رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سب سے پہلا مسئلہ خلیفہ کا انتخاب تھا۔ انصار بنو ساعدہ کی چو پال (سقیفہ) میں جمع ہو گئے۔ اس وقت سعد بن عبادہ انصار کے سب سے زیادہ ابھرے ہوئے سردار تھے۔ چنانچہ انصار میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ مقرر کیا جانا چاہیے۔ مہاجرین کو یہ خبر ملی تو ان کے ممتاز افراد تیزی سےچل کر مذکورہ مقام پر پہنچے۔ حضرت ابوبکر نےتقریر کرتے ہوئے کہا
أَمَّا مَا ذَكَرْتُمْ فِيكُمْ مِنْ خَيْرٍ، فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ، وَلَنْ تَعْرِفَ الْعَرَبُ هَذَا الْأَمْرَ إلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ، فَبَايِعُوا أَيَّهمَا شِئْتُمْ(سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحه 659)۔ يعني، (اے انصار) تم نے اپنی جس فضیلت کا ذکر کیا ہے اس کے تم اہل ہو۔ مگر عرب اس معاملہ (امارت) کو قریش کےسوا کسی اور قبیلہ کے بارے میں نہیں جانتے۔ وہ عربوں میں نسب اور مقام کےاعتبار سے سب سے بہترین ہیں۔ میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں (عمر اور ابو عبیدہ بن الجراح)میں سے کسی ایک پر راضی ہوں۔ تم دونوں میں سے جس سے چاہو بیعت کر لو۔
اس کے بعد حضرت عمر اٹھے اور انہوں نے فوراً حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرلی اور پھر تمام مہاجرین نے بیعت کی۔ اس کے بعد انصار نے بھی حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ تاہم انصار کے ایک طبقہ کے لیے یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ ایک شخص نےمہا جرین سے کہا کہ تم لوگوں نے سعد بن عبادہ کو قتل کر دیا (قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ) طبقات ابن سعد، جلد 2، صفحہ 206۔
انصار نے اسلام کے لیے بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ انہوں نے اسلام کے بے یار و مددگار قافلہ کو اس وقت پناہ دی جب کہ انھیں اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انصار اس فیصلہ پر راضی ہو گئے کہ اقتدار میں ان کا حصہ نہ ہو اور خلیفہ صرف مہاجرین (قریش) میں سے منتخب کیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ اس کے پیچھے بہت گہری مصلحت تھی۔ قریش سیکڑوں سال سے عرب کے قائد بنے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں اگر کسی غیرقریش کو خلیفہ مقرر کیا جاتا تو اس کے لیے اجتماعی نظم کو سنبھالنا نا ممکن ہو جاتا۔ یہ انصار کی حقیقت پسندی تھی کہ انہوں نے اپنی اس کمی کو جانا اور یک طرفہ فیصلہ پر راضی ہوگئے۔ تاہم یہ حقیقت پسندی کی اتنی نایاب قسم ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔