اپنی محدود یت کو جاننا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ اس کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کرتے۔ آپ اپنے اصحاب کو جمع کرتے اور معاملہ کو بیان کرکے فرماتے کہأَشِيرُوا عَلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ( اے لوگو،مجھے مشورہ دو)۔ آپ بظاہر سب سے مشورہ طلب کرتے۔مگر عملاً یہ ہو تا کہ کچھ دیر خاموشی رہتی اور اس کے بعد حضرت ابو بکر کھڑے ہو کر مختصراً اپنی رائے ظاہر کر کے بیٹھ جاتے۔ اس کے بعد حضر ت عمر کھڑے ہوتے اور مختصر کچھ بول کر بیٹھ جاتے۔ اس کے بعد معمولی طور پر کچھ لوگ بولتے اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہو جاتا۔ آپ کی وفات کے بعد جب حضرت ابو بکر کی خلافت کا زمانہ آیا تو آپ بھی اسی طرح لوگوں کو جمع کر کے مشورہ طلب کرتے، اب یہ ہوتا کہ کچھ دیر خاموشی کے بعد حضرت عمر کھڑے ہوتے اور مختصر طورپراپنی رائے ظاہر کر کے بیٹھ جاتے، اس کے بعد چند لوگ بولتے اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہو جاتا۔ حضرت عمر کے بعد غیر اصحاب کی تعداد بڑھ گئی اور مذکو رہ صورت باقی نہ رہی۔
یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے، مگر یہ اتنی اہم بات ہے کہ تاریخ میں کوئی دوسرا معاشرہ نہیں پایا جاتا جس نے اس کا ثبوت دیاہو۔ یہ طرز عمل صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اتنا خود شناس ہو جائے کہ وہ اپنی کمیوں اور محدود یتوں کو جاننے لگے۔ وہ دوسرے کے ’’ہے ‘‘ کے مقابلہ میں اپنے ’’نہیں ‘‘ سے واقف ہو جائے۔ وہ اپنے کو اس حقیقت پسند انہ نظر سے دیکھنے لگے جس نظر سے دوسرا شخص اسے دیکھ رہاہے۔
اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجیے کہ یہ واقعہ جس ابو بکر وعمر کے ساتھ پیش آیا وہ ابو بکر وعمر وہ نہ تھے جن کو آج ہم جانتے ہیں، آج ہم تکمیل تاریخ والے ابوبکر وعمر کو جانتے ہیں۔ مگر وہ آغازِ تاریخ والے ابوبکر وعمر کو جانتے تھے۔ اس وقت وہ اپنے معاصرین کے لیے صرف ان میں سے ایک تھے۔ جب کہ آج وہ ہمارے لیے گزری ہوئی تاریخ کے ستون ہیں جن کو ہم اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کوئی ثابت شدہ واقعہ کو دیکھتا ہے۔ ’’ابو بکر و عمر‘‘ کو تاریخ بننے کے بعد جاننا انتہائی آسان ہے۔ لیکن ’’ابو بکر وعمر ‘‘ کو تاریخ بننے سے پہلے جاننا اتنا ہی مشکل ہے۔ اصحاب رسول وہ لوگ تھے جو اس مشکل ترین معیار پر پورے اترے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔