Maulana Wahiduddin Khan
27 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

ادبی ارتقاء

Urdu · 27 min

زبانوں میں تبدیلی کا دوسرا سبب ادیبوں اور مصنفوں کے کارنامے ہیں۔ جب بھی کوئی غیرمعمولی ادیب یا مصنف پیدا ہوتا ہے، وہ زبان کو کھینچ کر نئے لسانی اسلوب کی طرف لے جاتا ہے۔ اس طرح زبان تبدیلی اور ارتقاء کے مراحل طے کرتی رہتی ہے، اور بدلتے بدلتے کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔ عربی زبان میں، اس کے برعکس، ایسا ہوا کہ قرآن نے اول روزہی ایسا بر تر معیار سامنے رکھ دیا کہ کسی انسانی ادیب کے لیے ممکن نہ ہو سکا کہ وہ اس سے اوپر جاسکے۔ اس لیے عربی زبان اسی اسلوب پر باقی رہی جو قرآن نے اس کے لیے مقرر کر دیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، عربی زبان میں، قرآن کے بعد کوئی دوسرا ’’قرآن‘‘ نہ لکھا جاسکا۔ اس لیے زبان بھی قرآنی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہ بن سکی۔

انگریزی زبان کی مثال لیجیے۔ ساتویں صدی عیسوی میں وہ ایک معمولی مقامی بولی کی حیثیت رکھتی تھی جس میں کسی علمی خیال کو ظاہر کرنا ممکن نہ تھا۔ پانچ سو برس سے بھی زیادہ عرصہ تک یہی حال رہا۔ انگریزی زبان کا معمار اول جا فر ے چاسر(Geoffrey Chaucer) پیدا ہوا تو انگلستان کی درباری زبان فرانسی تھی۔ چا سر جو لاطینی، فرانسیسی اور اطالوی زبانیں جانتا تھا، اس نے انگریزی میں اشعار کہے اور نظمیں لکھیں۔ اپنی غیر معمولی ذہانت اور دیگر زبانوں سے واقفیت کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب ہو سکا کہ انگریزی بولی کو آگے لے جائے اور اس کو ایک علمی زبان کا روپ دے۔ ہاسر (Ernest Hauser) کے الفاظ میں اس نے اپنی کامیاب نظموں کے ذریعہ انگریزی کو ایک مضبوط بڑھاوا ( Firm Boost)دیا۔ اس نے ایک بولی کو ایسی طاقت ور زبان بنا دیا جس میں ترقی کے نئے امکانات چھپے ہوئے تھے (ریڈرز ڈائجسٹ، جون 1975ء)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دو سو برس تک چاسر انگریزی شاعروں اور ادیبوں کا رہنما بنا رہا۔ یہاں تک کہ ولیم شیکسپیئر (1558-1625ء)کا ظہور ہوا جس نے چا سر سے زیادہ بر ترادب کا نمونہ پیش کیا۔ اپنے اشعار اور ڈراموں کے ذریعہ اس نے انگریزی کو دوبارہ ایک نیا معیار عطا کیا۔ اب انگریزی زبان ایک قدم اور آگے بڑھی اور ترقی کی نئی شاہراہ پر سفر کرنے لگی۔ یہ دور تقریباً ایک سو برس تک رہا، یہاں تک کہ سائنس کے ظہور نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ادب میں بھی، دوبارہ نئے معیار قائم کرنے شروع کیے۔ اب شعر کے بجائے نثر، اور افسانہ نویسی کے بجائے واقعہ نگاری کو اہمیت ملنے لگی۔ اس کے اثر سے انگریزی میں سائنٹفک اسلوب وجود میں آیا، سویفٹ (Jonathan Swift, 1667-1745) سے لے کر ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ (T.S. Eliot, 1888-1965) تک درجنوں ادیب پیدا ہوئے جنہوں نے زبان کو وہ نیا معیار عطا کیا جس سے اب ہم گزر رہے ہیں ۔

یہی عمل تمام زبانوں میں ہواہے۔ ایک کے بعد دوسرا زیادہ بہتر لکھنے والا ادیب یا ادیبوں کا گروہ اٹھتا ہے او ر وہ زبان کو نیا اسلوب دے کر نئے مرحلے کی طرف لے جاتا ہے۔ اس طرح زبان بدلتی رهتی ہے یہاں تک کہ چند صدیاں گزرنے کے بعد اتنا فرق ہو جاتا ہے کہ اگلے لوگ پچھلی زبان کو لغات اور شرح کے بغیر سمجھ ہی نہ سکیں۔

اس کلیہ سے صرف ایک زبان مستثنیٰ ہے اور وہ عربی زبان ہے۔ یہی واقعہ قرآن کے اس دعويٰ کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ کوئی شخص قرآن جیسی کتاب وضع نہیں کرسکتا۔ بلاشبہ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ پچھلی صدیوں میں متعدد لوگوں نے قرآن کے جواب میں دوسرا قرآن لکھنے کی کوشش کی، مگر سب کے سب ناکام رہے۔ مثال کے طور پر مسیلمہ بن حبیب، طلیحہ بن خویلد، نضربن الحارث، ابن الراوندی، ابو العلا المعری، ابن المقفع، متنبی وغیرہ۔ اس سلسلے میں ان کی جو عبارتیں نقل کی گئی ہیں ، وہ اتنی سطحی ہیں کہ قرآن کے مقابلہ میں ان کو رکھنا بھی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً مسیلمہ کے ’’قرآن ‘‘ کا ایک حصّہ یہ تھا

يَا ضِفْدَعُ بَنَتَ الضِّفْدَعِينْ، نَقِّي كَمْ تَنِقِّينْ، لَا الْمَاءَ تُكَدِّرِينْ، وَلَا الشَّارِبَ تَمْنَعِينْ (البدایۃ والنہایۃ، جلد9، صفحہ473)۔ یعنی، اے مینڈ کی جتنا ٹراسکے ٹرالے، تونہ پانی کو گدلا کرے گی نہ پینے والوں کو رو کے گی۔

other sourceWords of another person or source

اسی طرح مسیلمہ کا ایک اور ’’الہام‘‘ یہ تھا

لَقَدْ أَنْعَمَ اللهُ عَلَى الْحُبْلَى، أَخْرَجَ مِنْهَا نَسَمَةً تَسْعَى، مِنْ بَيْنَ صِفَاقٍ وَحَشًى (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ577)۔يعني،اللہ نے حاملہ عورت پر بڑا انعام کیا ہے، اس کے اندرسے دوڑتی ہوئی جان نکالی، جھلی اور پیٹ کے اندر سے۔

other sourceWords of another person or source

تاہم اس سے بھی زیادہ بڑا ثبوت وہ مسلسل واقعہ ہےجس کو فرنچ مستشرق ارنسٹ ریناں (Ernest Renan, 1823-1892)نے ایک لسانی عجوبہ قرار دیا ہے جس طرح دوسری زبانوں میں زبان آور پیدا ہوئے۔ اسی طرح عربی میں بھی شعرا اور ادبا اور مصنفین پیدا ہوئے اور پیدا ہو رہے ہیں، مگر اس پوری مدت میں کوئی ایسا زبان داں نہ اٹھا جو قرآن سے بر ترادب پیش کر کے عربی میں نیا لسانی معیار قائم کرتا اور زبان کونئے مرحلہ کی طرف لے جاتا۔ اس لیے زبان اسی مرحلۂ ترقی پر قائم رہی جو قرآن نے اس کےلیے مقرر کردیا تھا۔ اگر دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوتے جو قرآن کے مقابلہ میں زیادہ اعلیٰ ادب کا نمونہ پیش کرتے تو نا ممکن تھا کہ زبان ایک مقام پر رکی رہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی مثال عربی زبان میں ایسی ہی ہے جیسے کسی زبان میں آخری اعلیٰ ترین ادیب اول روزہی پیدا ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسا ادیب نہیں ابھرے گا جو زبان میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے۔ قرآن کے نزول کے زمانہ میں جو زبان عرب میں رائج تھی،اس کو ترقی دے کر قرآن نے اعلٰی ترین ادب کی شکل میں ڈھال دیا۔ اس کے بعد اس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہ تھا۔

قرآن نے عربی کے روایتی اسالیب پر اضافے کر کے اس میں تو سیع کا دروازہ کھولا۔ مثال کے طور پر سورہ اخلاص میں لفظ ’’احد‘‘ کا استعمال۔ عربی زبان میں اس سے پہلے یہ لفظ مضاف مضاف الیہ کے طور پر استعمال ہوتا آیا تھا جیسے یوم الاحد (ہفتے کا دن ) یا نفی عام کے لیے جیسے ما جاء نی احدٌ (میرے پاس کوئی نہیں آیا)وغیرہ۔ مگر قرآن نے یہاں لفظ احد کو ہستی باری تعالیٰ کے لیے وصف کے طور پر استعمال کیا جو عربی زبان میں غیر معمولی تھا۔

عربی میں دوسری زبانوں کے الفاظ شامل کیے۔ مثلاً استبرق (فارسی) قسورہ (حبشی) صراط (یونانی)یم (سریانی )غساق (ترکی) قسطاس(رومی) ملکوت (آرامی) کافور (ہندی) وغیرہ۔ مکہ کے مشرکین نے جب کہا تھا کہ وَمَا الرَّحْمَنُ ( الفرقان،25:60)تو اس کا لسانی پس منظر یہ تھا کہ رحمان کا لفظ عربی نہیں ہے، یہ سبائی اور حمیری زبان سے آیا ہے۔ یمن اور حبشہ کے نصرانی اللہ کو رحمٰن کہتے تھے۔ قرآن نے اس لفظ کی تعریب کر کے اس کو اللہ کے لیے استعمال کیا تو مکہ والوں کو وہ اجنبی محسوس ہوا۔ انہوں نے کہا’’رحمان کیا ‘‘ قرآن میں غیرعربی الاصل الفاظ ایک سو سے زیادہ شمار کیے گئے ہیں جو فارسی، رومی، نبطی، حبشی، عبرانی، سریانی قبطی وغیرہ زبانوں سے لیے گئے ہیں ۔

قرآن اگر چہ قریش کی زبان میں اترا۔ مگر دوسرے قبائل عرب کی زبان بھی اس میں شامل کی گئی۔ مثلاً قرآن میں ’’فاطر‘‘ کا لفظ آیا ہے، عبد اللہ بن عباس جو ایک قریشی مسلمان تھے، کہتے ہیںكُنْتُ لَا أَدْرِي مَا فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، حَتَّى أَتَانِي أَعْرَابِيَّانِ يَخْتَصِمَانِ فِي بِئْرٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِأَنَا فَطَرْتُهَا، أَيْبَدَأْتُهَا(تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ 471)۔ میں فاطر السماوات والارض کے معنی نہیں سمجھتا تھا یہاں تک کہ دو اعرابی میرے پاس جھگڑتے ہوئے آئے، ان میں سے ایک نے کہا  اَنَا فَطَرْتُهَایعنی میں نے کنواں کھود نا شروع کیاتھا۔ تب میں اس کو سمجھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابوہریرہ کہتے ہیں :وَالله إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا المُدْيَةُ (صحيح البخاري، حديث نمبر 3427)۔ یعنی،میں نے سکین (چھری) کا لفظ پہلی بار قرآن کی آیت (12:31) سے جانا۔ اس سے پہلےہم اس کو مدیّہ کہا کرتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بہت سے الفاظ ایسے تھے جن کے مختلف لہجے عرب قبائل میں رائج تھے۔ قرآن نے ان میں سے فصیح تر لفظ کا انتخاب کر کے اس کو اپنے ادب میں استعمال کیا۔ مثلاً قریش کے یہاں جس مفہوم کے لیے اعطٰی کا لفظ تھا اس کے لیے حمیرین کے یہاں انطٰی بولا جاتا تھا۔ قرآن نے انطیٰ کو چھوڑ کر اعطیٰ کا انتخاب کیا۔ اسی طرح شناتر کی جگہ اصابع، کتع کی جگہ ذئب وغیرہ۔ قرآن اصلاًقریش کی زبان میںاترا ہے۔ مگر بعض مقامات پر قریش کی زبان کو چھوڑ کر کسی دوسرے قبیلے کا اسلوب اختیار کیاگیا ہے۔ مثال کے طور پر لا یلتکم من اعمالکم بنی عبس کی زبان ہے(الاتقان فی علوم القرآن، جلد3، صفحہ 895)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح قرآن نے الفاظ اور اسالیب کو نئی وسعتیں اور نیا حسن دے کر ایک اعلٰی عربی ادب کا نمونہ قائم کر دیا۔ یہ نمونہ اتنا بلند تھا کہ اس کے بعد کوئی ادیب اس سے بر تر معیار پیش نہ کرسکا۔ اس لیے عربی زبان ہمیشہ کے لیے قرآن کی زبان ہو کر رہ گئی۔

عربوں میں جو امثال اور تعبیرات قدیم زمانہ سے رائج تھیں، ان کو قرآن نے زیادہ بہتر پیرایہ میں ادا کیا۔ مثلاً زندگی کی بے ثباتی کو قدیم عربی شاعر كعب بن زهيرنے ان لفظوں میں نظم کیا تھا

كلُّ ابنِ أُنثى، وإن طالتْ سَلامَتُه يَوْماً على آلةٍ حَدْباءَ مَحمولُ

ہر آدمی خواہ وہ کتنے ہی عرصہ تک صحیح و سالم رہے، ایک دن بہر حال وہ تابوت کے اوپر اٹھا یا جائے گا۔ قرآن نے اس تصور کو ان لفظوں میں ادا کیا کُلّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوت ( 3:185)۔ یعنی، ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم عرب میں قتل وغارت گری سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ اس صورت حال نے چند فقرے پیدا کیے تھے جو اس زمانہ میں فصاحت کا کمال سمجھے جاتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ قتل کا علاج قتل ہے۔ اس تصور کو انہوں نے حسب ذیل مختلف الفاظ میں موزوں کیا تھا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قَتْلُ الْبَعْضِ اِحْیَاءٌ لِلْجَمْعِ بعض لوگوں کا قتل سب کی زندگی ہے

اَکْثِرُو االْقَتْلَ لیُقَلِّلَ الَقَتْلُ قتل کی زیادتی کر و تاکہ قتل کم ہو جائے

اَلْقَتْلُ اَنْفیٰ لِلْقَتْلِ قتل کو سب سے زیادہ روکنے والی چیز قتل ہے

قرآن نے اس تصور کو ان لفظوں میں ادا کیا وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوۃٌ يّٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(2:179)۔یعنی، اور اے عقل والو، قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے تاکہ تم بچو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن سے پہلے عربی میں اور دنیا کی تمام زبانوں میں شعر کو بلند مقام حاصل تھا۔ لوگ شعر کے اسلوب میں اپنے خیالات کو ظاہر کرنا کمال سمجھتے تھے۔ قرآن نے اس عام روش کو چھوڑ کر نثر کا اسلوب اختیار کیا۔ یہ واقعہ بجائے خود قرآن کے کلام اِلٰہی ہونے کا ثبوت ہے۔ کیوں کہ ساتویں صدی کی دنیا میں صرف زندہ اور ہمیشہ رہنے والاخداہی اس بات کو جان سکتا تھا کہ انسانیت کے نام ابدی کتاب بھیجنے کے لیے اسے نثر کا اسلوب اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ شعر کا، جو مستقبل میں غیراہم ہو جانے والا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح پہلے کسی بات کو مبالغہ کے ساتھ کہنا ادب کا کمال سمجھا جاتا تھا۔ قرآن نے تاریخ ادب میں پہلی بار واقعہ نگاری کو رواج دیا۔ پہلے جنگ اور عاشقی سب سے زیادہ مقبول مضامین تھے۔ قرآن نے اخلاق، قانون، سائنس، نفسیات، اقتصادیات، سیاسیات، تاریخ وغیرہ مضامین کو اپنے اندر شامل کیا۔ پہلے قصہ کہانی میں بات کہی جاتی تھی، قرآن نے براہ راست اسلوب کو اختیار کیا۔ پہلے قیاسی منطق (syllogism) کو ثبوت کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا، قرآن نے علمی استدلال کی حقیقت سے دنیا کو باخبر کیا۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ساری چیزیں قرآن میں اتنے بلند اسلوب کلام میں بیان ہو ئیں کہ اس کے مثل کوئی کلام پیش کرنا انسان کے امکان سے باہر ہے۔

قدیم عرب میں یہ مقولہ تھا کہأَعْذَبُ الشِّعْرِ أَكْذَبُهُ (تاريخ النقد الادبي عند العرب للدكتور احسان عباس، صفحہ 170)۔ یعنی، سب سے زیادہ میٹھا شعر وہ ہے جس میں سب سے زیادہ جھوٹ ہو۔ مگر قرآن نے ایک نیا طر زبیان (الاحزاب، 33:70؛الرحمٰن، 55:4) پیدا کیا، جس میں فرضی مبالغوں کے بجائے واقعیت تھی، اس نے حقیقت پسند ادب کا نمونہ پیش کیا۔ قرآن عربی زبان و ادب کا حاکم بن گیا۔ ادب جاہلی کا جو سرمایہ آج محفوظ ہے، وہ سب قرآن کی زبان کو محفوظ رکھنے اور اس کو سمجھنے کے لیے جمع کیا گیا۔ اسی طرح صرف و نحو، معانی و بیان، لغت و تفسیر، حدیث وفقہ، علم کلام، سب قرآن کے معانی و مطالب کو حل کرنے اور اس کے اوامر و نواہی کی شرح کرنے کے لیے وجود میں آئے۔ حتٰی کہ عربوں نے جب تاریخ و جغرافیہ اور دیگر علوم کو اپنا یا تو وہ بھی قرآن کے احکام و ہدایت کو سمجھنے اور ان پر پوری طرح عمل پیراہونے کی ایک کوشش تھی۔ قرآن کے سوا تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیںکہ کسی ایک کتاب نےکسی قوم کو اتنا زیادہ متاثر کیا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن نے عربی زبان میں تصرف کرکے جو اعلیٰ تر ادب تیار کیا، وہ اتنا ممتاز اور بد یہی ہے کہ کوئی بھی عربی جاننے والا شخص کسی بھی دوسری عربی کتاب کی زبان سے قرآن کی زبان کا تقابل کر کے ہر وقت اسے دیکھ سکتا ہے۔ قرآن کا اِلٰہی ادب عام انسانی ادب سے اتنا نمایاں طورپر فائق ہے کہ کوئی عربی داں اس کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں ہم مثال کے لیے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں جس سے اس فرق کا بخوبی اندازہ ہو سکے گا۔ طنطاوی جو ہری ( 1870-1940) لکھتے ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’13جون 1932کو میری ملاقات مصری ادیب استاذ کا مل گیلانی (1897-1959) سے ہوئی۔ انہوں نے ایک عجیب واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا، میں امریکی مستشرق فنکل (Finkel, Joshua 1904-1983)کے ساتھ تھا۔ میرے اوران کے درمیان ادبی رشتہ سے گہرے تعلقات تھے۔ ایک دن انہوں نے میرے کان میں چپکے سےکہا ’’کیا تم بھی انہیںلوگوں میں ہو جو قرآن کو ایک معجزہ مانتے ہیں ‘‘۔ یہ کہہ کر وہ ایک معنی خیز ہنسی ہنسے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس عقیدہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ محض تقلید اً مسلمان اس کو مانتے چلے جا رہے ہیں ۔ ان کاخیال تھا کہ انہوں نے ایسا تیر مارا ہے جس کا کوئی روک نہیں۔ ان کا یہ حال دیکھ کر مجھے بھی ہنسی آگئی۔ میں نے کہا قرآن کی بلاغت کے بارے میں کوئی حکم لگانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تجربہ کر کے دیکھ لیں کہ کیا ہم اس جیسا کلام مرتب کر سکتے ہیں ۔ تجربہ کر کے خود بخود اندازہ ہو جائے گا کہ ہم ویسا کلام تیار کرنے پر قادر ہیں یا نہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس کے بعد میں نے استاد فنکل سے کہا کہ آئیے ہم ایک قرآنی تصور کوعربی الفاظ میں مرتب کریں۔ وہ تصور یہ کہ ’’جہنم بہت وسیع ہے ‘‘انہوں نے اس رائے سے اتفاق کیا اور ہم دونوں قلم کا غذ لے کر بیٹھ گئے۔ ہم دونوں نے مل کر ’’تقریباً بیس جملے عربی کے بنائے جس میں مذکورہ بالا مفہوم کو مختلف الفاظ میں اد ا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ وہ جملے یہ تھے

ان جھنم واسعۃ جدا

ان جھنم لأوسع مما تظنون

ان سعۃ جھنم لا یتصورھا عقل الانسان

ان جھنم لتسع الدنیا کلھا

ان الجن والا نس اذا دخلو اجھنم لتسعھم ولا تضیق بھم

کل و صف فی سعۃ جھنم لایصل الٰی تقریب شئی من حقیقتھا

ان سعۃ جھنم لتصغر امامھا سعۃ السماوات والارض

کل ما خطرببالک فی سعۃ جھنم فانھالأ رحب منہ واو سع

ستر ون من سعۃ جھنم مالم تکونوا لتحلموابہ اوتتصوروہ

مھماحاولت ان تتخیل سعۃ جھنم فانت مقصرولن تصل الٰی شئی من حقیقتھا

ان البلاغۃ المعجزۃ لتقصرد تعجز اشد العجز عن وصف سعۃ جھنم

ان سعۃ جھنم قد تخطت احلام الحالمین وتصور المتصورین

متی امسکت بالقلم وتصدیت لوصف سعۃ جھنم احسست بقصورك وعجزك

ان سعۃ جھنم لایصفھا وصف ولا یتخیلھا وھم تدوربحسبان

کل وصف لسعۃ جھنم انما هو فضول و ھذیان

ہم دونوں جب اپنی کوشش مکمل کر چکے اور ہمارے پاس مزید عبارت کے لیے الفاظ نہ رہے تو میںنے پروفیسر فنکل کی طرف فاتحانہ نظروں سے دیکھا ’’اب آپ پر قرآن کی بلاغت کھل جائے گی۔ ‘‘ میں نے کہا۔ ’’ جب کہ ہم اپنی ساری کوشش صرف کر کے اس مفہوم کے لیے اپنی عبارتیں تیار کر چکے ہیں ۔ پروفیسر فنکل نے کہا کیا قرآن نے اس مفہوم کو ہم سے زیادہ بلیغ اسلوب میں ادا کیا ہے۔ میں نے کہا ہم قرآن کے مقابلے میں بچے ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا ‘ قرآن میں کیا ہے۔ میں نے سورہ ق کی آیت نمبر30پڑھی یَوْمَ نَقُولُ لَجَھَنَّمَ ھَلِ امْتَلَئتِ وَتَقُوْلُ ھَل مِن مَزِیدْ(جس دن ہم جہنم سے کہیں گے، کیا تو بھر گئی۔ اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے)۔ یہ سن کر ان کا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ اس بلاغت کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صدقت نعم صدقت وانا اقررلك ذلك مغتبطامن کل قلبی(آپ نے سچ کہا بالکل سچ۔ میں کھلے دل سے اس کا اقرار کرتاہوں)۔

میں نے کہا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آپ نے حق کا اعتراف کرلیا۔ کیوں کہ آپ ادیب ہیں اور اسالیب کی اہمیت کا آپ کو پورا اندازہ ہے۔ یہ مستشرق انگریزی، جرمن، عبرانی، اور عربی زبانوں سے بخوبی واقف تھا۔ لٹریچر کے مطالعہ میں اس نے اپنی عمر صرف کردی تھی (الشیخ طنطاوی جو ہری، الجواہرفی تفسیر القرآن الکریم ‘ مصر 1351ھ ،جلد 23،صفحات 111-12)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content