درخت کی طرح آگے بڑھنا
قرآن میں انجیل اور تورات کے دو حوالوں کا ذکر ہے۔ تورات کا حوالہ صحابہ کرام کے انفرادی اوصاف سے متعلق ہے۔ اس کے بعد انجیل کے حوالے سے ا ن کی اجتماعی صفت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے
وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا(48:29)۔ اور انجیل میں ان کی مثال یوں ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو۔ اس نے نکالا اپنا انکھوا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹا ہوا، پھر اپنے تنہ پر کھڑا ہوگیا۔ اچھا لگتا ہے کسانوں کو تاکہ منکروں کا دل ان سے جلائے۔ اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔
موجودہ انجیل میں یہ تمثیل ان لفظوں میں ہے — اور اس نے کہا، خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں بیج ڈالے اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے۔ اور وہ بیج اس طرح اُگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے۔ زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے۔ پتی، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے۔ پھرجب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتاہے۔ کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا (مرقس 4:26-32)۔
انجیل اور قرآن کی اس تمثیل میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے اصحاب کا اجتماعی ارتقا، درخت کی مانند ہوگا۔ اس کا آغاز بیج سے ہوگا، پھر وہ دھیرے دھیرے بڑھے گا اور اپنا تنہ مضبوط کرتے ہوئے اوپر اٹھے گا۔ یہاں تک کہ فطری رفتار سے تدریجی ترقی کرتے ہوئے اپنے کمال کو پہنچ جائے گا۔ اس کی ترقی اتنی شان دار ہوگی کہ ایک طرف اہل ایمان اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوں گے اور دوسری طرف دشمن دانت پیس رہے ہوں گے کہ اس کا معاملہ اتنا مضبوط ہے کہ اس کے خلاف ہمارا کچھ بس نہیں چلتا۔
اسلام کو درخت کی طرح ترقی دینے کے لیے خدا کا یہ منصوبہ تھا جو صحابہ کرام کے ذریعہ انجام پایا۔ تاہم یہ کوئی آسان معاملہ نہ تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ وہ جلد بازی کے بجائے صبر کو اپنا طریقہ بنائیں۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ فوری محرکات کے تحت وہ کوئی اقدام نہ کریں ۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ وہ اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے قوانین فطرت کی پیروی کریں ۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ وہ اس سے بے پروا ہو کر کام کریں کہ نتیجہ ان کی زندگی میں سامنے آتا ہے یا ان کے بعد۔ ’’درخت اسلام ‘‘ کو اگانے کے لیےضرورت تھی کہ وہ اپنے جذبات کو کچلیں اور اپنی امنگوں کو دفن کردیں۔ صحابہ کرام نے یہ سب کیا۔ انہوں نے کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدائی اسکیم کے حوالہ کردیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ زمین میں خدا کا دین ایک ایسے ابدی باغ کی صورت میں کھڑا ہو گیا جس کو ساری دنیا مل کر بھی مٹانا چاہے تو نہ مٹا سکے۔
حصہ چہارم
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔