجلِ مومن کے اسی اہم رول کی بنا پر اس کی بابت پیغمبر اسلام نے فرمایا: وجب على كل مؤمن نصره أو قال إجابته ابو داؤد کتاب المہدی۔

یعنی مہدی یا رجلِ مومن کے ظہور کے وقت ہر مومن پر واجب ہوگا کہ وہ اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کرے، یا آپ نے یہ فرمایا کہ وہ اس کی پکار پر لبیک کہے۔ اس حدیث سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ مہدی یا رجلِ مومن کے ظہور کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ اس کے ظہور کا معاملہ اگر کسی معجزاتی شخصیت کے ظہور کا معاملہ ہو، تو پھر ایسے شخص کی نصرت کی تائید ایک غیر ضروری بات ہوگی۔ کیونکہ ایک ایسا انسان جو معجزاتی شخصیت کی حیثیت رکھتا ہو، اس کو اپنا مطلوب رول ادا کرنے کے لیے خود معجزے کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 46۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.