ناشکری کا فتنہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطانی اغوا کا اصل نشانہ یہ ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے۔ کسی خوبصورت تدبیر کے ذریعے وہ انسان کو ناشکری کے فتنے میں مبتلا کر دے۔ ہدایت اور گمراہی دونوں کا اصل خلاصہ یہی ہے: ہدایت یہ ہے کہ آدمی شکر کے احساس میں جینے والا ہو۔
اس کے مقابلے میں گمراہی یہ ہے کہ آدمی کا دل شکر کے جذبات سے خالی ہو جائے۔ شیطان یہی کام ہمیشہ کرتا رہا ہے۔ لیکن بعد کے زمانے میں شیطان کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ لوگوں کو زیادہ بڑے پیمانے پر شکرِ خداوندی کے راستے سے ہٹا سکے۔ اس لیے حدیث میں اس فتنے کو دجال یا دجالیّت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
شکر کیا ہے؟ شکر دراصل خدا کی نعمتوں کے اعتراف، یعنی acknowledgement کا دوسرا نام ہے۔ یہ شکر ہر زمانے میں انسان سے مطلوب تھا، پچھلے زمانے میں بھی اور موجودہ زمانے میں بھی۔ کسی انعام پر منعّم کا اعتراف کرنا ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔
لیکن اعتراف کے لیے ہمیشہ کسی پوائنٹ آف ریفرنس کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً جب آپ کھانے کی کوئی چیز کھاتے ہیں تو آپ کو فوڈ آئٹم کی صورت میں شکر یا اعتراف کا ایک پوائنٹ آف ریفرنس مل جاتا ہے، اور آپ کہتے ہیں کہ خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ چیز کھانے کے لیے عطا کی۔ لیکن ایک شخص جو جدید علمِ نباتات اور جدید علمِ زراعت اور جدید علمِ باغبانی سے واقف ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ کسی فوڈ آئٹم کی معنویت کو ہزاروں گنا زیادہ اہمیت کے ساتھ دریافت کر سکے۔ اس طرح اس کا احساسِ شکر عام انسان کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ جائے گا جب وہ کہے گا کہ خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے کھانے کے لیے فوڈ آئٹم دیا۔
تو وہ ایک عظیم احتجاز، یعنی سپر تھرل کے جذبے کے تحت، وہ الفاظ بولے گا جس کا تجربہ پہلے کسی انسان کو نہیں ہو سکتا تھا۔ پہلا شخص جس حقیقت کو صرف ذائقۂ لسانی کی سطح پر جانے گا، دوسرا شخص اس کو وسیع تر علمِ سائنس کی سطح پر دریافت کرے گا۔ پہلے شخص کا اعتراف اگر ایک سادہ اعتراف ہوگا تو دوسرے شخص کا اعتراف ایک ہمالیائی اعتراف بن جائے گا۔ کتاب: قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 24۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.