قانونی حد سے آگے بڑھ کر ساتھ دینا
شعبان 2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ قریش کے تمام سرداروں کی رہنمائی میں ایک ہزار کا لشکر مدینہ کی طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھ رہاہے۔ اس میں چھ سو زرہ پوش تھے اور اسی کے ساتھ ایک سو سواروں کا خصوصی دستہ بھی شامل تھا۔ یہ ایک بہت نازک وقت تھا۔ آپ نے مدینہ کے انصار اور مہا جرین کوجمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے یہ سوال رکھا کہ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے۔ حسب معمول اولاً مہاجرین کے ممتاز افراد اٹھے اور انہوں نے کہا کہ ا ےخدا کے رسول، آپ کا رب جس بات کا حکم دے رہا ہے اس کی طرف بڑھئے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم یہود کی طرح یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ تم اور تمہارا خدا جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ آپ اور آپ کا خدا چل کر لڑیں، ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ جب تک ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کر رہی ہے ہم آپ کا ساتھ چھوڑنے والے نہیں ۔
مگر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی اس قسم کی تقریروں کے باوجود با ر بار یہ فرما رہے تھے کہ لوگو مجھے مشورہ دو (أَشِيرُوا عَلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ)۔ چنانچہ سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، شاید آپ کا رخ ہماری طرف ہے۔ آپ نے کہا، ہاں، اس پر سعد بن معاذ نے انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا ہم آپ پر ایمان لائے۔ آپ کی تصدیق کی، اور اس بات کی گواہی دی کہ جو کچھ آپ لائے ہیں ، وہ حق ہے، اور اس پر آپ سے سمع و طاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں ، پس اے خدا کے رسول، آپ جو کچھ چاہتے ہیں اس کو کر گزرئیے، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اگر آپ ہمیں لے کر سمندر کے سامنے جا پہنچیں اور اس میں گھس جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ سمندر میں گھس جائیں گے۔ ہم میں سے ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہم کو ہر گز یہ ناگوار نہیں ہے کہ آپ ہمیں لے کر کل کےدن دشمن سے ٹکرا جائیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ مقابلہ کے وقت سچے اترنے والے ہیں ۔ شاید اللہ تعالیٰ آپ کو ہم سے وہ کچھ دکھا دے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ہم کو لے کر چلیں (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحه 615)۔ انصار کے قائد کی اس تقریر کے بعد اقدام کا فیصلہ کر لیا گیا۔
بدر کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار انصار کی طرف رخ کرنا بےسبب نہ تھا۔ اس کا ایک خاص پس منظر تھا۔ ابن ہشام اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں
وَأَنَّهُمْ حِينَ بَايَعُوهُ بِالْعَقَبَةِ، قَالُوايَا رَسُولَ اللهِإنَّا بُرَاءٌ مِنْ ذِمَامِك حَتَّى تَصِلَ إلَى دِيَارِنَا، فَإِذَا وَصَلْتَ إلَيْنَا، فَأَنْتَ فِي ذِمَّتِنَا نَمْنَعُك مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا. فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّفُ أَلَّا تَكُونَ الْأَنْصَارُ تَرَى عَلَيْهَا نَصْرَهُ إلَّا مِمَّنْ دَهَمَهُ بِالْمَدِينَةِ مِنْ عَدُوِّهِ، وَأَنْ لَيْسَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَسِيرَ بِهِمْ إلَى عَدُوٍّ مِنْ بِلَادِهِمْ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحه 615)۔یعنی،اور ایسا اس لیے ہوا کہ انصار نے جب عقبہ میں بیعت کی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ اے خدا کے رسول، ہم آپ کی ذمہ داری سے بری ہیں یہاںتک کہ آپ ہمارے دیس میں پہنچ جائیں۔ جب آپ ہمارے پا س آجائیں گے تو آپ ہماری ذمہ داری میںہوںگے اور ہم آپ کا دفاع کریں گے جس طرح ہم اپنے لڑکوں اور عورتوں کا دفاع کرتے ہیں ۔
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا کہ انصار کہیں یہ سمجھتے ہوں کہ ان پر آپ کی مدد کرنا اس وقت ہے جب کہ آپ کا دشمن مدینہ پہنچ کر حملہ کرے۔ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنی بستی سے دور جا کر مقابلہ کریں۔
انصار کی بیعت قدیم عربی اصطلاح کے مطابق بیعت نساء (دفاعی بیعت) تھی۔ اس کے مطابق مدینہ سے 80میل دور بدر کے مقام پر جاکر لڑنا ان کے لیے ضروری نہ تھا۔ مگر انصار نے اس کو اپنے لیے عذر نہیں بنایا۔ وہ قانونی حد کو توڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور بدر کے میدان میں جاکر قربانی پیش کی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔