پیغمبر کو آغاز تاریخ میں پہچاننا
صحابہ کی یہ انو کھی صفت تھی کہ انہوں نے اپنے ایک معاصر رسول کوپہچانا اور اس کا ساتھ دیا۔ یہ کام اتنا مشکل ہے کہ معلوم تاریخ میں جماعت کی سطح پر صرف ایک بار پیش آیا ہے۔ قدیم تاریخ کے ہر دور میں یہ قصہ پیش آیا کہ رسولوں کے مخاطبین نے ان کا انکار کیا اور ان کا مذاق اڑایا۔ بائبل میں ہے کہ ’’تم نے میرے نبیوں کو ناچیز جانا‘‘(امثال، 1:25)۔ یہ نبیوں کو نا چیز جاننے والے کون لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو وحی و رسالت کو مانتے تھے۔ نبیوں کے نام پر ان کے یہاں ادارے قائم تھے اور بڑے بڑے جشن ہوتے تھے۔ مگر یہ سب کچھ قدیم نبیوں کے نام پر ہوتا تھا۔ جہاں تک وقت کے نبی کا سوال تھا، اس کے لیے ان کے پاس استہزا و تمسخر کے سوا کچھ نہ تھا۔
یہود نے حضرت مسیح کا انکار کیا، حالانکہ وہ موسیٰ کو مانتے تھے۔ نصاریٰ نے حضرت محمد کا انکار کیا، حالانکہ وہ حضرت مسیح کی پر ستش کی حدتک عزت کرتے تھے۔ اسی طرح قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر مارے اور آپ کو گھر سے نکالا، حالانکہ وہ حضرت ابراہیم کے وارث ہونے پر فخر کرتے تھے۔
اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم نبی کی نبوت تاریخی روایات کے نتیجہ میں ثابت شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ کسی قوم کے قومی اثاثہ کا ایک لازمی جزء ہوتی ہے۔ کسی قوم میں آنے والا نبی اس کی بعد کی نسلوں کے لیے ایک طرح کا مقدس ہیروبن جاتاہے۔ اس کو ماننا اپنے قومی تشخص کو قائم کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے نبی کو کون نہیں مانے گا۔ مگر وقت کے نبی کی نبوت ایک متنازعہ نبوت ہوتی ہے۔ وہ التباس کے پردہ میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کو ماننے کے لیے ظواہر کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھنا پڑتا ہے۔ اس کا ساتھ دینے کےلیے اپنی انا کو دفن کرنا ہوتاہے۔ اس کے مشن کی راہ میں اپنا سرمایہ خرچ کرنا ایک ایسے مشن کی راہ میں اپنا سرمایہ خرچ کرنا ہوتا ہے جس کا بر سرحق ہونا ابھی اختلافی ہو، جس کے بارے میں تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہ ہوئی ہوں۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھےجنہوں نےمعاصر رسول کو اس طرح مانا جس طرح کوئی شخص تاریخی رسول کو مانتاہے۔
غزوۂ خندق میںجب محاصرہ شدید ہوا اور معمولی ضروریات کی فراہمی نا ممکن ہو گئی تو ایک مسلمان کی زبان سے یہ جملہ نکل گیا کہ محمد ہم سے وعدہ کرتے تھے کہ ہم کسریٰ اور قیصر کے خزانے حاصل کریں گے اور اب یہ حال ہے کہ ہمارا ایک شخص بیت الخلا جانے کے لیے بھی محفوظ نہیں (كَانَ مُحَمَّدٌ يَعِدُنَا أَنْ نَأْكُلَ كُنُوزَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، وَأَحَدُنَا لَا يَأْمَنُ أَنْ يَذْهَبَ إلَى الْغَائِطِ) سیرت ابن ہشام، جلد 2،صفحہ 222۔ غزوۂ خندق کے وقت رسول اللہ کا وعدہ محض ایک لفظی وعدہ تھا، آج یہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے۔ صحابہ نے اس وعدہ کے تاریخی واقعہ بننے سے پہلے رسول کی عظمت کو مانا۔ ہم آج اس وعدہ کے تاریخی واقعہ بننے کے بعد رسول کی عظمت کو مان رہے ہیں۔ دونوں كے ماننے میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک کو دوسرے سے کوئی نسبت نہیں۔ آج ایک غیر مسلم محقق بھی پیغمبر اسلام کو تاریخ کا سب سے بڑا انسان کہنے پر مجبورہے مگر آپ کی زندگی میں آپ کی عظمت کو پہچا ننا اتنا مشکل تھا کہ صرف وہی لوگ اس کو پہچان سکتے تھے جن کو خدا کی طرف سے خصوصی توفیق ملی ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔