ابن ابی حاتم نے ایک صحابی کا واقعہ ان الفاظ میں نقل کیاہے
عن عبد اللہ بن مسعود لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضاً حَسَناً فَيُضاعِفَهُ لَهُ قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ الْأَنْصَارِيُّيَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنَّ اللهَ لَيُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ؟ قَالَنَعَمْ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ قَالَأَرِنِي يَدَك يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَفَنَاوَلَهُ يَدَهُ. قَالَفَإِنِّي قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطِي، وَلَهُ حَائِطٌ فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ، وَأُمُّ الدَّحْدَاحِ فِيهِ وَعِيَالُهَا. قَالَفَجَاءَ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَنَادَاهَا يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ. قَالَتْلَبَّيْك، قَالَاخْرُجِي فَقَدْ أَقْرَضْتُهُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ (تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث نمبر 2430)۔وفي رواية أَنَّهَا قَالَتْ لَهُرَبِحَ بَيْعُك يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ. وَنَقَلَتْ مِنْهُ مَتَاعَهَا وَصِبْيَانَهَا وَإِنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قالكَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحه48)۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قرآن میںیہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تو حضرت ابود حداح انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے خدا کے رسول، کیا اللہ واقعی ہم سے قرض چاہتا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں اے ابودحداح۔ انہوں نے کہا اے خدا کے رسول، اپنا ہاتھ لائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا۔ ابو دحداح نے کہا کہ میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ ان کا ایک کھجوروں کا باغ تھا جس میں چھ سودرخت تھے۔ اس وقت ان کی بیوی ام دحداح اپنے بچوں کے ساتھ باغ میں تھیں۔ وہ باغ میں واپس آئے اور آوازدی کہ اے ام دحداح۔ انہوں نے کہا ہاں۔ ابو د حداح نے کہا باغ سے نکلو، کیونکہ اس کو میں نے اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ بیوی نے کہا اے ابو د حداح آپ کی تجارت کا میاب رہی۔ اور اس کے بعد اپنے سامان اور اپنے بچوں کو لے کر باغ سے نکل آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو د حداح کے لیے جنت میں کتنے ہی شاداب اور پھل دار درخت ہیں۔
یہ ایک نمائندہ واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام جس دین پر ایمان لائے تھے اس دین کی خاطر قربانی پیش کرنے کے لیے وہ کس قدر بے چین رہتے تھے۔ یہاںدوبارہ ذہن میںرکھ لیجیے کہ یہ واقعہ چودہ سو سال پہلے کا ہے۔ آج کوئی شخص دین کے نا م پر اس قسم کا انفاق کرے تو عین ممکن ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے درمیان مقبولیت کی صورت میں اس کو بہت جلد اپنے انفاق سے زیادہ بڑی چیز مل جائے۔ مگر اصحاب رسول کے زمانے میں صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت دین کی راہ میں اپنا مال لٹانا ماحول میں دیوانگی کا خطاب پانے کا ذریعہ تھا۔ وہ اونچے میناروں پر نمایاں ہونے کے بجائے بنیاد کی زمین میں دفن ہونے کے ہم معنی تھا۔ اس وقت ایسا اقدام ایک ایسی تحریک کے خانہ میں لکھا جانے والا تھا جس کی صداقت ابھی مشتبہ تھی جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں۔ یہ ایک غیر مسلمہ مدمیں اپنا اثاثہ پیش کرنا تھا، جب کہ آج کا آدمی ایک مسلمہ مد میں اپنا اثاثہ پیش کرتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔