Maulana Wahiduddin Khan
19 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

فتح کے بعد

Urdu · 19 min

دشمن کے اوپر فتح آدمی کے اندر بیک وقت دو جذبات پید اکرتی ہے— غرور اور انتقام۔ مگر آپ کی فتح پیغمبر کی فتح تھی۔ آپ اس قسم کے جذبات سے بالکل خالی تھے۔ ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ فتح مکہ کے وقت جب آپ مکہ میں داخل ہو ئے تو تواضع سے آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتٰی کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوہ کی لکڑی کو چھورہی ہے(سیرت ابن ہشام، جلد 2،صفحہ 405)۔ باب کعبہ پر کھڑے ہوکر آپ نے جو خطبہ دیا، اس میں یہ الفاظ فرمائے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لَا إلَهَ إلَّااللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيك لَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ412)۔يعني، ایک اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا۔ اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور دشمن کی جماعتوں کو اس نے تنہا شکست دی۔ گویا آپ نے فتح کے اس واقعہ کو تمام کا تمام خدا کے خانہ میں ڈال دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی خطبہ میں آگے چل کر یہ الفاظ روایت کیے گئے ہیں

ثُمَّ قَالَيَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، مَا تُرَوْنَ أَنِّي فَاعِلٌ فِيكُمْ؟ قَالُواخَيْرًا، أَخٌ كَرِيمٌ، وَابْنُ أَخٍ كَرِيمٍ۔ قَالَ فَاِنِّیأَقُولُ كَمَا قَالَ يُوسُفُلاِخْوَتِہلَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ الطُّلَقَاءُ(زاد المعاد، لابن القیم الجوزیہ، جلد3، صفحہ359)۔ يعني، آپ نے فرمایا اے گروہ قریش، میری نسبت تمہارا کیاخیال ہے کہ میں  تمہارے ساتھ کیا کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ بھلائی۔ آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کےبیٹے ہیں۔ آپ نے فرمایا میںتم سے وہی کہتاہوں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھاکہ آج تمہارے اوپر کوئی ملامت نہیں۔ جاؤ تم سب آزاد ہو۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس طرح آپ نے پہلے ہی مرحلہ میں اس چیز کو ختم کر دیا جو فاتح اور مفتوح کے درمیان انتقام اور رد عمل کی صورت میں لا محدود مدت تک جاری رہتی ہے۔فاتح قومیں، اس طرح کی فتح کے بعد، عام طور پر تخریب کے عمل میں لگ جاتی ہیں۔ مگر آپ نے عمومی معافی کا طریقہ اختیار کر کے تمام قوتوں کو تعمیر کے راستہ میں لگا دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر جب مکہ میں داخل ہوئے توآپ نے اپنے فوجی سرداروں کو حکم دیا کہ وہ کسی سے جنگ نہ کریں الاّ یہ کہ کوئی خود ان سے لڑنے کے لیے آجائے ( أَنْ لَا يُقَاتِلُوا إلَّا مَنْ قَاتَلَهُمْ) سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 409۔فتح کے بعد آپ نے عمومی طورپر ان سب لوگوں کی معافی کا اعلان کردیاجنھوں نے آپ کے خلاف سخت ترین جرائم کیے تھے۔ البتہ آپ نے کچھ لوگوں کی بابت فرمایا کہ وہ قتل کردیے جائیں، خواہ وہ کعبہ کے پردے کے نیچے پائے جائیں۔ ابن ہشام وغیرہ نے اپنی سیرت کی کتابوں میں نام بنام ان کا ذکر کیاہے۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

1۔ عبد اللہ بن سعد یہ مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کاتب ِوحی مقررکیا۔ پھر وہ مرتَد ہوکر کافروں سے جاملے۔ فتح مکہ کے بعد جب ان کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کا حکم دیا ہے تو وہ بھاگ کر حضرت عثمان کے پاس پہنچے جو ان کے دودھ شریک بھائی تھے۔ وہ ان کو چھپا کر رسول اللہ کے پاس لائے اور کہا کہ ان کو دوبارہ مسلمان کر لیجیے۔ آپ خاموش رہے۔ حضرت عثمان نے پھر درخواست کی تو آپ نے ان سے بیعت لے لی۔ حضرت عمر اور حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں وہ مصر کے حاکم رہے اور افریقہ کی فتح میں ان کا خاص حصہ تھا۔

2۔ عبد اللہ بن خطَل اس نے پہلے اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ اس کے ساتھ ایک غلام اور ایک انصاری تھے۔ ایک منزل پر پہنچ کر عبد اللہ بن خطل نے اپنے غلام سے کہاکہ مرغ ذبح کر کے اس کو پکاؤ۔ مگر غلام سو گیا۔ اور وقت پر کھانا تیار نہ کرسکا۔ اس پر ابن خطل کو غصہ آگیا اور اس نے غلام کو مار ڈالا۔ اب اس کوڈر ہوا کہ اگر میں مدینہ واپس جاتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے قصاص لیں گے۔ چنانچہ وہ مرتد ہوکر مکہ چلاگیا اور مشرکین سے مل گیا۔ وہ شاعر تھا اور آپ کی ہجو میں اشعار کہا کرتا تھا۔ فتح مکہ کے دن ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں سے لپٹ گیا۔ آپ کو بتایا گیا تو آپ نے فرمایاکہ وہیں جاکر قتل کردو۔ چنانچہ ابو برزہ اسلمی اور سعید بن حریث نے حجرا سود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کو قتل کیا۔

3۔ فَرتنٰی یہ مذکورہ عبد اللہ بن خطل کی باندی تھی۔ وہ آپ کی ہجو میں اشعار پڑھتی تھی اور مشرکین مکہ کی شراب کی مجلسوں میں گاتی بجاتی تھی۔ آپ نے ابن خطل کے ساتھ اس کے قتل کا بھی حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی۔

4۔ قُرَیبہ یہ بھی عبد اللہ بن خطل کی باندی تھی اور اس کا بھی وہی پیشہ تھا جو فَرتَنٰی کا تھا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ مگر اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امن کی درخواست کی۔ اس کو آپ نے امن دے دیا او ر وہ مسلمان ہوگئی۔

5۔ حویرث بن نُقیذبن وہب یہ شخص شاعر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں شعرکہتا تھا، بالفاظ دیگر استہزا و تمسخر کی حد تک اسلام کا مخالف تھا۔ حضرت عباس بن مطلب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں، فاطمہ اور ام کلثوم کو لے کر مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔ حویرث بن نقیذ نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے اونٹ کو نیزہ مار کر بھڑ کا دیا جس کی وجہ سے دونوں خواتین زمین پر گر پڑیں۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور حضرت علی نے اس کو قتل کیا۔

6۔ مِقْیَس بن صُبابہ اس شخص کا ایک بھائی ہشام بن صُبابہ تھا۔ غزوہ ذی قَرَد کے موقع پر ایک انصاری نے ہشام کو غلطی سے قتل کردیا۔ اس کے بعد مِقْیَس بن صبابہ مکہ سے مدینہ آیا مسلمان ہوگیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کی دیت مجھے دلائی جائے جو غلطی سے دشمن سمجھ کر قتل کیاگیا ہے۔ آپ نے اس کی دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد وہ چند دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا اور پھر اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر کے اچانک مکہ بھاگ گیا اور مرتد ہو گیا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور نمیلہ بن عبد اللہ لیثی نے اس کو قتل کیا۔

7۔ سارہ یہ عورت عکرمہ بن ابی جہل کی باندی تھی۔ آپ کی ہجو میں اشعار گا یا کرتی تھی اور آپ کا مذاق اڑاتی تھی۔ آپ نے اس کا خون مباح کیا تھا۔ پھر اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امن مانگا تو آپ نے امن دے دیا۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ حضرت عمر کے زمانہ خلافت تک زندہ رہی۔

8-9۔ حارث بن ہشام اور زہیر بن ابی امیہ ان دونوں شخصوں کا خون بھی مباح کر دیا گیاتھا۔ وہ بھاگ کر اپنی ایک رشتہ دار خاتون ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر میں داخل ہو گئے۔ حضرت علی ان کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور کہا کہ خدا کی قسم میں ان دونوں کو ضرور قتل کروں گا۔ ام ہانی نے حضرت علی کو روکا اور ان دونوں کو اپنے گھر میں بند کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں۔ اور کہا کہ میں نے ان دونوں آدمیوں کو پناہ دی ہے مگر علی ان کو قتل کر نا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تم نے جن کو پناہ دی ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور تم نے جن کو امن دیا ہم نے بھی ان کو امن دیا۔ علی ان کو قتل نہ کریں۔ چنانچہ وہ دونوں چھوڑ دیے گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

10۔ عِکرمہ بن ابی جہل عکرمہ اپنے باپ کی طرح اسلام کے سخت ترین دشمن تھے۔ ان کا خون بھی آپ نے مباح کر دیا تھا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر یمن چلے گئے۔ ان کی بیوی ام حکیم بنت حارث جو مسلمان ہو چکی تھیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امان کی درخواست کی۔ آپ نے ان کی امان منظور کرلی۔ اس کے بعد وہ یمن گئیں اور عکرمہ کو مکہ واپس لائیں۔ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ عکرمہ نے اس کے بعد اسلام کے لیے زبردست جانی و مالی قربانی دی۔ وہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میںاجنا دین کی جنگ میں قتل ہوئے۔

11۔ ہبار بن الا سود اس شخص سے مسلمانوں کو بہت تکلیفیں پہنچی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب زوجہ ابو العاص ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ جارہی تھیں۔ ہبار بن اسود نے آپ کے اونٹ کو نیزہ مارا۔ اس کے بعد اونٹ بدک کر دوڑ ا تو حضرت زینب اونٹ سے زمین پر گر پڑیں۔ اس وقت وہ حاملہ تھیں۔ ان کا حمل ساقط ہو گیا۔ اس کے بعد وہ آخر عمر تک بیمار رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبار کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ہبار نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امان طلب کی اور کہاکہ اے خدا کے رسول میری جہالت کو معاف کر دیجئے اور میرا اسلام قبول کر لیجیے۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا۔

12۔ وحشی بن حرب وحشی نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کو قتل کیاتھا اور ان کا خون بھی مباح کر دیا گیا تھا۔ وہ اولاً مکہ سے طائف بھاگ گئے۔ پھر مدینہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی غلطی کی معافی چاہتے ہوئے اسلام کی پیش کش کی۔ آپ نے ان کو اسلام میں داخل کر لیا اور ان کو معاف کر دیا۔ وہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مسيلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے اور جس حربہ سے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا اسی حربہ سے مسیلمہ کذاب کو قتل کیا۔

13۔ کعب بن زہیر عرب کے مشہور شاعر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار کہا کرتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر ان کا خون بھی مباح کر دیا گیا۔ وہ مکہ سے بھاگ گئے۔ وہ بعد کو مدینہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے بیعت کی درخواست کی۔ آپ نے ان کو بیعت کرلیا اور اس کے بعد ان کو اپنی چادر عنایت فرمائی۔

14۔ حارث بن طلاطل یہ شخص شاعر تھا اور اشعار کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا کرتاتھا۔ آپ نے اس کا خون مباح کر دیا اور حضرت علی نے اس کو قتل کیا۔

15۔ عبد اللہ بن زِبعری یہ عرب کے بڑے شاعروں میں سے تھے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت میں ہجویہ اشعار کہا کرتےتھے۔ آ پ نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر نجران چلےگئے۔ بعد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہوں نے تو بہ کی اور اسلام لائے۔ آپ نے ان کو معاف کردیا۔

16۔ ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی یہ شخص شاعر تھا اور شعر کہہ کر آپ کا اور آپ کے مشن کا استہزا کیا کرتا تھا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر نجران چلا گیا اور وہیں کفر کی حالت میں مرگیا۔

17۔ ہند بنت عتبہ زوجہ ابو سفیان اس عرب خاتون کو اسلام سے اتنی دشمنی تھی کہ غزوۂ احد کے موقع پر انہوں نے حضرت حمزہ کا جگر نکال کر چبا یا تھا۔ آپ نے ان کے قتل کا حکم دیا۔ مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیںاور اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے اسلام قبول کرلیا۔ آپ نے ان کو معاف کردیا۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر گئیں اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا اور کہا خدا کی قسم تمہاری ہی وجہ سے ہم دھوکہ میں تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اوپر جو تفصیل درج کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سترہ مردوں اور عورتوں کے قتل کا حکم دیاتھا۔ ان میں سے ہر شخص متعین اور معلوم شخصی جرم کی بنا پر گردن زدنی تھا۔ تاہم ان میں سے جس شخص نے بھی معافی مانگی یا اس کی طرف سےکسی نے معافی کی درخواست کی اس کو آپ نے معاف کر دیا۔معافی طلب کرنے والوں میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کیاگیا۔ سترہ آدمیوں کا خون مباح کیاگیا تھا، ان میں سے گیارہ آدمیوں کو براہِ راست یا با لواسطہ معافی طلب کرنے پرمعاف کردیا گیا۔ پانچ آدمی جنہوں نے معافی کی درخواست نہیں کی وہ قتل کردیے گئے اور ایک آدمی مکہ سے دور بھاگ گیا اور طبعی موت سے اس کا خاتمہ ہوا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content