احد کی لڑائی اسلام کی تمام جنگوں میں سب سے زیادہ سخت لڑائی تھی۔ قریش کے تمام جنگی جوان غصہ میںبھرے ہوئے مسلمانوں کے اوپر ٹوٹ پڑے تھے۔ عین اس وقت جب کہ قتل و خون کا معرکہ گرم تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لی اور کہا کہ کون اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے گا۔ کچھ لوگ آپ کی طرف بڑھے۔ مگر آپ نے انہیں تلوار نہ دی۔ پھر ابو دجانہ سامنے آئے اور پوچھا کہ اے خدا کے رسول اس تلوار کا حق کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم اس سے دشمن کو مارو یہاں تک کہ اس کوٹیڑھا کر دو (أَن تشرب بِهِ الْعَدُوَّ حَتَّى يَنْحَنِيَ)۔ ابودجانہ نے کہا کہ میں اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتاہوں۔ چنانچہ آپ نے انہیں تلوار دے دی۔
حضرت ابو دجانہ تلوار لے کر چلے۔ اس وقت ان پرایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ اکڑ کر چلنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اس قسم کی چال خدا کو پسند نہیں سوا ایسے موقع کے ( إنَّهَا لمشية يبغضها انه، إلَّا فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 66۔
ابو دجانہ نے اپنے سر پر لال کپڑا باندھ لیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ موت سے نڈر ہو کر جنگ کے لیے نکل پڑے ہیں۔ وہ انتہائی بہادری کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ جو بھی ان کے سامنے آتا وہ ان کی تلوار کا نشانہ بن جاتا۔ اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا۔ جس کو خود ابو د جانہ ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں
رَأَيْتُ إِنْسَانًا يَحْمِشُ النَّاسَ حَمْشًا شَدِيدًا، فَصَمَدْتُ لَهُ، فَلَّمَا حَمَلْتُ عَلَيْهِ السَّيْفَ وَلْوَلَ، فَاذَا امْرَأَةٌ، فَأَكْرَمْتُ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَضْرِبَ بِهِ امْرَأَةً (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 69)۔يعني، میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بری طرح لوگوں کو جنگ پر ابھار رہاتھا۔ میں اس کی طرف لپکا۔ جب میں نے اس پر تلوار اٹھالی تو اس نے کہا یا ویلاہ (ہائے تباہی)۔ اب میں نے جانا کہ یہ ایک عورت ہے۔ تومیں نے خدا کے رسول کی تلوا ر کو اس سے پاک رکھا کہ اس سےمیں کسی عورت کو قتل کروں۔
اس واقعہ کوایک صحابی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں
پھر میں نے دیکھا کہ ان کی تلوار ہند بنت عتبہ کے سرپر اٹھ گئی ہے مگر اس کے بعد انہوں نے اپنی تلواراس سے ہٹالی (ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَدْ حَمَلَ السَّيْفَ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِ هِنْدِ بِنْتِ عُتْبَةَ، ثُمَّ عَدَلَ السَّيْفَ عَنْهَا)سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 69۔ جنگ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات میں سے ایک ہدایت یہ تھی کہ عورتوں، بچوں او ربوڑھوں کو نہ مارا جائے۔ حضرت ابو دجانہ نے عین قتل و خون کے ہنگامہ میں اس کو یاد رکھا اور اپنی چلی ہوئی تلوار کو درمیان سےروک لیا۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کو اپنے جذبات پر کتنا زیادہ قابو تھا۔ ان کے افعال ان کےشعور کے ماتحت تھے نہ کہ ان کے جذبات کے ماتحت۔ وہ انتہائی اشتعال انگیز موقع پر انتہائی ٹھنڈا فیصلہ کر سکتے تھے۔ وہ غصّہ اور انتقام کی آخری حد پر پہنچ کر بھی اچانک اپناذہن تبدیل کر سکتے تھے۔ وہ ایک رخ پر پوری رفتار سے چل پڑنے کے بعد معاً اپنا رخ دوسری طرف پھیر سکتے تھے۔ یہ بظا ہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر عملاً وہ اتنی زیادہ مشکل ہے کہ اس پر کوئی ایسا شخص ہی قادر ہو سکتا ہے جو خدا سے اس طرح ڈرنے والا ہو گو یا خدا اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑاہوا ہے اور وہ اس کو اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔