عَن المسور قَالخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً، فَأَدُّوا عَنِّي يَرْحَمْكُمُ اللهُ، وَلَا تَخْتَلِفُوا كَمَا اخْتَلَفَ الْحَوَارِيُّونَ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ دَعَاهُمْ إِلَى مِثْلِ مَا أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ، فَأَمَّا مَنْ قَرُبَ مَكَانُهُ فَإِنَّهُ أَجَابَ وَأَسْلَمَ، وَأَمَّا مَنْ بَعُدَ مَكَانُهُ فَكَرِهَهُ، فَشَكَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ذَلِك إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ...فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ نُؤَدِّي عَنْك، فابْعَثْنَا حَيْثُ شِئْتَ(المعجم الكبير للطبراني، جلد 20، صفحه 8)۔ مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے سامنے تقریر کی اور فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو تمام انسانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میری طرف سے اس ذمہ داری کو ادا کرو۔ خدا تم پر رحم کرے اور تم لوگ اختلاف نہ کرنا جس طرح عیسیٰ بن مریم کے حواریوں نے اختلاف کیا۔ انہوں نے اپنے حواریوں کو اسی چیز کے لیے پکارا جس کی طرف میں تم کو پکارہا ہوں۔ پس جس کا مقام دور تھا اس کو وہاں جانا ناگوار ہوا۔ تو عیسٰی بن مریم نے اللہ تعالیٰ سے اس کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول ہم آپ کی ذمہ داری کو اداکریں گے۔آپ ہم کو بھیجیے جہاں آپ چاہیں۔
اجتماعی کام میں رکاوٹ ڈالنے والی سب سے بڑی چیز اختلاف ہے۔ مگر صحابہ کرام کو اللہ کے خوف نے اتنا بے نفس بنا دیا تھا کہ وہ اختلافات سے بلند ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لگے رہتے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ کے زمانے میں انہوں نےعرب میں اور اطراف عرب میں آپ کی منشا کےمطابق اسلام کی دعوت پوری طرح پہنچائی۔ آپ کی وفات کے بعد وہ مال و جاہ کے حصول میں نہیں پڑے بلکہ اطراف کے ملکوں میں پھیل گئے۔ ہرصحابی کا گھر اس زمانہ میں ایک چھوٹا مدرسہ بنا ہوا تھا جہاں وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے لوگوں کو عربی سکھاتے اور قرآن و سنت کی تعلیم دیتے۔ ا س زمانہ میں ایک طرف مسلمانوں کاایک طبقہ فتوحات او ر سیاسی انتظامات میں لگا ہو اتھا۔ عام طریقہ کے مطابق اصحاب رسول کو اپنا سیاسی حصہ لینے میں سرگرم ہونا چاہیے تھا۔ مگر وہ اس سے بے پروا ہوگئے۔ انہوں نے اسلامی فتوحات کے ذریعہ پیدا ہونے والی فضا کو تبلیغ دین کے لیے استعمال کیا، اس طرح ان کے اوران کےشاگردوں کے خاموش پچاس سالہ عمل کے نتیجہ میں وہ جغرافی خطہ و جود میں آیا جس کو عرب دنیا کہا جاتا ہے، جہاں لوگوں نے نہ صرف اپنے دین کو بدلا بلکہ ان کی زبان اور ان کی تہذیب بھی بدل گئی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔