Maulana Wahiduddin Khan
31 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

اظہار رسالت عہد حاضر میں

Urdu · 31 min

اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں

پیغمبر اسلام کو خصوصی طورپر اظہار کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے دین کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے کہ وہ تمام ادیان پر غالب و سر بلند ہو۔ یہی نسبت غلبہ آپ کی امت کو بھی حاصل ہے۔ پیغمبر اسلام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا کہ ڈھائی ہزار سال کے ایک خصوصی منصوبہ کے ذریعہ وہ اسباب فراہم کیے جن کو استعمال کرکے آپ دین خدا کو غالب و ظاہر کر سکیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ آپ کی امت کے ساتھ ہے۔ چنانچہ پچھلے ہزار سال کے عمل کے نتیجہ میں خدا نے وہ موافق حالات کا مل طورپر فراہم کر دیے ہیں جو دورِ جدید میں اسلام کےغلبہ کی بنیاد بن سکتے ہیں ۔ پیغمبر کے امتی اگر ان موافق حالات کو حکمت اور صبر کے ساتھ استعمال کریں تو خدا کا وعدۂ نصرت دوبارہ پیغمبر کے امتیوں پر اسی طرح واقعہ بن سکتا ہے جس طرح وہ خود پیغمبر کے اوپر واقعہ بناتھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امریکا سے ایک انسائیکلوپیڈیا چھپی ہے جس کا نام ہے انسان اور اس کے معبود (Man and His Gods)۔اس کتاب میں مختلف مذاہب پر مقالے ہیں ۔ اسلام پر جو مقالہ ہے، اس کے عیسائی مقالہ نگار نے اسلامی انقلاب کے بعد پید ا ہونے والے عظیم نتائج کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں — اس کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کوبدل دیا 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Its advent changed the course of human history. (The Encyclopaedia Britannica (1984), Article on "Man and His Gods", p. 389)

other sourceWords of another person or source

یہ ایک مستشرق کی زبان سے اسلامی انقلاب کی پیدا کردہ ان تبدیلیوں کا اعتراف ہےجنہوں نے تاریخ میں ایسے دوررس امکانات کھولے جن کے بعد اسلام کو غیر اسلامی ادیان پر غالب و برتر کرنا اسی طرح آسان ہوگیا ہے جس طرح بارش آجانے کے بعد کھیت سے فصل اگانا۔

other sourceWords of another person or source

پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے ساتھیوں کےذریعہ جو انقلاب بر پا کیا گیا وہ اگرچہ اصلاً توحید اور آخرت پر مبنی ایک دینی انقلاب تھا۔ مگر اس نے بہت سے دور رس دنیوی نتائج بھی پیدا کیے۔ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے دنیوی نتائج میں سب سے اہم وہ نتائج ہیں جنہوں نے قدیم زمانہ کے سماجی اور اجتماعی نظام کو اس طرح بدل دیا کہ وہ حالات ہی ختم ہو گئے جن میں دعوت حق کا کام ایک انتہائی مشکل کام بنا ہواتھا۔

سورہ براءۃ نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو مکہ بھیجا تا کہ وہ اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد کسی مشرک کوحج بیت اللہ کی اجازت نہ ہوگی۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ میں حج کے اجتماعات میں بلند آواز سے اس کا اعلان کرتا پھرتاتھا، یہاں تک کہ میری آواز بھاری ہوگئی ( فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي) سنن النسائی، حدیث نمبر 3935۔مگر آج لاؤڈ اسپیکر وجود میں آنے کے بعد یہ مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں ۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں اعلان حق کا کام کتنا زیادہ آسان ہو چکاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دین کی دعوت کے دوبڑے دور ہیں۔ ایک، پیغمبر آخر الزماں کے ظہور سے پہلے۔ دوسرا، پیغمبر آخرالزماں کے ظہور کے بعد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے خدا کی جو کتابیں آئیں ان کی حفاظت کی ذمہ داری خود ان امتوں پر ڈالی گئی جن کے پاس وہ کتابیں بھیجی گئی تھیں۔ چنانچہ ان کےبارے میں قرآن میں استحفاظ ( نگہبان بنانا)کا لفظ آیا ہے  بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ (5:44)۔یعنی، وہ خدا کی کتاب پر نگہبان ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے برعکس، قرآن کی حفاظت کے بارے میں فرمایا گیا  إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (15:9)۔ یعنی، خدا نے اس کتاب کو اتارا ہے اور وہی اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ خدا کا یہ منصوبہ تھا کہ شرک کو مغلوب کیا جائے اور توحید کو دنیا میں غالب فکر کا مقام عطا کیا جائے (الانفال،8:39)۔ یہ کام اتنے مختلف اسباب کی مساعدت چاہتا ہے جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ چنانچہ اللہ نے ڈھائی ہزا ر سالہ عمل کے نتیجہ میں وہ موافق حالات پید اکیے جن کواستعمال (avail)کر کے آپ نے شرک کو مغلوب کیا اور توحید کو فکری غلبہ کے مقام پر پہنچایا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اوراصحاب رسول کی کوششوں سے جو انقلاب آیا اس کے بعد شرک ہمیشہ کے لیے مغلوب ہو گیا۔ اب اس کی کوئی امید نہیں کہ شرک دو بارہ ایک غالب فکر کی حیثیت سے دنیا میں چھا سکے۔ تاہم موجودہ زمانہ میں دو بارہ یہ واقعہ ہوا کہ توحید نےغالب فکر کی حیثیت سے اپنا مقام کھو دیا۔ اس باریہ واقعہ الحاد کے ہاتھوں سے ہوا۔ چنانچہ آج دنیا میں الحاد نے غالب فکر کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ بے خدا ذہن یا سیکولر ذہن آج دنیا کا غالب ذہن ہے۔ اس کے مقابلہ میں توحید کاذہن عملاً دوسرے درجہ پر چلا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کو یقیناً معلوم تھا کہ آئندہ دور الحاد آنے والا ہے۔ اس لیے اس کی نصرت دوبارہ متحرک ہوئی۔ پچھلے ہزا ر سالہ عمل کے دوران اس نے دوبارہ ایسے حالات پیدا کرنے شروع کیے جو بالآخر غلبۂ توحید کی جدو جہد کے لیے موافق زمین کا کام کر سکیں ۔ یہ عمل اب اپنی تکمیل کے مرحلہ میںپہنچ گیاہے۔ آج اگر چہ بظاہر الحاد کا غلبہ ہے مگر وہ موافق حالات پوری طرح پیدا ہو چکے ہیں جن کو استعمال کر کے دو بارہ توحید کو غالب فکر کا مقام دیا جاسکے۔

1۔ حضرت ابراہیم نے تقریباً چار ہزار سال پہلے قدیم عراق کے دار السلطنت اُر(Ur) کے لوگوں کو پکارا کہ ایک خدا ہےجو نفع و نقصان کا مالک ہے۔ خدائی میں کوئی اس کا شریک نہیں ۔ اسی لیے تم اسی سے حاجتیں مانگو اور اسی کی پرستش کرو۔ اس دعوت توحید کے خلاف اس وقت کے مشرک بادشاہ نمر و د کلدانی نے اتنا سخت رد عمل ظاہر کیا کہ آپ کو آگ کے الاؤ میں ڈال دیا۔ آج بھی دنیا کے ہر ملک میں شرک کا عقیدہ پایا جاتاہے۔ لیکن آج آپ کسی ملک میں دعوت ابراہیمی کو لے کر اٹھیں تو موجودہ زمانہ کا کوئی حکمراں آپ کے ساتھ اس قسم کا شدید سلوک نہیں کرے گا۔

اس کی وجہ فلسفۂ حکومت کی تبدیلی ہے۔ نمرود کے زمانہ میںشرک ایک سیاسی عقیدہ کی حیثیت رکھتاتھا۔ جب کہ آج و ہ صرف ایک محدود مذہبی عقیدہ ہے۔ قدیم زمانہ میں عام طور پر مشرکانہ نظریۂ سیاست دنیا میں رائج تھا۔ نمرود، دور قدیم کے دوسرے بادشاہوں کی طرح، اسی قسم کے نظر یہ کی بنیاد پر حکومت کرتاتھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے۔ اس لیے وہ دوسروں سے برتر ہے اور اس کو دوسروں کے اوپر حکمرانی کرنے کا فوق الفطری حق حاصل ہے۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ کے حکمراں اس قسم کے نظر یۂ حکومت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ انہوں نے عوامی رائے کی بنیاد پر اپنے لیے حکمرانی کا حق حاصل کیا ہے، نہ کہ کسی فوق الفطری عقیدہ کی بنیاد پر۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کی دعوت میں موجودہ حکمرانوں کو اپنے اقتدار کے لیے کوئی خطره نظر نہیں آتا۔ جب کہ نمر و د اور دور قدیم کے دوسرے بادشاہوں کو توحید کا عقیدہ پھیلنے میں اپنی سیاسی جڑ کٹتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم زمانہ میں جب کوئی پیغمبر اٹھتا تو اکثر پہلے ہی مرحلہ میں وقت کے اقتدار سے اس کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا اور غیر ضروری قسم کی مشکلات اس کی راہ میں حائل ہو جاتیں ۔ اس کی وجہ سیاسی ادارہ کے ساتھ فوق الطبیعی عقائد کی یہی وابستگی تھی۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ عوام کو یہ یقین دلاکر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں، خدا ان کے اندر حلول کر آیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب توحید خالص کی آواز بلند ہوتی تو ان کو نظر آتا کہ وہ ان کے سیاسی استحقاق کو بے اعتبار بنا رہی ہے۔ یہ اعتقادی پیچیدگی ان کو داعیِ حق سے ٹکرادیتی تھی۔ اسلام نے ثابت کیا کہ ہر قسم کی فوق الفطری حیثیت صرف خدا کو حاصل ہے۔ اس نے اعلان کیا کہ تمام انسان برابر ہیں، ایک کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ۔ اس طرح اسلام نے سیاسی ادارہ کو اعتقادیات سے جدا کر دیا۔ اب حکومت کرنے کا حق کسی کو عوامی رائے سے ملتا تھا، نہ کہ خدا سے کسی قسم کے پُرا سرار رشتہ کی بنیاد پر۔

اس کی مثال ایسی ہے جیسے قدیم زمانہ میں کچھ لوگ یہ بات مشہور کر کے اپنا طبی کا روبار چلاتے تھے کہ انہوں نے ایک جن کو مسخر کر رکھا ہے اور وہ ان کے پاس آکر ان کو فن طب کے رموز بتاجاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص یہ آواز بلند کر ے کہ علم طب میڈیکل کالج میں سکھایا جاتا ہے نہ کہ جنات کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے تو مذکورہ قسم کے طبیب ایسے شخص کے سخت مخالف ہو جائیں گے۔ مگر موجودہ زمانہ کے ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو ایسی تحریک سے کوئی عداوت نہ ہوگی۔

2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے انقلاب کے ذریعہ تاریخ کا رخ موڑ نے کا عمل ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہواتھا۔ اب وہ اپنی انتہا کو پہنچ چکاہے۔ دین کے داعیوں کے لیے اب خود انسانی اسلحہ خانہ میں ہر قسم کےتائیدی اسباب موجود ہیں۔ جد ید قانونی اور سماجی تبدیلیوں نے اب اس کا موقع دے دیا ہے کہ دعوت دین کا کام کھلے طور پر کیا جائے اور کوئی فرعون یا نمر ود اس کا راستہ روکنے کے لیے میدان میں موجود نہ ہو۔ حقائق کی دنیا جو اب انسان کے علم میں آئی ہے اس نے ایسے دلائل جمع کردیے ہیں ، جو دین کی صداقت کو خالص علمی طور پر ثابت شدہ بنا سکیں ۔

موجود ہ زمانہ میں ایک عظیم فکری انقلاب آیاہے۔ یہ انقلاب وہی ہے جس کو عام طورپر سائنسی انقلاب کہا جاتاہے۔ جدید سائنسی انقلاب نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسی فکری تبدیلیاں پید اکی ہیں جو دعوت توحید کے عین موافق ہیں ۔ا ن کو مناسب طورپر استعمال کیا جائے توصرف قلمی اور لسانی تبلیغ کے ذریعہ غلبۂ توحید کا وہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے پچھلے زمانوں میں تلوار اٹھانی پڑتی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنسی انقلاب زمانۂ رسالت کے اسلامی انقلاب کا ایک ضمنی حاصل ( by-product) ہے۔ اللہ نے پیغمبر آخر الزماںکے لائے ہوئے انقلاب کےذریعہ ایسے اسباب پیدا کیے، جنہوں نے تاریخ کے اندر اپنا عمل شروع کیا۔ تبدیلی کا یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ اس انقلاب تک پہنچا جس کو جدید سائنسی انقلاب کہا جاتاہے۔ گویا خدا نے صدر اول میں شرک کے اوپر توحید کوغلبہ دیا تو اسی کے اندر وہ اسباب بھی پیدا کردیے جو بعد کےزمانہ میں الحاد پر توحید کو غالب کرنے میں مددگار بن سکیں ۔

اسلام کے ذریعہ آنے والے توحیدی انقلاب سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ شرک دراصل مظاہرپرستی کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کی ہر چیز جونمایاں نظر آئی اسی کو انسان نے پوچنا شروع کر دیا۔ خواہ وہ آسمان کا سورج ہو یا زمین کا بادشاہ۔ اس وجہ سےدور شرک میں سائنسی تحقیق کا کام ممکن نہ ہوسکا۔ آرنلڈٹوائن بی (1889-1975ء)کے الفاظ میں، فطرت کے مظاہر اس وقت پر ستش کا موضوع (object of worship)بنے ہوئے تھے، پھر وہ تحقیق کا موضوع (object of investigation) کیسے بنتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام نےشرک کو مغلوب کر کے توحید کو غالب کیا تو ایک خدا کے سوا ہر چیز مخلوق نظر آنے لگی، اس انقلاب نے یہ ممکن بنا دیا کہ چیزوں پر تحقیق کا عمل جاری کیا جاسکے۔ یہ عمل ابتدائی صورت میں دور اول ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ ایک بار چاند گرہن کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ وہ کسی بڑے آدمی کی پیدائش یا موت کی بناپر نہیں ہوتے۔ اس طرح آپ نے مادی بڑائی کی بھی نفی کردی اور انسانی بڑائی کی بھی۔ یہ فکری لہر عقیدہ سے الگ ہو کر یورپ پہنچی اوربالآخر جدید انقلاب کا سبب بنی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

1۔ اس انقلاب کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ تو ہماتی دور کا خاتمہ ہوگیا۔ تو ہم پرستی کیا ہے۔ تو ہم پرستی نام ہے حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے بجائے مفروضات و قیاسات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کا۔مثلاً یہ فرض کر لینا کہ جب کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو سورج یا چاند گہنا جاتے ہیں۔یہ ذہن اسلام کی طرف بڑھنے میں سب سےبڑی رکاوٹ ہے۔ ایسا آدمی حقائق واقعی کی بنیاد پر اسلام اور غیر اسلام کا جائزہ نہیں لیتا بلکہ پیشگی مفروضات کی بنیاد پر بلا دلیل ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط مان لیتا ہے۔ مثلاً اسلام تاریخی طور پر ایک مستنددین ہے اور دیگر تمام مذاہب تاریخی استنا د سے محروم ہیں۔ مگر تو ہمات کے دور میں انسان اس کو اہمیت نہیں دے پاتاتھا۔ جدید دور نے اس کو پوری اہمیت کےساتھ لیا۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں تنقید عالیہ (higher criticism)کے نام سے ایک مستقل فن وجود میںآگیا ہے۔ اس فن کے تحت یہ حقیقت پوری طرح مسلم ہوگئی ہے کہ تاریخی طور پر معتبر دین صرف اسلام ہے۔ دوسرے ادیان کو تاریخی اعتباریت کا درجہ حاصل نہیں۔

2۔ سائنسی ذہن نے کائنات کو تجربہ اور مشاہدہ کی روشنی میں جاننے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجہ میں کائنات میں چھپے ہوئے ایسے فطری حقائق انسان کے علم میں آئے جو اسلام کی تعلیمات کی تصدیق اعليٰ سطح پر کر رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر انسان کی تحقیق نے بتایا کہ کائنات میں ہر جگہ ایک ہی قانون فطرت کا ر فرما ہے۔ جو قانون زمین کے احوال پر حکمراں ہے وہی قانون کائنات کے دور دراز مقامات پر بھی حکمراں ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اس کائنات کا خدا صر ف ایک ہے۔ دوخدایا بہت سے خداؤں کی اس کائنات میں گنجائش نہیں۔

3۔ دین توحید کو قدیم زمانہ میں اختیار کرنے کے لیے، ایک علمی رکاوٹ، قدیم فلسفہ بھی تھا۔ قدیم زمانہ میں فلسفہ کو غالب علم کا مقام حاصل تھا۔ تعلیم یافتہ طبقہ کے سوچنے کی ذہنی زمین اس زمانہ میں فلسفہ ہوتا تھا۔ اس کے نتیجہ میںدین توحید کی راہ میں ایک بہت بڑی مصنوعی رکاوٹ حائل ہوگئی تھی۔

قدیم فلسفہ کا آخری نشانہ ہمیشہ سے آخری سچائی کی تلاش رہاہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریباً پانچ ہزار سال کی شان دار تاریخ کے با وجود فلسفہ اپنے نشانہ تک پہنچنے میں مکمل طور پر نا کام رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فلسفہ انسان کی محدود یتوں (limitation) کا ادراک نہ کرسکا۔ وہ آخری سچائی تک پہنچنے کے لیے ساری کوششیں صرف کرتا رہا۔ جب کہ انسان اپنی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے بطور خود آخری سچائی تک پہنچ ہی نہيں سکتا تھا۔

اس فلسفیانہ طرز فکر کی وجہ سے ہزاروں برس تک انسان یہ چاہتا رہا کہ دین توحید کی بنیاد جن اساسی عقائد پر قائم ہے اس کو انسان کے لیے مکمل طو ر پر معلوم اور مشاہد بنا دیا جائے۔ مگر یہ تمام غیبی حقیقتیں تھیں اور انسان اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ ان غیبی حقیقتوں کا کامل ادراک نہیں کرسکتا۔

جدید سائنس کا، دینی نقطۂ نظر سے، سب سے بڑا کا رنامہ یہ ہے کہ اس نے اس مفروضہ کو ڈھادیا۔ اس نے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا کہ انسان کی صلاحیتیں محدود ہیں ۔ وہ اپنی محدودیت کی وجہ سے حقیقت کا کلی ادراک نہیں کرسکتا۔ قدیم فلسفہ کی پیدا کردہ ذہنی زمین اب ساری دنیا میں دفاعی حیثیت کے مقام پر جا چکی ہے اور اب سائنس کی دریافت کردہ ذہنی زمین کو علمی دنیا میں غالب مقام حاصل ہے۔

ذہن کی اس تبدیلی نے دین توحید کے لیے راستہ صاف کر دیا ہے۔ اب اس نقطۂ نظر کو، کم از کم بالو اسطہ طورپر، مکمل علمی تائید حاصل ہے کہ انسان کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ حقیقت اعلیٰ کو پانے کے لیے وہ پیغمبر کی اطلاع کا اعتبار کرے۔ اب یہ مطالبہ سراسر غیر علمی مطالبہ بن چکا ہے کہ خدا اور وحی اور آخرت کو ہماری آنکھوں سے ہمیں دکھاؤ، اس کے بعد ہی ہم اس پر ایمان لائیں گے۔

معلوم تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ خود علم انسانی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ انسان کا علم محدود ہے اور ہمیشہ محدود رہے گا۔ انسان سائنسی ذرائع سے جب کائنات کی کھوج کرتاہے تو اس پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ کائنات اس سے زیادہ پیچیدہ ہے کہ انسان کا محدود ذہن اس کا احاطہ کر سکے۔ سائنس کی یہ دریافت اسلامی نقطۂ نظر سے بے حد اہم ہے۔ کیونکہ اس سے رسالت کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ ایک طرف انسان کا یہ حال ہے کہ وہ حقیقت کو آخری حدتک جان لینا چاہتا ہے۔ دوسری طرف انسان اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ایسی محدود یت کا شکار ہے کہ وہ کبھی بھی حقیقت کو آخری حدتک نہیں جان سکتا۔ انسانی زندگی کا یہ خلا واضح طورپر یہ بتاتا ہے کہ اس کو ایک برتر رہنما کی ضرورت ہے۔ اسی برتر رہنما کا دوسرا نام پیغمبر ہے۔ انسانی محدودیت کے بارے میں سائنس کے اقرار نے پیغمبر کی ضرورت کو خالص علمی سطح پر ثابت کر دیا ہے۔

4۔ قدیم زمانہ میں انسان کو اظہار رائے کی آزادی حاصل نہ تھی۔ اس کی اصل وجہ بادشاہوں اور بڑے انسانوں کے تقدس کا عقیدہ تھا۔جو لوگ کسی وجہ سے اونچے مقام پر پہنچ جاتے ان کو مقدس سمجھ لیا جاتا۔ ان کی رائے دوسروں سے بر تر مانی جاتی۔ ان کو یہ حق مل جاتا کہ جس طرح چاہیں دوسروں کو اپنی مرضی کا پابند بنائیں۔ توحید کے انقلاب نے انسانی بڑائی کا خاتمہ کیا اور یہ اعلان کیا کہ کسی انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت نہیں ۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک نئی فکری لہر چل پڑی۔ یہی وہ فکری لہر ہے جس کی سیاسی تکمیل با لآخر یورپ میں جمہوریت کی صورت میں ہوئی۔جمہوری انقلاب نے تمام انسانوں کو برابر ٹھہرا دیا۔ ہر شخص کے لیے یہ فکری حق تسلیم کر لیا گیا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق جو چا ہے لکھے اور جو چاہے بولے۔ اس انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنادیا کہ خدا کے دین کی تبلیغ اس طرح کی جائے کہ تبلیغ کرنے والے کے لیے کسی طرح کی پکڑ دھکڑ کا اندیشہ نہ ہو۔

5۔ سائنس نے آج کے انسان کے لیے خدا کی بہت سی وہ مادی نعمتیں کھولی ہیں جو ہزاروں برس سے کائنات کے اندر چھپی ہوئی تھیں۔ ان میں اسلامی دعوت کے نقطۂ نظر سے سب سے اہم جدید ذرائع مواصلات ہیں۔ پریس، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اسی طرح مختلف قسم کی تیز رفتا ر سواریاں۔ یہ چیزیں اسلام کے حق میں عظیم نعمتیں ہیں ۔ ان کو استعمال کر کے اسلامی دعوت کو عالمی سطح پر پھیلایا جاسکتاہے۔

یہ مواقع جو عین اسلامی دعوت کے حق میں ہیں، پچھلے ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔ پچھلے زمانہ میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے ڈھائی ہزار سالہ عمل کے ذریعہ اسلام کےغلبۂ او ل کے حالات فراہم کیے، اسی طرح اس نے دوبارہ ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں اسلام کے غلبۂ ثانی کے حالات فراہم کردیے ہیں ۔ تاہم یہ حالات و مواقع خود اپنے زور پر واقعہ نہیں بن جائیں گے۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کے لیے زندہ انسانوں کی ایک جماعت درکار ہے۔ ایسی ایک جماعت اگر کھڑی ہو جائے تو قریبی مستقبل میں اسی طرح دوبارہ اسلام کو فکری غلبہ مل سکتا ہے جس طرح قرن اول میں اس کو شرک کے مقابلہ میں فکری غلبہ حاصل ہواتھا۔

اوپر جن امکانات کا ذکر ہوا وہ تقریباً ایک سو سال سے ایسی کسی جماعت کا انتظار کر رہے ہیں مگر بد قسمتی سے ایسی کوئی جماعت ابھی تک کھڑی نہ ہو سکی۔ اس میں شک نہیں کہ پچھلے سو سال کے اندر ہمارے یہاں بے شمار جماعتیں اور تحریکیں اٹھی ہیں۔ مگر یہ تحریکیں وقتی حالات، خصوصاً سیاسی حالات کے رد عمل کے طور پر اٹھیں، نہ کہ اس ربانی شعور کے تحت جو پچھلے ہزار سال سے تاریخ کے اندر کام کرتا رہاہے اور چود ھویں صدی ہجری میں اپنی تکمیل کو پہنچاہے۔

سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ بدر کے میدان میں جب طاقت و راہل کفر بظاہر کمزور اہل ایمان کے اوپر ٹوٹ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدت احساس کے تحت سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعا ئیں مانگنے لگے۔ اس نازک لمحہ میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے ان میں سے ایک جملہ یہ تھااللَّهُمَّ إِنَّكإِن تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَا تُعْبَدُ بَعْدَهَا فِي الأرض(سيرت ابن كثير، جلد 2، صفحه 411)۔خدایا، اگر یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کوئی مبالغہ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سو تیرہ روحیں جو بے سر و سامانی کے باوجود بدر کے معرکہ میں کھڑی ہوئی تھیں۔ یہ محض عام قسم کے تین سوتیرہ لوگ نہ تھے۔ یہ عصا بہ دراصل وہ گر وہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اسی طرح آج دوبارہ ایک نیا عصابہ (گروہ ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔ جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو۔ جو اپنے کردار کے اعتبار سے ان امکانات کو واقعہ بنانے کا اٹل ارادہ اپنے اندر لیے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حدپر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے، کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیںجو خدا کے کاگ (cog)میں اپنا کاگ (cog) ملائیں گے۔ اور بالآخر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content