شکایات سےاوپر اٹھ کر سوچنا
خالد بن الولید بے حد بہادر تھے۔ ان کے اندر غیر معمولی فوجی قا بلیت تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر حضرت ابو بکر کی خلافت تک وہ مسلسل اسلامی فوج کے سرداررہے۔ تاہم حضرت عمرکو ان کی بعض عادتیں پسند نہ تھیں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ ان کو سرداری کے عہدہ سے ہٹا دیا جائے۔ مگر حضرت ابو بکر نے ان کے مشورہ کو نہیں مانا۔ مگر حضرت عمر کو اپنی رائے پر اتنا اصرار تھا کہ جب وہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے حضرت خالد کو سرداری سے معزول کر کے ایک معمولی سپاہی کی حیثیت دے دی۔
اس وقت حضرت خالد شام کے علاقہ میں فتوحات کے کار نامے دکھا رہے تھے۔ عین اس وقت خلیفہ ثانی نے انہیں معزول کر کے ابو عبیدہ بن الجراح کو ان کے اوپر سردار لشکر بنا دیا۔ اس کے بعد فوجیوں کی ایک تعداد خالد بن ولید کے خیمہ میں جمع ہوئی اور ان سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ، آپ خلیفہ کا حکم نہ مانیے۔ مگر حضرت خالد نے سب کو رخصت کر دیا اور کہا کہ میں عمر کے لیے نہیں لڑتا بلکہ عمر کے رب کے لیے لڑتا ہوں (انی لا اقاتل فی سبیل عمر، و لکن اقاتل فی سبیل رب عمر)۔ وہ پہلے سردار لشکر کی حیثیت سے لڑتے تھے اوراب ایک ما تحت فوجی کی حیثیت سے لڑنے لگے۔
اس قسم کا کردار اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی اتنا اونچا ہو جائے کہ وہ شکا یتوں اور تلخیوں سے اوپر اٹھ کر سوچے۔ اس کا رویہ رد عمل کےطور پر نہ بنے بلکہ مثبت فکر کے تحت بنے۔ وہ اللہ میں جینے والا ہو نہ کہ انسانی باتوں میں جینے والا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔