Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

قران کو دور نزاع میں اپنانا

Urdu · 4 min

قرآن کو دور نزاع میں اپنانا

سیرت کی کتابوں میں صحابہ کا دعوتی طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ قرآن کے نازل شدہ حصہ کو لے لیتے اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنا تے تھے (وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الإِسْلامَ وَتَلا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ) طبقات ابن سعد، جلد1، صفحہ 170۔چنانچہ مدینہ میں جو صحابہ تبلیغ کے ليے گئے ان کو وہاں مقری (قرآن پڑھنے والا ) کہا جاتا تھا(سيرت ابن هشام، جلد 1، صفحه 434)۔ یہ بات آج کے ماحول میں بظاہر انوکھی معلوم نہیںہوتی۔ لیکن اگر چودہ سو سال کی تاریخ کو حذف کر کے آپ اسلام کے ابتدائی دورمیں پہنچ جائیں اور اس وقت کے حالات میں اسے دیکھیں تو یہ اتنا انوکھا واقعہ معلوم ہوگا کہ نہ اس سے پہلے وہ کبھی جماعتی سطح پر پیش آیا اور نہ اس کے بعد۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آج جب ہم لفظ ’’قرآن‘‘ بولتے ہیں تو یہ ہمارے لیے ایک ایسی عظیم کتاب کا نام ہوتا ہے جس نے چودہ صدیوں میں اپنی عظمت کو اس طرح مسلّم کیا ہے کہ آج کروروں انسان اس کو خدا کی کتاب ماننے پر مجبور ہیں ۔ آج اپنے آ پ کو قرآن سے منسوب کرنا کسی آدمی کے لیے فخر و اعزاز کی بات بن چکی ہے۔ مگر زمانۂ نزول میں لوگوں کے نزدیک اس کی یہ حیثیت نہ تھی۔ عرب میں بہت سے لوگ تھے جو یہ کہتے تھے کہ محمد نے پرانے زمانہ کے قصے کہانیوں کو جوڑ کر ایک کتاب بنالی ہے۔ ہم چاہیں تو ہم بھی ایسی ایک کتاب بنالیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ(الانفال،8:31)۔

Qur'anQuotes the Qur'an

کوئی قرآن میں تکرار کو دیکھ کر کہتا کہ یہ کوئی خاص کتاب نہیں۔ محمد کے پاس بس چند باتیں ہیں ، انہیں کو وہ صبح شام دہراتے رہتے ہیں وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْہِ بُكْرَۃً وَّاَصِيْلًا (25:5)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایسی حالت میں قرآن کو پہچاننا گویا مستقبل میں ظاہر ہونے والے واقعہ کو حال میں دیکھنا تھا۔ یہ ایک چھپی ہوئی حقیقت کو اس کے ثابت شدہ بننے سےپہلے پالیناتھا۔ پھر ایسے وقت میں قرآن کو کتاب دعوت بنا لینا اور بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ کیونکہ اس کے لیے اپنی عظمت کو کھو کر دوسرے کی عظمت میں گم ہونا پڑتاہے۔ یہ اپنے مقابلہ میں دوسری شخصیت کا اعتراف کرنا ہے، اور وہ بھی ایسی شخصیت کا جس کی حیثیت ابھی مسلّم نہ ہوئی ہو۔ عرب کے مشہو ر شاعر لبید نے اسلام قبول کیا اور شاعری چھوڑدی۔ کسی نے پوچھا کہ تم نے شاعری کیوں چھوڑدی۔لبید نے کہا ابعد القرآن (کیاقرآن کے بعد بھی )۔آج کو ئی آدمی شاعری چھوڑ کر یہ جملہ کہے تو اس کو زبردست عظمت اور مقبولیت حاصل ہوگی۔ مگر لبید کےقول میں آج کےشاعر کے قول میں کوئی نسبت نہیں۔ کیونکہ آج کا شاعر تاریخ کے اختتام پر یہ جملہ کہہ رہا ہے جب کہ لبید نے تاریخ کے آغاز پر یہ جملہ کہاتھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لَايَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ اُولٰئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقٰتَلُوْا (57:10)۔یعنی، تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content