← Qiyamat ka AlarmQiyamat ka Alarm
Fikri diwaar.
Urdu · 7 min
فکری دیوار اس حدیثِ رسول پر اور اس کے بعد بننے والی تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں "بن" یعنی ردم سے مراد غالباً کوئی مادی دیوار، یعنی فزیکل بیریئر، نہیں ہے؛ بلکہ اس سے مراد فکری دیوار، یعنی انٹلیکچول بیریئر ہے۔ یہ فکری دیوار وہی ہے جس کو فطرت پرستی کہا جاتا ہے۔ اس عقیدے کا ٹوٹنا ہی بند کا ٹوٹنا تھا، جس کے بعد مغربی قوموں کے لیے تمام ترقیوں کا دروازہ کھلا۔ اس کے بعد وہ اس قابل ہو گئے کہ اپنے علاقے کے باہر کی دنیا میں داخل ہو کر اس میں غلبہ حاصل کر سکیں۔
اصل یہ ہے کہ فطرت، یعنی نیچر، کے اندر ان تمام ترقیوں کے اسباب چھپے ہوئے تھے جن کی دریافت کے بعد جدید مغربی تہذیب ظہور میں آئی۔ یہ اسباب ہمیشہ سے فطرت کے اندر موجود تھے، لیکن فطرت کو معبود کا درجہ دے دیا گیا۔ اسی سے فطرت پرستی کا مذہب پیدا ہوا۔ اس وقت انسان فطرت کو معبود کی نظر سے دیکھتا تھا، اس لیے وہ اس کی تحقیق اور تفتیش کی جرات نہ کر سکا۔
7ویں صدی عیسوی کے ربع اول میں جب اسلام کے ذریعے توحید پر مبنی انقلاب واقع ہوا، اور فطرت پرستی کی جگہ خدا پرستی کا رواج دنیا میں قائم ہوا، اس کے بعد فطرت کا تقدس، یعنی ہولینس، ٹوٹ گیا۔ اب فطرت، یعنی نیچر، عبادت کے بجائے تسخیر کا موضوع بن گئی۔ یہی جدید مادی تہذیب کا نقطۂ آغاز تھا۔ پیغمبر اسلام کے ذریعے تاریخِ توحید میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا کہ توحید کا عقیدہ فکری مرحلے سے گزر کر انقلاب کے مرحلے میں پہنچ گیا۔
ہجرت نبوی کے 8ویں سال مکہ فتح ہوا اور کعبے کو بتوں سے پاک کر دیا گیا۔ اس کے جلد ہی بعد پورے عرب میں توحید کا دبدبہ قائم ہو گیا۔ اور پھر بہت کم مدت میں تقریباً پوری دنیا میں یہ واقعہ پیش آیا کہ فطرت پرستی یا تو ختم ہو گئی یا وہ غیر مؤثر ہو کر گوشہ گیر ہونے پر مجبور ہو گئی۔ اس انقلاب کا اصل پہلو اس کا مذہبی پہلو تھا؛ وہ اہلِ اسلام کے ذریعے دنیا میں قائم ہوا۔
اس کا دوسرا پہلو وہ تھا جس کو اس کا سیکولر پہلو کہا جا سکتا ہے۔ اس دوسرے پہلو کی اشاعت زیادہ تر یورپ میں ہوئی۔ اہلِ یورپ نے اس کو اپنی خصوصی تحقیق کا موضوع بنایا اور پھر اس کو ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچا دیا۔ مغربی قوموں کے درمیان اس دوسرے پہلو کا فروغ زیادہ واضح طور پر صلیبی جنگوں، یعنی کروسیڈز کے بعد 14ویں صدی عیسوی سے شروع ہوا، اور 20ویں صدی عیسوی کے آخر تک وہ ایک مکمل تہذیب کے مرحلے تک پہنچ گیا۔
وہ چیز جس کو مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام کے مبنی بر توحید انقلاب کا ایک سیکولر ایڈیشن ہے۔ وہ چیز جس کو مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام کے مبنی بر توحید انقلاب کا ایک سیکولر ایڈیشن ہے۔ فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹانے کا جو کام اسلام نے انجام دیا، اس کا یہ براہِ راست نتیجہ تھا کہ فطرت کی تحقیق اور تفتیش کا عمل شروع ہو گیا۔ یہ عمل ابتدائی طور پر قدیم بغداد اور قدیم قرطبہ وغیرہ میں مسلمانوں کے درمیان شروع ہو چکا تھا، لیکن صلیبی جنگوں کے بعد یہ کام تمام تر اہلِ یورپ نے انجام دیا۔
یہی وجہ ہے کہ جدید مادی تہذیب کو مؤرخین عام طور پر اہلِ مغرب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ 7ویں صدی عیسوی کے نصف اول میں جو مذکورہ انقلاب برپا ہوا، وہ دوبارہ ایک نئے انقلاب کا نقطۂ آغاز، یعنی اسٹارٹنگ پوائنٹ تھا۔ اس دوسرے انقلابی عمل کا نقطۂ انتہا، کلمنیشن، وہ واقعہ تھا جو موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کی صورت میں پیدا ہوا۔ موجودہ سائنسی انقلاب بظاہر ایک سیکولر انقلاب تھا، لیکن اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ گویا اسلامی انقلاب کے ہم معنی تھا۔
قرآن 7ویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ زمین اور آسمان کی چیزوں پر غور کرو، اس میں تم خدا کی نشانیاں، یعنی سائنس، پاؤ گے۔ مگر بوقت نزولِ قرآن، یہ خدائی نشانیاں کلی طور پر ظاہر نہیں ہوئی تھیں؛ وہ نیچر میں چھپی ہوئی تھیں۔ اس بنا پر قرآنی غور و فکر کے لیے انسان کے پاس مطلوب فریم ورک موجود نہیں تھا۔
خدا نے چاہا کہ یہ فریم ورک انسان کو حاصل ہو جائے۔ اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ قدیم زمانے کا بادشاہی نظام تھا۔ بادشاہی نظام نے کائنات میں آزادانہ غور و فکر کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ اس بنا پر یہ بادشاہت خدا کی اسکیم کے خلاف تھی۔
چنانچہ خدا نے اصحابِ رسول کے ذریعے تاریخ میں مداخلت کی۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ محض ایک سیاسی تبدیلی کا واقعہ نہ تھا، بلکہ وہ بعد کو ظہور میں آنے والے سائنسی انقلاب کا ابتدائی مرحلہ تھا۔ اس وقت کے دو بڑے شہنشاہی نظام، بازنطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر، کو اصحابِ رسول کے ذریعے توڑ دیا گیا تاکہ کھلی فضا میں سائنسی غور و فکر کا آغاز ہو سکے: الانبیاء 18۔ یہی انقلابی واقعہ ہے جس کا ذکر بائبل میں قدیم پیغمبر کی زبان سے پیشنگوئی کے طور پر اس طرح بیان کیا گیا ہے: "اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں، ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے، قدیم ٹیلے جھک گئے"۔
He looked and startled the nations, and the everlasting mountains were scattered. حباقہ، باب 3، آیت 6۔ یہاں "ازلی پہاڑ" سے مراد وہ سیاسی پہاڑ ہے جو شہنشاہی نظام کی صورت میں قدیم زمانے سے دنیا میں قائم تھا۔ اسلام کے ذریعے مطلق شہنشاہیت، یعنی ایبسولیوٹ ایمپیریلزم، کے اس نظام کے ٹوٹنے کا ذکر مشہور فرانسیسی مؤرخ ہنری پرین، وفات 1935، نے ان الفاظ میں کیا ہے: "اسلام نے زمین کا نقشہ بدل دیا، تاریخ کا روایتی ڈھانچہ اکھاڑ کر پھینک دیا گیا"۔
Islam changed the face of the globe; the traditional order of history was overthrown. ہنری پرین، ہسٹری آف ویسٹ یورپ، پیج 46، کتاب قیامت کا علام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 7۔