دجالیت کیا ہے؟ دجالیت کوئی ایسی برائی نہیں جو آخری زمانے میں اچانک ظاہر ہو جائے۔ دجالیت دراصل شیطانی اغوا ہی کا زیادہ بڑا درجہ ہے۔ اغوا اور دجل دونوں اپنی حقیقت کے اعتبار سے قریب المعنی الفاظ ہیں۔
اغوا عام قسم کی دجالی ہے، اور دجالیت زیادہ بڑے قسم کا اغوا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی تخلیق کے ابتدائی زمانے ہی میں شیطان نے یہ چیلنج دیا تھا کہ لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ سورہ الحجر آیت 39۔ یعنی میں ضرور ان کے لیے زمین میں تزین کروں گا، اور ضرور ان سب کو بھٹکاؤں گا۔ قرآن کے دوسرے مقام پر اس معاملے کی مزید وضاحت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ سورہ الاعراف آیت 17۔
یعنی تو ان میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا۔ And you will not find most of them grateful سورہ نمبر 7 آیت 17۔ کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 23۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.