← Qiyamat ka AlarmQiyamat ka Alarm
Yajuj aur Majuj ke do daur.
Urdu · 5 min
یاجوج اور ماجوج کے دو دور: قرآن میں یاجوج اور ماجوج کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے، ایک جگہ ذوالقرنین کے حوالے سے سورہ الکہف آیت 94، اور دوسری جگہ ذوالقرنین کے حوالے کے بغیر سورہ الانبیاء آیت 96۔ ان دونوں آیتوں کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان دونوں آیتوں میں یاجوج اور ماجوج کے دو دوروں کا ذکر ہے جو ایک کے بعد ایک پیش آئیں گے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی تھی وہ یاجوج اور ماجوج کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ دیوار ان کی مفسدانہ کارروائی کے لیے ایک روک بن گئی۔
ایک عرصے تک یہ صورتحال قائم رہی، اس کے بعد یاجوج اور ماجوج کی ابتدائی سرکش نسل ختم ہو گئی اور بعد کی نسل پیدا ہوئی جو نسبتاً معتدل نسل کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس دوران ذوالقرنین کی بنائی ہوئی ابتدائی دیوار دھیرے دھیرے ٹوٹ پھوٹ گئی۔ اس کے بعد یاجوج اور ماجوج کی اگلی نسلوں کے لیے ممکن ہو گیا کہ وہ دیوار سے باہر آئیں اور دیوار کے باہر کی دنیا میں پھیل جائیں۔ یہی دوسرا زمانہ ہے جب کہ ان کے درمیان تہذیب کا دور شروع ہوا۔
یہ دور مختلف احوال کے درمیان بتدریج ترقی کی طرف بڑھتا رہا۔ یہ بعد کا دور دو زمانوں میں تقسیم ہے: نشأت ثانیہ یعنی رینیسانس سے قبل کا زمانہ، اور نشأت ثانیہ کے بعد کا زمانہ۔ اسی زمانے میں پیغمبر اسلام کی پیشن گوئی کے مطابق وہ واقعہ پیش آیا جس کو آپ نے یاجوج اور ماجوج کے بند میں شگاف سے تعبیر کیا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی تھی وہ ایک مادی دیوار تھی جو ایک عرصے کے بعد فطری طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔
حدیث میں جس دیوار یعنی رد میں شگاف ہونے کا ذکر ہے وہ غالباً مادی دیوار نہیں ہے بلکہ وہ اس سے مختلف ہے۔ اس سے مراد فکری دیوار یعنی انٹلیکچول بیریئر ہے۔ سابق حجری دیوار کے ٹوٹنے سے یاجوج اور ماجوج کو اپنے قریبی علاقے میں پھیلنے کا موقع ملا تھا، لیکن دوسری دیوار کا ٹوٹنا زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ اس نے یاجوج اور ماجوج کی نسل کو یہ موقع دیا کہ وہ عالمی سطح پر پھیل جائیں، اور حدیث کے الفاظ میں یہ واقعہ ہو کہ لَا يَأْتُونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَكَلُوهُ وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا شَرِيبُوهُ ابن ماجہ کتاب الفتن۔
یعنی وہ جس چیز تک پہنچیں گے اس کو کھا جائیں گے، اور جس ذخیرہ آب سے گزریں گے اس کو پی جائیں گے۔ ذوالقرنین کے بنائے ہوئے مادی بند کے ٹوٹنے کے بعد جو واقعہ پیش آئے گا اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَتَرَكْنَ بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ سورہ الکہف آیت 99۔ یعنی قدیم محدود جغرافیہ سے نکل کر یاجوج اور ماجوج لوگوں سے عمومی اختلاط کرنے لگیں گے۔ یہ گویا ان کا دور اختلاط ہوگا۔
اس کے بعد حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے یعنی ان کا ہر چیز کو کھا جانا اور ساری دنیا کے پانی کو پی جانا، اس سے مراد بعد کا وہ واقعہ ہے جب کہ انہوں نے نیچر پر فتح حاصل کی اور جدید صنعتی دور پیدا کیا۔ اسی جدید صنعتی دور کے نتیجے میں ان کو عالمی استحصال کا موقع ملا۔ قرآن کی سورہ نمبر 18 میں یاجوج اور ماجوج کے پہلے دور کا ذکر ہے، اور قرآن کی سورہ نمبر 21 میں یاجوج اور ماجوج کے دوسرے دور کا ذکر۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بظاہر یاجوج اور ماجوج کے تین بڑے دور ہیں: محصوریت کا دور، اختلاط کا دور، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور۔
یاجوج اور ماجوج کوئی پرعجوبہ قوم نہ تھے۔ قدیم زمانے میں ذرائع معاش کی قلت کی بنا پر ہر جگہ کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے جو لوٹ مار کے ذریعے اپنی معاش حاصل کرتے تھے۔ اس قسم کے لوگ عرب میں بھی تھے جن کو سعالیق العرب کہا جاتا تھا، یعنی عربی قذاق۔ یاجوج اور ماجوج کا گروہ بھی ابتداءً اسی قسم کا ایک گروہ تھا۔
کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 4۔