← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
اجتماعی انقلابات
Urdu · 22 min
اجتماعی انقلابات کس طرح زبانوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس کو سمجھنے کے لیے لاطینی کی مثال لیجیے۔ لا طینی کا مرکز بعد کے دور میں اگر چہ اٹلی بنا، مگر اصلاً یہ زبان اٹلی کی پیداوار نہ تھی۔ تقریباً 12 سو قبل مسیح، لو ہے کا زمانہ آنے کے بعد، جب وسط یورپ کے قبائل اطراف کے علاقوںمیں پھیلے تو ان کی ایک تعداد، خاص طورپر کو ہ الپس کے قبائل اٹلی میں داخل ہوئے اور روم اور اس کے آس پاس آباد ہوئے۔ ان کی بولی اور مقامی بولی کے ملنے سے جو زبان بنی، وہی ابتدائی لاطینی زبان تھی۔ تیسری صدی قبل مسیح میں لیوپس اینڈ رونیکس نے یونانی زبان کے کچھ ڈراموں اور کہانیوں کا ترجمہ لا طینی میںکیا۔ اس طرح لاطینی زبان ادبی زبان کے دور میں داخل ہوئی۔ پہلی صدی قبل مسیح میں رومی سلطنت قائم ہوئی تو اس نے لا طینی کو اپنی سرکاری زبان بنایا، مسیحیت کے پھیلاؤ سے بھی اس کو تقویت ملی۔ اس طرح مذہب اور سیاست نیز سماجی اور اقتصادی زور پر اس کی ترقی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ قدیم یورپ کے تقریباً پورے علاقہ میں پھیل گئی۔ سینٹ آگسٹین (354-430ء) کے زمانے میں لاطینی اپنے عروج پر تھی۔ قرون وسطیٰ میں لاطینی زبان دنیا کی سب سے بڑی بین اقوامی زبان سمجھی جاتی تھی۔
آٹھویں صدی میں مسلم قومیں ابھر یں اور انہوں نے رومی سلطنت کو توڑ کر اس کو قسطنطنیہ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ 1453میں ترکوں نے قسطنطنیہ کو فتح کر کے وہاں سے بھی اس کا خاتمہ کر دیا۔
ہزار برس قبل جب رومی شہنشا ہیت ٹوٹی تو مختلف علاقائی بولیوں کو ابھرنے کا موقع مل گیا۔ یہی بو لیاں، لاطینی کی آمیزش کے ساتھ بعد کو وہ زبانیں بنیں جن کو آج ہم فرانسیسی، اطالوی، اسپینی، پرتگالی، رومانوی زبانیں کہتے ہیں۔ اب لاطینی زبان صرف رومن کلیسا کی عبادتی زبان ہے اور سائنس اور قانون کی اصطلاحات میں استعمال ہوتی ہے۔ اب وہ کوئی زندہ زبان نہیں ہے۔ بلکہ اس کی حیثیت تاریخی ہے۔ مثال کے طور پر نیو ٹن (1642-1727ء) کی پرنسپیا کوئی اصل زبان میں پڑھنا چاہے تو اس کو قدیم لاطینی زبان سیکھنی پڑے گی۔
یہی معاملہ تمام قدیم زبانوں کے ساتھ ہواہے۔ ہر زبان مختلف سماجی حالات کے تحت بدلتی رہی۔ یہاں تک کہ ابتدائی زبان ختم ہو گئی اور اس کی جگہ دوسری بدلی ہوئی زبان نے لےلی۔ قومی اختلاط، تہذیبی تصادم، سیاسی، انقلاب، زمانی تبدیلی جب بھی کسی زبان کے ساتھ پیش آئے ہیں تو وہ بدل کر کچھ سے کچھ ہو گئی ہے۔ یہی تمام حالات پچھلے ڈیڑھ ہزار برس میں عربی زبان کے ساتھ بھی پیش آئے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ عربی زبان میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ اس تغیر پذیر لسانی دنیا میں عربی کا غیر تغیر پذیر رہنا اتمام قرآن کا معجزہ ہے۔
70ء میں یہودی قبائل شام سے نکل کر یثرب (مدینہ) آئے۔ یہاں ا س وقت عمالقہ آباد تھے جن کی زبان عربی تھی۔ عمالقہ کے ساتھ اختلاط کے بعد یہودی نسلوں کی زبان عربی ہو گئی۔ تاہم ان کی عربی عام عربوں کی زبان سے مختلف تھی۔ وہ عبری اور عربی کا ایک مرکب تھی۔ یہی واقعہ اسلام کے بعد عربوں کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانہ پر پیش آیا جب کہ وہ اپنے وطن عرب سے نکلے اور ایشیا اور افریقہ کے ان ملکوں میں داخل ہوئے جہاں کی زبانیں دوسری تھیں۔ مگر اس اختلاط کا کوئی اثر ان کی زبان پر نہیں پڑا۔ عربی بدستور اپنی اصل حالت پر محفوظ رہی۔
نزول قرآن کے بعد عربی زبان کے لیے اس قسم کا پہلا موقع خود صدر اول میں پیش آیا۔ اسلام عرب کے مختلف قبائل میں پھیلا۔ وہ لو گ اسلامی شہر وں میں یک جاہونے لگے۔ مختلف قبائل کی زبانیں تلفظ، لب و لہجہ وغیرہ کے اعتبار سے کافی مختلف تھیں۔ ابو عمر و بن العلاء کو کہنا پڑا تھاما لسان حمیر بلساننا ولا لغتھم بلغتنا( معجم متن اللغة للشيخ احمد رضا، جلد1، صفحہ40)۔ یعنی، قبیلہ حمیر کی زبان ہماری زبان نہیں ہے ۔حضرت عمر نے ایک بار ایک صحابی کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو اس کو پکڑ کر رسول اللہ کے پاس لائے۔ کیونکہ وہ الفاظ قرآن کو اتنے مختلف ڈھنگ سے ادا کر رہا تھا کہ حضرت عمر یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ قرآن کا کون ساحصہ پڑھ رہا ہے(مسند احمد، حدیث نمبر 296-297)۔ اسی طرح رسول اللہ نے ایک بار ایک عرب قبیلہ کے وفد سے اس کی اپنی بولی میں گفتگو کی تو حضرت علی کو ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کوئی اور زبان بول رہے ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کی بڑی وجہ لہجوں کا اختلاف تھا۔ مثلاً بنو تمیم جو مشرقی نجد میں رہتے تھے، وہ جیم کا تلفظ یا سے کرتے تھے۔ وہ مسجد کو مسید اور شجرات کو سرات کہتے تھے۔ اسی طرح بنو تمیم ق کو جیم بولتے تھے۔ مثلاً طریق کو طریج، صدیق کو صدیج، قدر کو جدر اور قاسم کو جاسم وغیرہ۔ اس طرح مختلف قبائل کے ملنے سے لسانی تاریخ کے عام قانون کے مطابق ایک نیا عمل شروع ہونا چاہیے تھا جو بالآخر ایک نئی زبان کی تشکیل پر منتہی ہوتا۔ مگر قرآن کے بر تر ادب نے عربی زبان کو اس طرح اپنے قبضہ میں لے رکھا تھا کہ اس کے اندر اس قسم کا عمل جاری نہ ہو سکا۔ اس کے بر عکس، وہ واقعہ پیش آیا جس کو ڈاکٹراحمد حسن زیات( 1885-1968ء)نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ما كانت لغة مُضرَ بعد الإسلام لغة أمة واحدة، وإنما كانت لغة لجميع الشعوب التي دخلت في دين الله تعالى۔اسلام کے بعد عربی زبان ایک قوم کی زبان نہیں رہی۔ بلکہ ان تمام قبائل کی زبان بن گئی جو خدا کے دین میں داخل ہوئے تھے۔
پھر یہ عرب مسلمان اپنے ملک سے باہر نکلے۔ انہوں نے ایک طرف جبل الطارق (Gibraltar) تک اور دوسری طرف کا شغر(Kashgar) تک فتح کر ڈالا۔ ان علاقوں میں مختلف زبانیں رائج تھیں۔ وہ فارسی، قبطی، بربری، عبرانی، سریانی، یونانی، لا طینی، آرامی زبانیں بولتے اور لکھتے تھے۔ ان میں ایسی قومیں بھی تھیں جو اپنے سیاسی نظام اور اپنے تمدن میں عربوں سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی تھیں۔ وہ عراق میں داخل ہوئے جو ایک قدیم تمدن کا حامل تھا اور بڑی بڑی قوموں کا مرکزرہ چکا تھا۔ ان کا ایران سے اختلاط ہوا جو اس وقت کی دو عظیم ترین شہنشا ہیتوں میں سے ایک تھا۔ ان کا تصادم رومی تہذیب اور عیسائی مذہب سے ہوا جو زبر دست ترقی کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ ان کا سابقہ شام سے پیش آیا جہاں فینیقی، کنعانی، مصری، یونانی، غسانی قوموں نے اپنے آداب و اطوارکے نمایاں اثرات چھوڑے تھے۔ ان کا مقابلہ مصر سے ہوا جہاں مشرق و مغرب کے فلسفے آکر ملے تھے۔ یہ اسباب بالکل کافی تھے کہ عربی میں ایک نیا عمل شروع ہواور ابتدائی زبان کے ساتھ ان نئے عوامل کے اثر سے ایک اور زبان وجود میں آجائے جیسا کہ دوسری زبانوں کے ساتھ ہوا۔ مگر اتنے بڑے لسانی بھونچال کے با وجود قرآن اس زبان کے لیے ایک ایسا برتر معیار بنا رہا جس نے تمام دوسرے عوامل کو اس کے لیے بے حقیقت بنا دیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اسلام کی فتوحات کے بعد عربی زبان صرف ایک ملک کی زبان نہ رہی بلکہ کئی درجن ملکوں اور قوموں کی زبان بن گئی۔ ایشیا او ر افریقہ کی عجمی اقوام نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی زبان بھی دھیرے دھیرے عربی بن گئی۔ فطری طور پر ان غیر ملکی اقوام میں عربی زبان بولنے کی وہ قدرت نہ تھی جو خود عربوں میں تھی۔ ان کی زبان میں اپنی غیر عربی زبانوں کے اثر سے بہت سی خامیاں پیدا ہو گئیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ خود عربوں میں جو لوگ زیادہ با شعور نہ تھے، دھیرے دھیرے وہ ان قوموں سے اثر لینے لگے۔ یہاں تک کہ خود ان کی زبان بدلنا شروع ہوگئی۔ بڑے بڑے شہروں میںیہ غلطیاں سب سےزیادہ تھیں۔ کیونکہ یہاں مختلف قوموں کے لوگ جمع تھے۔ بڑھتے بڑھتے یہ خرابی خواص تک پہنچ گئی۔
زیادبن امیہ (623-673ء)کے دربار میں ایک بار ایک شخص آیا اور بولاتُوُفِّيَ أَبَانَا وَتَرَكَ بَنُونَ ( اخبار النحويين ابی طاهر المقری،صفحہ 23)۔ہمارا باپ مر گیا اور اولاد چھوڑ گیا ۔عربی گریمر کے لحاظ سے،اس جملہ میں’’ابانا‘‘کی جگہ ’’ابونا‘‘ہونا چاہیے تھااور ’’بنون‘‘ کی جگہ’’بنین‘‘۔ اس زمانے میںاس طرح کے بے شمار اختلافات پیدا ہوگئے۔ دیگر تاریخی زبانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہی عربی زبان کے ساتھ بھی لازماً ہوتا۔ مگر یہاں بھی قرآن کی ادبی عظمت عربی کے لیے ڈھال بن گئی اور عربی زبان کی صورت پھر بھی وہی باقی رہی جو قرآن نے اس کے لیے مقرر کر دی تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طرح کے واقعات جو عربی زبان کی پچھلی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں باربار پیش آئے ہیں قرآن کے معجزہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہیں۔ کیونکہ یہ تمام تر قرآن کی عظمت ہی کا نتیجہ تھا جس نے عربی کو کسی تغیری عمل کا معمول بننے نہ دیا۔
دوسری صدی ہجری میں اموی سلطنت کا خاتمہ اور عباسی سلطنت کا قیام عربی زبان کے لیے زبردست فتنہ تھا۔ بنی امیہ کی حکومت خالص عربی حکومت تھی۔ امومی حکمراں عرب قومیت اور عربی زبان و ادب کی حمایت میں جانب داری اور تعصب کی حدتک سخت تھے۔ انہوںنے اپنا پایہ تخت د مشق کو بنا یا تھا جو عرب دیہات کی سرحد پر واقع تھا۔ ان کی فوج، دفتری عملہ اور افسران سب عرب ہوا کرتے تھے۔ مگر عباسی حکومت میں ایرانیوں کا غلبہ ہو گیا۔ عبا سیوں نے ایرانیوں ہی کی مدد سے بنی امیہ کا خاتمہ کیا تھا، اس لیے ان کے نظم و نسق میں ایرانی اعاجم کا عمل دخل ہوجانا لازمی تھا، حتٰی کہ عبا سیوں نے دارالخلافہ بغداد کو قرار دیا جو ایران سے بہت قریب تھا۔ انہوں نے ایرانیوں کو اتنی چھوٹ دی کہ وہ حکومت کے سارے معاملات میں آزادانہ کار روائیاں کرنے لگے۔ انہوں نے عرب اور عربی تہذیب کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور اس کو بالقصد کمزور کرنے کی تدبیریں کرنے لگے۔ عربی عصبیت کے کمزور ہونے کا نتیجہ یہ ہو اکہ ایرانی، ترکی، سریانی، رومی اوربربری عناصر حکومت اور سماج کے تمام معاملات پر چھاگئے۔ عربوں اور غیرعربوں میں رشتہ داریاں قائم ہوئیں۔ آریائی تہذیب اور سامی تہذیب کے ملنے سے زبان اور تہذیب میں نیا انقلاب آگیا۔ اکا سرہ کے پوتے اور قدیم جاگیرداروں کے بیٹے پھر سے ابھر آئے۔ انہوں نے اپنے آباو اجداد کی تہذیب کو ازسر نو زندہ کرنے کی کوشش شروع کردی۔
ان واقعات کا عربی زبان پر بہت گہرا اثر پڑا۔ متنبی (915-965ء) کے زمانہ میں عربی کی جو حالت ہو چکی تھی، اس کا اندازہ اس کے چند اشعار سے ہوتا ہے
مَغانی الشعبِ طِیباً فیِ المغانی بِمنــزِلَۃِ الربیــعِ مِنَ الــزّمانِ
ولٰکــنّ الفتَـی العــربَّی فیھــا عزیب الوجہ والید واللسانِ
مَلاعِـبُ جِنّــۃ لوسَــارَ فیــھا سلیمـان لســار بتــر جمان
شرح دیوان المتنبی(بیروت1938) صفحہ 384
’’شعب بوان (ایران) کے مکانات عمدگی میں تمام مکانوں سےاسی طرح بڑھے ہوئے ہیں جس طرح زمانہ کی تمام فصلوں میں بہار کی فصل۔ مگر اس بستی میںایک عرب جوان (میں ) اپنے چہرہ، ہاتھ اور زبان کے لحاظ سے بالکل اجنبی ہے۔ سلیمان جن کے تابع جنات تھے (جو جانوروں تک کی بولیاں سمجھتے تھے ) اگر اس علاقہ میں آئیں تو انہیں اپنے ساتھ ترجمان رکھنا پڑے گا ‘‘۔ ترکوں اور کردوں نے بھی اس سلسلے میں ایرانیوں کی تقلید کی۔ مگر قرآن کی ادبی عظمت عربی زبان کےلیے ڈھال بنی رہی۔ اس قسم کی کوششوں سے وقتی ہلچل تو ضرور پیدا ہوئی مگر جلد ہی وہ دب کر رہ گئی اور عربی زبان میں کوئی مستقل تبدیلی پیدانہ کر سکی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خلیفہ متوکل (207-247ھ) کے بعد عجمی اقوام، ایرانی اور ترک، عرب علاقہ میں بہت زیادہ دخیل ہوگئے۔ 656ھ میں ہلاکو خاں نے بغداد کی سلطنت کو برباد کردیا۔ 898ھ میں اندلس کی عرب حکومت کو یورپی اقوام نے ختم کردیا۔ 923ھ میں مصر و شام سے فاطمیوں کا خاتمہ ہو گیا اور ان عرب علاقوں کی حکومت عثمانی ترکوں کے قبضہ میں چلی گئی۔ اسلامی حکومت کا دارالسلطنت قاہرہ کے بجائے قسطنطنیہ ہوگیا۔ سرکاری زبان عربی کے بجائے ترکی قرار پائی۔ عربی زبان میں غیر زبان کے الفاظ اور اسالیب کثرت سے آنے لگے۔
عالم عرب پر ساڑھے پانچ سوسال ایسے گزرے ہیں جب کہ تمام عرب دنیا عجمی بادشاہوں کے جھنڈے کے نیچے رہی، حتٰی کہ مغل، ترک اور ایرانی حکمراں عرب آثار تک کو مٹانے پر تلے رہے۔ عربی کے کتب خانے جلائے گئے، مدرسے اجاڑے گئے، علماء کو ذلیل کیاگیا۔ عثمانی سلطنت نے اپنی ساری طاقت کے ساتھ عربوں کو ترک بنانے کی وہ مہم چلائی جس کو جمال الدین افغانی نے بجا طور پر ’’تتریک العرب‘‘ کہا ہے۔ مگر ان میں سے کوئی واقعہ بھی عربی زبان میںکوئی مستقل تبدیلی پیدا نہ کرسکا۔ بغداد و بخار ا میں تاتاریوں نے، شام میں صلیبیوں نے اور اندلس میں یورپی قوموں نے عربی زبان و ادب اور عرب تہذیب کو جو نقصانات پہنچائے وہ عربی زبان کا نام و نشان مٹانے کے لیے بالکل کافی تھے۔ اس کے بعد، دوسری زبانوں کی تاریخ کے مطابق، یہ ہونا چاہیے تھا کہ عربی زبان اپنی دیگر سامی زبانوں سے مل جاتی۔ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ ترکوں کی جہالت اور ایرانیوں کا تعصب اگر حائل نہ ہوا ہوتا تو عربی زبان آج تمام دنیا کے مسلمانوں کی واحد زبان ہوتی۔ تاہم جہاں تک عرب علاقہ کا تعلق ہے، وہاں اس کا بدستور اپنی سابقہ شان میں باقی رہ جانا تمام تر قرآن ہی کا معجزہ تھا۔ قرآن کی عظمت نے اس مدت میں لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ عربی زبان سے اپنا تعلق حکومت و اقتدار کے علی الرغم باقی رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں بھی بے شمار ایسے لو گ پیدا ہوئے جنہوں نے عربی زبان و ادب کی خدمت کی۔ مثال کے طور پر ابن منظور (630-711ء)ابن خلد ون(732-808ھ) وغیرہ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
نیپولین (1769-1821ء)کے قاہرہ میں داخلہ 1798ء کے بعد جب مصر میں پریس آیا اور تعلیم کا دور دورہ ہوا تو عربی زبان کو نئی زندگی ملی تاہم پچھلے سیکڑوں برس کے حالات نے یہ صورت حال پیدا کر دی تھی کہ مصر و شام کے دفاتر کی زبان ترکی وعربی کا ایک مرکب تھا۔
1882میں مصر پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد پھر صورت حال بدلی۔ انہوں نے عربی کے خلاف اپنی ساری طاقت لگادی۔ تمام تعلیم انگریزی کے ذریعہ لازمی کردی گئی۔ مختلف زبانیں سکھانے کے ادارے ختم کر دیے گئے۔ اسی طرح جن عرب علاقوں پر فرانسیسیوں کا غلبہ ہوا،وہاں انہوں نے فرانسیسی کو رواج دیا۔ مگر تقریباً سو سال تک انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کے غلبہ کے باوجود عربی زبان بد ستور اپنی اصل حالت پر باقی رہی۔ اس میں الفاظ کی وسعت ضرور پیدا ہوئی۔ مثال کے طور پر ٹینک کے لیے دبابہ کا لفظ رائج ہوا جو پہلے معمولی منجنیق کےلیے بولا جاتا تھا۔ اسی طرح طرز بیان میں وسعت پیدا ہوئی۔ مثلاً نومسلموں کے حالات پر آج ایک کتاب شائع ہوتو اس کا نام رکھا جاتا ہے لماذا اسلمنا جب کہ اس سے پہلے مسجع و مقفیٰ ناموں کا رواج تھا۔ اسی طرح بہت سے الفاظ معرّب ہو کر رائج ہوئے مثلاً دکتور (ڈاکٹر)۔ مگر اس سے اصل زبان میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اصل زبان بدستور وہی آج بھی ہے جو قرآن کے نزول کے وقت مکہ میں رائج تھی۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically