← Qiyamat ka AlarmQiyamat ka Alarm
Dajjale akbar ka fitna.
Urdu · 5 min
دجال اکبر کا فتنہ۔ حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں مستقبل کے بارے میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آخری زمانے میں ایک دجال پیدا ہوگا۔ اس وقت امت مسلمہ میں سے ایک شخص اٹھے گا جو دجال کا حجیج بنے گا اور اس کا خاتمہ کرے گا۔
إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم، وإن يخرج ولست فيكم فامرؤه حجيج نفسه. صحیح مسلم، کتاب الفتن۔ یہ واقعہ تاریخ کا عظیم ترین واقعہ ہوگا۔ چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين.
کتاب الفتن۔ یعنی یہ خدا کے نزدیک سب سے بڑی گواہی ہوگی۔ دجال کے لفظی معنی بہت دھوکہ دینے والا ہے۔ دجال اپنا یہ کام تلوار کے ذریعے نہیں کرے گا۔
دھوکہ دینا دلیل کے ذریعے ہوتا ہے، نہ کہ تلوار کے ذریعے۔ چنانچہ دجال علم اور دلائل کے زور پر لوگوں کو بہکائے گا۔ وہ لوگوں کو ذہنی گمراہی میں مبتلا کرے گا۔ دجال کے مقابلے میں جو شخص اس کی کاٹ کے لیے اٹھے گا، اس کے لیے صحیح مسلم میں حجیج کا لفظ آیا ہے۔
لسان العرب میں حجیج کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: محاجه ومغالبه باظهار الحجة عليه. جلد 2، صفحہ 228۔ یعنی دلائل کے ذریعے غالب آنے والا۔ One who can overcome in the argument.
حدیث میں آتا ہے کہ دجال کی پیشانی پر کاف، فا، را، کفر لکھا ہوا ہوگا۔ صحیح مسلم، کتاب الفتن۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دجال جس دور میں پیدا ہوگا، وہ خدا سے کفر یعنی انکار کا دور ہوگا۔ یعنی الحاد کا دور۔
پچھلی تاریخ کا فتنہ خدا کا انکار نہیں تھا، بلکہ خدا کو مان کر اس کا شریک بنانا تھا۔ اس زمانے میں خدا کا وجود ایک اصول موضوعہ یعنی عکسیم کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں یہ مسلمہ ٹوٹ گیا۔ آج الحاد کا زمانہ ہے، یعنی انکار خدا کا زمانہ۔
قدیم زمانے میں داعی کو یہ ثابت کرنا پڑتا تھا کہ خدا کا کوئی شریک نہیں۔ موجودہ زمانے میں داعی کو خود خدا کے وجود کو ثابت کرنا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو دجال کے فتنے سے لڑنا کہا گیا ہے۔ حدیثوں کے مطالعے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دجال یا دجالیت دراصل سائنسی دور کا فتنہ ہے۔
سائنسی دور میں پہلی بار یہ ہوگا کہ کچھ لوگ دلائل کے نام پر حق کا ابطال کریں گے۔ وہ یہ تاثر دیں گے کہ حق علمی ترقی کے مقابلے میں ٹہر نہیں سکتا۔ پھر خدا کی توفیق سے ایک شخص اٹھے گا جو خود سائنسی دلائل کے ذریعے اس دجالی فتنے کا خاتمہ کر دے گا۔ وہ دجالی دلائل کو زیادہ برتر دلائل کے ساتھ بے بنیاد ثابت کر دے گا۔
یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے تاریخ بشری کا پہلا واقعہ ہوگا۔ وہ دعوت حق کی عظیم ترین مثال کے ہم معنی ہوگا۔ دجالی فتنہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نیا فتنہ نہیں۔ وہ شیطانی فتنے ہی کا نقطہ انتہا ہے۔
شیطان ہمیشہ سے یہ کرتا رہا ہے کہ وہ تزین کے ذریعے لوگوں کو سچائی کے راستے سے ہٹاتا ہے۔ شیطان کا یہ کام ہمیشہ سے جاری ہے۔ سائنسی دور میں یہ شیطانی تزین، علمی تزین کے روپ میں ظاہر ہوگی۔ اسی لیے اس کو دجالیت کہا گیا ہے۔
قرآن کے مطابق شیطان کا کام تزین سورہ الحجر آیت 39 کرنا ہے۔ تزین کے لیے ہمیشہ اس کے موافق وسائل درکار ہوتے ہیں۔ پچھلے زمانوں میں یہ موافق وسائل زیادہ نہیں ہوتے تھے۔ موجودہ زمانے میں یہ موافق وسائل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں، علمی اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔
دجال دراصل وہ شیطان اکبر ہے جو جدید وسائل کے ذریعے زیادہ پرزور انداز میں باطل کی تزین کرے گا۔ پھر امت محمدی کا ایک شخص اٹھے گا جو خدا کی خصوصی مدد سے نظریاتی سطح پر اس کی دجالیت کا خاتمہ کر دے گا۔ کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 21۔