دین ان کے لیے محبوب چیز بن گیاتھا
اصحاب رسول کی خصوصیت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ ایمان ان کے لیے ایک محبوب شئے بن گیا تھا (الحجرات، 49:7)۔ محبت کسی چیز سے تعلق کا آخری درجہ ہے۔ اور جب کسی چیز سے محبت کے درجہ کا تعلق پیدا ہو جائے تو وہ آدمی کے لیے ہر چیز کا بدل بن جا تا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن اس چیز کے بارے میں اس طرح متحرک ہو جاتا ہے کہ آدمی بغیر بتائے ہو ئے اس سے متعلق ہر بات کو جان لیتا ہے۔ اس کو خواہ معروف معنوں میں کوئی نقشہ کا رنہ دیا گیا ہو مگر اس کا ذہن خود بتادیتا ہے کہ اس کو اپنی محبوب شئے کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے (التوبہ، 9:46)۔
محبت کی سطح کے تعلق کا مطلب ہے دل چسپی کی سطح کا تعلق۔ یعنی یہ کہ آدمی اسلام کے نفع نقصان کو خود اپنا نفع نقصان سمجھنے لگے۔ اصحاب رسول کو اسلام سے اسی قسم کا تعلق پید ا ہو گیا تھا۔ وہ اسلام کے فائدے سے اسی طرح خوش ہوتے تھے جس طرح کوئی شخص اپنے بیٹے کی کا میابی سے خوش ہوتاہے۔ اسلام کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اسی طرح بے چین ہو جاتے تھے جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کے متعلق نا خوش گوار خبر سن کر تڑپ اٹھتا ہے اوراس وقت تک اسے چین نہیں آتا جب تک وہ اس کی تلافی نہ کر لے۔
کسی چیز سے محبت کے درجے کا تعلق پید ا ہو جائے تو آدمی کا ذہن اس کے بارے میں پوری طرح جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اس کی ضرورت اور تقاضوں کو وہ بتائے بغیر جان لیتا ہے۔ اس کی بات کو پانے کے لیے کوئی نفسیاتی گرہ اس کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ اس کے راستے میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لیے وہ کسی چیز کو عذر نہیں بناتا۔
جب آدمی کسی معاملہ کو اپنا معاملہ سمجھ لے تو اس کے بعد اس کو نہ زیادہ بتانے کی ضرورت ہوتی اور نہ زیادہ سمجھانے کی۔ اس کا قلبی تعلق اس کے لیے ہر دوسری چیز کا بدل بن جاتاہے۔ وہ کسی معاوضہ کی امید کے بغیر یک طرفہ طور پر اپنا سب کچھ اس کے لیے لٹا دیتا ہے۔ اس کی خاطر کھونا بھی اس کو پانا معلوم ہوتاہے۔ اس کی خاطر بے قیمت ہو جانا اس کی نظر میں سب سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے وہ ہر دوسری مصلحت کو نظر انداز کر دیتاہے۔ اس کے لیے وہ ہر تکلیف کو اس طرح سہہ لیتا ہے جیسے کہ وہ کوئی تکلیف ہی نہ ہو۔
اصحاب رسول کوئی غیر معمولی انسان نہ تھے۔ وہ کوئی ماو رائے بشر مخلوق نہیں تھے۔ ان کی خصوصیت صرف یہ تھی کہ ’’محبت ‘‘ کے درجہ کا تعلق جو عام انسانوں کو صرف اپنے آپ سے ہوتا ہے وہی تعلق ان کو دین و ایمان سے ہو گیا تھا۔ عام آدمی اپنے مستقبل کی تعمیر کو جو اہمیت دیتا ہے وہی اہمیت وہ اسلام کے مستقبل کی تعمیر کو دینے لگے تھے۔ وہ دین کے لیے اپنا حصہ اداکرنے کو اتناہی ضروری سمجھنے لگے تھے جتنا کوئی شخص اپنی ذاتی دل چسپی کے معاملہ میں اپنے آپ کو اور اپنے اثاثہ کو استعمال کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ان کی یہی خصوصیت تھی کہ وہ تاریخ کے وہ گروہ بنے جس نے اسلام کو عظیم ترین کامیابی کے مقام تک پہنچایا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔