قرآن کو دور نزاع میں اپنانا
سیرت کی کتابوں میں صحابہ کا دعوتی طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ قرآن کے نازل شدہ حصہ کو لے لیتے اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنا تے تھے (وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الإِسْلامَ وَتَلا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ) طبقات ابن سعد، جلد1، صفحہ 170۔چنانچہ مدینہ میں جو صحابہ تبلیغ کے ليے گئے ان کو وہاں مقری (قرآن پڑھنے والا ) کہا جاتا تھا(سيرت ابن هشام، جلد 1، صفحه 434)۔ یہ بات آج کے ماحول میں بظاہر انوکھی معلوم نہیںہوتی۔ لیکن اگر چودہ سو سال کی تاریخ کو حذف کر کے آپ اسلام کے ابتدائی دورمیں پہنچ جائیں اور اس وقت کے حالات میں اسے دیکھیں تو یہ اتنا انوکھا واقعہ معلوم ہوگا کہ نہ اس سے پہلے وہ کبھی جماعتی سطح پر پیش آیا اور نہ اس کے بعد۔
آج جب ہم لفظ ’’قرآن‘‘ بولتے ہیں تو یہ ہمارے لیے ایک ایسی عظیم کتاب کا نام ہوتا ہے جس نے چودہ صدیوں میں اپنی عظمت کو اس طرح مسلّم کیا ہے کہ آج کروروں انسان اس کو خدا کی کتاب ماننے پر مجبور ہیں ۔ آج اپنے آ پ کو قرآن سے منسوب کرنا کسی آدمی کے لیے فخر و اعزاز کی بات بن چکی ہے۔ مگر زمانۂ نزول میں لوگوں کے نزدیک اس کی یہ حیثیت نہ تھی۔ عرب میں بہت سے لوگ تھے جو یہ کہتے تھے کہ محمد نے پرانے زمانہ کے قصے کہانیوں کو جوڑ کر ایک کتاب بنالی ہے۔ ہم چاہیں تو ہم بھی ایسی ایک کتاب بنالیں
لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ(الانفال،8:31)۔
کوئی قرآن میں تکرار کو دیکھ کر کہتا کہ یہ کوئی خاص کتاب نہیں۔ محمد کے پاس بس چند باتیں ہیں ، انہیں کو وہ صبح شام دہراتے رہتے ہیں وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْہِ بُكْرَۃً وَّاَصِيْلًا (25:5)۔
ایسی حالت میں قرآن کو پہچاننا گویا مستقبل میں ظاہر ہونے والے واقعہ کو حال میں دیکھنا تھا۔ یہ ایک چھپی ہوئی حقیقت کو اس کے ثابت شدہ بننے سےپہلے پالیناتھا۔ پھر ایسے وقت میں قرآن کو کتاب دعوت بنا لینا اور بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ کیونکہ اس کے لیے اپنی عظمت کو کھو کر دوسرے کی عظمت میں گم ہونا پڑتاہے۔ یہ اپنے مقابلہ میں دوسری شخصیت کا اعتراف کرنا ہے، اور وہ بھی ایسی شخصیت کا جس کی حیثیت ابھی مسلّم نہ ہوئی ہو۔ عرب کے مشہو ر شاعر لبید نے اسلام قبول کیا اور شاعری چھوڑدی۔ کسی نے پوچھا کہ تم نے شاعری کیوں چھوڑدی۔لبید نے کہا ابعد القرآن (کیاقرآن کے بعد بھی )۔آج کو ئی آدمی شاعری چھوڑ کر یہ جملہ کہے تو اس کو زبردست عظمت اور مقبولیت حاصل ہوگی۔ مگر لبید کےقول میں آج کےشاعر کے قول میں کوئی نسبت نہیں۔ کیونکہ آج کا شاعر تاریخ کے اختتام پر یہ جملہ کہہ رہا ہے جب کہ لبید نے تاریخ کے آغاز پر یہ جملہ کہاتھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے
لَايَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ اُولٰئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقٰتَلُوْا (57:10)۔یعنی، تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔