Maulana Wahiduddin Khan
17 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

ہیرووں کی نرسری

Urdu · 17 min

ہیروؤں کی نرسری

سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ غزوۂ بدرکے موقع پر 313بظاہر کمزور اہل ایمان پر ایک ہزار طاقتور اہل کفرٹوٹ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدت احساس کے تحت سجدہ میں گر پڑے۔ اس وقت آپ میدان جنگ کے کنارے ایک عریش (چھپر) کے اندر تھے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے نصرت وحمایت کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ اس نازک لمحہ میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے، ان میں سے ایک جملہ یہ تھا

other sourceWords of another person or source

اللَّهُمَّ إِنّكَ إِنَّ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَا تُعْبَدُ بَعْدَهَا فِي الارض(السیرۃ النبویہ لابن کثیر، جلد 2، صفحہ411)۔يعني، خدایا، یہ گر وہ اگر آج ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی۔

hadithQuotes a hadith

یہ کلمہ کوئی مبالغہ کا کلمہ نہ تھا،بلکہ ایک واقعہ کا سادہ اظہار تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سو تیرہ روحیں جو بدر کے میدان میں حق کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلی تھیں، وہ محض عام قسم کے تین سو تیرہ لوگ نہ تھے۔ یہ العصابہ دراصل وہ گر وہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ڈھائی ہزار سال کے دوران مخصوص حالات کے اندر ایک زندہ قوم تیار کی گئی۔ پھر اس زندہ قوم سے چھانٹ کر ایک گروہ نکالا گیا جو قرآن کے الفاظ میں’’ خیرامت ‘‘ تھا۔ یہی وہ تاریخی گروہ تھا جو اس وقت خونخوار دشمنوں کی تلواروں کے سامنے کھڑ ا ہوا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں جو واقعات پیش آتے ہیں وہ اسباب و علل کے پردہ میں پیش آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے اگر یہ العصا بہ ہلاک ہو جائے تو موجودہ دنیا میں خدا کی سنت کےمطابق دوبارہ نئے ’’ڈھائی ہزار سال‘‘ درکار ہوں گے جن کی گرد شیں ازسر نو جاری ہوں اور اسباب کے سلسلوں سے گزر کر بالآخر وہ افراد تیار ہوں جو مطلوبہ کا رنامہ انجام دینے کے لیے ضروری ہیں ۔

موجودہ زمانہ میں اسلام کا غلبہ، بالفاظ دیگر نبوت محمدی کے اظہار ثانی کے لیے، آج دوبارہ ایک العصابہ درکار ہے۔ یہ العصابہ وہ ہوگا جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔ جو اس بات کا عرفان کامل رکھتا ہو کہ پچھلے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں خدانے اسلام کے لیے کیا کیا موافق حالات پیدا کیے ہیں اور کن حکمتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں اسلام کے حق میں استعمال کیا جاسکتاہے۔

یہ گروہ وہی ہوسکتاہے جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو۔ جو اپنے کردار کے اعتبار سے اِن امکانات کو واقعہ بنانے کی اہلیت اپنے اندر ليے ہوئے ہو۔ جس کا وجود اور اسلام کا غلبۂ ثانی دونوں اس طرح ایک ہو جائیں کہ بظاہر ایک کو دوسرے سے جدانہ کیا جاسکتاہو۔ اسی قسم کے ایک العصابہ نے پہلے دور میں اسلام کو غالب کیاتھا اور آج بھی اس قسم کا ایک العصابہ دوبارہ اسلام کو غالب کرے گا۔ دوسری کوئی صورت موجودہ عالم اسباب میں اسلام کے غلبہ کے لیے نہیں ہے۔

پروفیسر فلپ ہٹی (1886-1978ء)نے اپنی کتاب تاریخ عرب میں لکھاہے — پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد ایسا معلوم ہو ا جیسے عرب کی بنجر زمین جادو کے ذریعہ ہیرؤوں کی نرسری میں تبدیل کر دی گئی ہو، ایسے ہیروجن کی مانند، تعداد یا قابلیت میں کہیں اورپانا سخت مشکل ہے

other sourceWords of another person or source

After the death of the prophet sterile arabia seems to have been converted as if by magic into a nursery of heroes the like of whom both in number and quality is hard to find anywhere. (Philip K. Hitti, History of the Arabs (1979), p. 142)

other sourceWords of another person or source

دنیا میں اسلام کا غلبہ ایک کامل فکری نظام کے مقابلہ میں دوسرے کامل فکری نظام کا غلبہ ہے۔ یہ تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ ہے جس کو وقوع میں لانے کے لیے ’’ہیروؤں کی نرسری ‘‘ درکارہے۔ قدیم دورِ شرک میں اسلام کا غلبہ ہیرؤوں کی نرسری کے ذریعہ انجام پایاتھا۔ اب دورِ الحاد میں اسلام کا غلبہ دوبارہ ہیروؤں کی ایک نرسری کے ذریعہ انجام پائے گا۔ قانون قدرت کے مطابق جو شرط پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کے ليے ضروری تھی وہ بعد کے لوگوں کے لیے آخر کس طرح ساقط ہو جائے گی۔

زمانۂ رسالت کےمسلمانوں نے دین کو زندہ کرنے کے لیے جد وجہد کی تھی۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نےبھی دین کو زندہ کرنے کے نام پر زبر دست کوششیں کی ہیں ۔ اگر مجرد ظاہری مقدار کے پہلو سے دیکھا جائے تو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی کوششیں دور اول کے مسلمانوں کی کوششوں سے کم نہیں ہیں ، بلکہ کچھ زیادہ بڑھی ہوئی ہیں ۔ جان کی قربانی، مال و دولت کا خرچ، زبان و قلم کا استعمال، زمین میں دوڑ دھوپ، یہ سب چیزیں مسلمانوں کی حالیہ جدو جہد میںاتنی زیادہ دکھائی دیتی ہیں کہ خالص مقدار کے اعتبار سے وہ ماضی سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ مگر جہاں تک نتیجہ کا تعلق ہے، دونوں کے درمیان کوئی نسبت نہیں۔ ماضی کی اسلامی کوششوں نے تاریخ کے دھارے کو بدل دیاتھا۔جب کہ موجودہ زمانہ کی کوششوں نے صرف ہماری بربادی میں اضافہ کیا ہے۔

یہ فرق اس نفسیاتی فرق کی وجہ سے ہے جو دونوں کے درمیان پایاجاتاہے۔ اور وہ یہ کہ زمانۂ رسالت کے مسلمانوں کو احساس ِ یافت نے ابھار اتھا اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو احساس محرومی نے ابھاراہے۔ زمانۂ رسالت کے مسلمان کس نفسیات کے تحت ابھرے تھے، اس کی ایک کامیاب تصویر اس تقریر میں ملتی ہے جوحضرت جعفر بن ابی طالب نے شاہ حبش نجاشی کے دربار میں کی تھی۔ اس تقریر کے مطابق اسلام ان لوگوں کے لیے جاہلی زندگی کے مقابلہ میں شعوری زندگی اختیار کرنے کے ہم معنی تھا۔ انہوں نے شرک کے مقابلہ میں توحید کو دریافت کیا تھا۔ انہوں نے بےرہنمائی کےمقابلہ میں پیغمبرانہ رہنمائی کو پایا تھا۔ انہوں نےدنیا کے مقابلہ میں آخرت کو پایا تھا۔ انہوںنے بے قید اخلاقیات کے مقابلہ میں ذمہ دارانہ اخلاقیات کو پایا تھا۔ انہوں نے ظلم کے مقابلہ میں عدل و انصاف کو پایا تھا۔ مگر جہاں تک موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا تعلق ہے ان کا معاملہ سراسر اس سے مختلف ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زمانۂ رسالت کے مسلمانوں کے جذبات میں اس احساس نےہیجان بر پاکیا تھاکہ ’’ہم نے پایا ہے ‘‘۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اندر جس چیز نے ہیجان بر پا کیا وہ صر ف یہ احساس تھا کہ ہم نے کھویا ہے

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام تحریکیں اسی محرومی اور مظلومی کے احساس کے تحت ابھری ہیں۔ ایک اور دوسری تحریک میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف یہ کہ ایک اس کو سادہ انداز میں بیان کر رہی ہے اور دوسری مفکر انہ انداز میں۔ کسی کے یہاں قومی الفاظ بولے جارہے ہیں اور کسی کے یہاں مذہبی الفاظ۔

یونانی فلسفی ارشمیدس (Archimedes, d. 212 BC)نے کشش ثقل کا ایک قانون، بائنسی (law of buoyancy) دریافت کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اتنا سرشار ہوا گویا اس نے سب کچھ پالیا ہے۔ شاہِ ایران محمدرضا پہلوی (1919-1980ء) نے صرف حکومت کھوئی۔ مگر ان کا یہ حال ہوا گویا انہوں نے سب کچھ کھودیا ہے۔ دریافت ہو یا محرومی، دونوں کی نفسیات یہ ہے کہ آدمی اسی چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دینے لگتا ہے جس کو اس نے پایا ہےیا جس کو اس نے کھو دیاہے۔

اس نفسیات کا یہ نتیجہ ہوتاہے کہ ’’دریافت ‘‘ آدمی کی فکری قوتوں کو پوری طرح جگادیتی ہے۔ وہ کامل طورپر ایک زندہ انسان بن جاتا ہے۔ اس کے حوصلوں کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ اس کے برعکس جب کسی آدمی پر ’’محرومی‘‘ کا احساس چھاتا ہے تو اس کی ذہنی اور عملی قوتیں ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہیں۔ بظاہر زندہ ہونے کے باوجود اندر سے وہ ایک مردہ انسان بن جاتاہے۔ دور قدیم میں ہمارے اسلاف احساس یافت پر ابھرے تھے اس لیے ان کی بیداری اس نوبت تک پہنچی کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ موجودہ زمانہ میں ہماری نسلیں احساس محرومی پر ابھری ہیں ۔ چنانچہ ان کی بے شعوری اور پست حوصلگی اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ تاریخ میں شاید اس کی بھی کوئی دوسری مثال نہیں ملے گی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ یافت کے جذبہ سے مثبت اخلاقیات ابھرتی ہیں اور محرومی کے جذبہ سے منفی اخلاقیات۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوراول کے مسلمانوں کے لیے ان کا اسلام ان کے اندر اعلیٰ کردار پید اکرنے کا ذریعہ بن گیاتھا۔ وہ حق کے آگے جھک جاتے تھے۔وہ دوسروں کا اعتراف کرنا جانتے تھے۔ وہ جو کچھ کہتے تھے وہی عملاً کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ وہ شکایتوں کو نظر انداز کر کے لوگوں کے ساتھ معاملہ کر سکتے تھے۔ وہ جذبات سے ہٹ کر خالص عقلی فیصلہ لینے کی طاقت رکھتے تھے۔ وہ ردعمل کی نفسیات سے پاک ہو کر سو چنا جانتے تھے۔

منفی احساسات، اس کے بر عکس، منفی اخلاقیات پیدا کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے رہنما صرف ان کے جذبات ہوتے ہیں۔ وہ بالکل قدرتی طور پر جھنجھلاہٹ اور نفرت کا شکار رہتے ہیں ۔ حقیقت پسندی کی باتیں ان کو اپیل نہیں کرتیں۔ وہ ہمیشہ اختلاف اور انتشار میں مبتلا رہتے ہیں ۔ ان کے اندر حق کا اعتراف کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ وہ اگر ہا ر جائیں تو اپنی ہا رماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ اگر کامیاب ہوں تو ان کا بگڑا ہو اذہن بہت جلد ان کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے کل اور آج میں وہ عظیم الشان فرق پید اکر دیا ہے جس کو ہم دیکھ رہے ہیں۔

پیغمبر اسلام کا لایا ہوا انقلاب مثبت اخلاقیات کی زمین پر ابھر اتھا۔ اب اگر کچھ لوگ یہ چاہیں کہ اس انقلاب کو منفی اخلاقیات کی زمین سے بر پا کر یں تو انہیں اپنے لیے دوسرا خدا تلاش کرنا چاہیے اور اسی کے ساتھ دوسرا پیغمبر بھی۔

پیغمبراسلام کو خدا کی طرف سے یہ مشن دیا گیا کہ وہ لوگوں کو توحید کا پیغام پہنچائیں۔ یعنی یہ کہ خدا صرف ایک ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ ہر اعتبار سے خدا رُخی زندگی گزارے۔ یہی انسان کی نجات کا راستہ ہے۔قرآن میں اس مشن کو تزکیۂ نفس کا مشن بتایا گیا ہے۔ اس کے حصول کا ذریعہ سیاسی انقلاب نہیں ہے، بلکہ ذہنی انقلاب ہے۔ یہ مقصد صرف انسان کی فكري قوت کو بیدار کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس معاملے ميں پیغمبر اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ دوسرے پيغمبروں كے برعكس، آپ کے ذریعے توحید کا مشن انقلاب كے درجے تک پہنچا۔ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے ذریعے وہ تمام انفرادی، سماجی اور سیاسی تبدیلیاں وقوع میں آئیں، جن کے مجموعے کو انقلاب کہا جاتا ہے۔ مؤرخين نے عام طور پر اس كا اعتراف كيا هے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ پیغمبر اسلام کے اس عظیم انقلاب کا راز کیا تھا۔ زیرِ نظر کتاب پیغمبر اسلام کے اِسی پہلو کا تعارف ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content