Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Insani ghiza.

Urdu · 4 min

انسانی غذا، انسانی غذا کے معاملے میں موجودہ زمانے میں بے شمار تحقیقات ہوئی ہیں۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں ان گنت معلومات سامنے آئی ہیں، جو خالق کی معرفت کے امکان کو لامحدود حد تک بڑھا دیتی ہیں۔ اس معرفت کا ایک پہلو یہ ہے کہ کس طرح ایسا ہوا کہ انسان کی جو غذائی ضرورت ہے، وہ خارجی دنیا میں اپنی اعلیٰ تکمیلی صورت میں پیشگی طور پر بھرپور حالت میں موجود ہے۔ انسانی ضرورت اور خارجی غذا کے درمیان کامل مطابقت، یعنی compatibility، اپنے آپ میں سوچنے والے کے لیے معرفت کا ایک سمندر ہے۔

قدیم زمانے میں غذا کا صرف ایک مفہوم تھا: بھوک کے وقت غذائی چیزوں کو کھا کر اپنا پیٹ بھر لینا۔ یہ بھی بلاشبہ شکر کا ایک ذریعہ تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں اس میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، انہوں نے شکر کے معاملے میں point of reference کو بہت زیادہ وسیع بنا دیا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق غذا سادہ طور پر صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں ہے؛ وہ ہمارے جسم کی متنوع ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔

چنانچہ موجودہ زمانے میں غذا کو متوازن غذا، یعنی balanced diet، کہا جاتا ہے۔ متوازن غذا کا مطلب ہے: وہ خوراک جو صحت کی متنوع ضرورت کے لیے متناسب اجزاء پر مشتمل ہو۔ جدید تحقیق کے مطابق متوازن غذا وہ ہے جس میں حسبِ ذیل اجزاء شامل ہوں: A balanced diet is one which contains carbohydrates, protein, fat, vitamins, mineral salts, and fiber in the correct proportions. متوازن غذا کے بارے میں اس دریافت نے ہمارے احساسِ شکر کے لیے عطا حد تک زیادہ بڑا point of reference دے دیا۔

پچھلی معلومات کے تحت انسان اگر حیوانی سطح پر غذا کی اہمیت کو جانتا تھا، تو اب جدید معلومات کے تحت وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ اعلیٰ ترین انسانی سطح پر غذا کی اہمیت کو محسوس کر سکے۔ وہ آفاقی درجے میں شکر کا تحفہ اپنے خالق کی خدمت میں پیش کرے۔ point of reference میں یہ اضافہ صرف پہلی بار ممکن ہوا ہے۔ پچھلی صدیوں میں سائنس نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے؛ اس نے تاریخ میں پہلی بار فطرت، یعنی nature، میں چھپی ہوئی ان حقیقتوں کو کھولا ہے جن کو قرآن میں آیات اللہ، یعنی divine signs، کہا گیا ہے۔

ان سائنسی دریافتوں نے یہ کیا ہے کہ انعامات الہی کے بارے میں انسان کے point of reference کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان ہر چیز میں خدا کی نعمتوں کو انتہائی اعلیٰ درجے میں محسوس کرے، اور شکرِ خداوندی کے بلند تر احساسات سے اس کا سینہ معمور ہو جائے۔ دورِ قدیم کے انسان کو اگر معرفت کا تجربہ ہوتا تھا، تو اب جدید دریافتوں کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان زیادہ برتر سطح پر معرفتِ اعلیٰ کا تجربہ کر سکے۔ کتاب "قیامت کا علام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 25۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.