Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

پچھلی نشست پر بیٹھنے کے لیے راضی ہو جانا

Urdu · 4 min

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سب سے پہلا مسئلہ خلیفہ کا انتخاب تھا۔ انصار بنو ساعدہ کی چو پال (سقیفہ) میں جمع ہو گئے۔ اس وقت سعد بن عبادہ انصار کے سب سے زیادہ ابھرے ہوئے سردار تھے۔ چنانچہ انصار میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ مقرر کیا جانا چاہیے۔ مہاجرین کو یہ خبر ملی تو ان کے ممتاز افراد تیزی سےچل کر مذکورہ مقام پر پہنچے۔ حضرت ابوبکر نےتقریر کرتے ہوئے کہا

أَمَّا مَا ذَكَرْتُمْ فِيكُمْ مِنْ خَيْرٍ، فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ، وَلَنْ تَعْرِفَ الْعَرَبُ هَذَا الْأَمْرَ إلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ، فَبَايِعُوا أَيَّهمَا شِئْتُمْ(سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحه 659)۔ يعني، (اے انصار) تم نے اپنی جس فضیلت کا ذکر کیا ہے اس کے تم اہل ہو۔ مگر عرب اس معاملہ (امارت) کو قریش کےسوا کسی اور قبیلہ کے بارے میں نہیں جانتے۔ وہ عربوں میں نسب اور مقام کےاعتبار سے سب سے بہترین ہیں۔ میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں (عمر اور ابو عبیدہ بن الجراح)میں سے کسی ایک پر راضی ہوں۔ تم دونوں میں سے جس سے چاہو بیعت کر لو۔

other sourceWords of another person or source

اس کے بعد حضرت عمر اٹھے اور انہوں نے فوراً حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرلی اور پھر تمام مہاجرین نے بیعت کی۔ اس کے بعد انصار نے بھی حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ تاہم انصار کے ایک طبقہ کے لیے یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ ایک شخص نےمہا جرین سے کہا کہ تم لوگوں نے سعد بن عبادہ کو قتل کر دیا (قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ) طبقات ابن سعد، جلد 2، صفحہ 206۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انصار نے اسلام کے لیے بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ انہوں نے اسلام کے بے یار و مددگار قافلہ کو اس وقت پناہ دی جب کہ انھیں اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انصار اس فیصلہ پر راضی ہو گئے کہ اقتدار میں ان کا حصہ نہ ہو اور خلیفہ صرف مہاجرین (قریش) میں سے منتخب کیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ اس کے پیچھے بہت گہری مصلحت تھی۔ قریش سیکڑوں سال سے عرب کے قائد بنے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں اگر کسی غیرقریش کو خلیفہ مقرر کیا جاتا تو اس کے لیے اجتماعی نظم کو سنبھالنا نا ممکن ہو جاتا۔ یہ انصار کی حقیقت پسندی تھی کہ انہوں نے اپنی اس کمی کو جانا اور یک طرفہ فیصلہ پر راضی ہوگئے۔ تاہم یہ حقیقت پسندی کی اتنی نایاب قسم ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content