غزوۂ ذات السلاسل کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاً ایک دستہ حضرت عمر و بن العاص کی سرداری میں بھیجا۔ یہ جگہ شام کے اطراف میں تھی۔ حضرت عمروبن العاص نے وہاں پہنچ کر دشمن کی تیاریوں کا حال معلوم کیا تو اپنا دستہ انہیں اس کے لیے ناکافی معلوم ہوا۔ انہوں نےایک مقام پر ٹھہر کر رسول اللہ کے پاس پیغام بھیجا کہ موجودہ فوج ناکافی ہے، مزید کمک روانہ کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین میں سے دو سو آدمیوں کا دستہ تیار کیا اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کی سر کر دگی میں اس کو روانہ فرمایا۔
حضرت ابو عبیدہ جب اپنے دستہ کو لے کر منزل پر پہنچے اور دونوں دستے ساتھ ہو گئے تو یہ سوال پیدا ہو اکہ دونوں دستوں کا امیر کون ہو۔ حضرت عمر و بن العاص نے کہا کہ دوسرا دستہ میری مدد کے لیے بھیجا گیا ہے اس لیے اصلاً میں ہی دونوں کا امیر ہوں۔ حضرت ابو عبیدہ کے ساتھی اس سے متفق نہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یا تو ابو عبیدہ دونوں دستوں کے مشترک امیر ہوں یا دونوں دستوں کا امیر الگ رہے۔ جب اختلاف بڑھا تو ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا اے عمرو، جان لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو آخری عہد لیا وہ یہ تھا کہ آپ نے کہا کہ جب تم اپنے ساتھی سے ملو تو ایک دوسرے کی بات ماننا اور اختلاف نہ کرنا۔ اس لیے خدا کی قسم اگر تم میری نافرمانی کر و گے تب بھی میں تمہاری اطاعت کروں گا (تعلم یا عمر وأَنّ آخِرَ مَا عَهِدَ إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أَنْ قَالَإذَا قَدِمْت عَلَى صَاحِبِك فَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا۔ وَإِنّك وَاَللهِ إنْ عَصَيْتنِي لَأُطِيعَنّكَ) مغازي الواقدي، جلد2، صفحه 771۔
حضرت ابو عبیدہ کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ ذمہ داری کو عمر و بن العاص پر ڈال کر ان سے لامتنا ہی بحث کرتے رہیں۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتے تو وہ بہت سے ایسے الفاظ پاسکتے تھے جن میں ان کا اپنا وجود بالکل درست اور دوسرے کا وجود بالکل باطل دکھائی دے۔ مگر اس کے بجائے انہوں نے یہ کیا کہ ساری ذمہ داری خود اپنے اوپر لے لی۔ انہوں نے مسئلہ کو یک طرفہ طورپر ختم کردیا۔ اجتماعی زندگی میں یہ چیز بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی اجتماعی زندگی چلتی ہی اس وقت ہے جب کہ اس کے افراد میں اتنی بلندی ہو کہ وہ حقوق کی بحث میں پڑے بغیر اپنے اوپر ذمہ داری لینے کی جرأت رکھتے ہوں۔ جہاں یہ مزاج نہ ہو وہاں صرف آپس کا اختلاف جنم لیتا ہے نہ کہ آپس کا اتحاد۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔