یاجوج اور ماجوج کی دیوار۔ روایات میں بتایا گیا ہے کہ یاجوج اور ماجوج اور بقیہ انسانی دنیا کے درمیان ایک مضبوط دیوار حائل تھی۔ یہ دیوار اس میں مانع تھی کہ یاجوج اور ماجوج اپنی حد سے نکل کر بقیہ انسانی آبادی میں داخل ہو کر وہاں فساد برپا کریں۔ یہ دیوار کیا تھی، اور وہ کب ٹوٹی، اس کے بارے میں ایک حدیثِ رسول سے رہنمائی ملتی ہے۔
روایات میں آیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں تھے، غالباً مکہ فتح ہو چکا تھا اور عرب سے بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس وقت آپ نے ایک خواب دیکھا۔ روایت کے مطابق اس وقت آپ مدینے میں اپنی اہلیہ زینب بنت جحش، وفات 641 عیسوی، کے حجرے میں سو رہے تھے۔ آپ سو کر اٹھے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا۔
اس وقت آپ نے فرمایا: لا إله إلا الله، ويلٌ للعرب من شرّ قد اقترب، فُتِحَ اليوم من رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ. صحیح البخاری، کتاب الفتن، صحیح مسلم، کتاب الفتن۔ یعنی لا إله إلا الله خرابی ہے عرب کی اس شر سے جو قریب آ چکا۔ آج یاجوج اور ماجوج کے بند میں شگاف پڑ گیا۔
کتاب: قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 6۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.