← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
فتح اسلام
Urdu · 32 min
بدر کی شکست نے دوبارہ قریش کو بھڑکا یا اور مختصر سی مدت میں ان سے کئی معر کے پیش آئے، جن میں احد (3ھ) اور احزاب (5ھ)خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان غزوات میں مسلمانوں کو شدید ترین مصائب پیش آئے۔ غزوہ خندق میں 800آدمی تھے۔ مگر سردی اور بھوک اورتکان کا عالم یہ تھا کہ جب آپ نے دشمن کی جاسوسی کے لیے ایک شخص کو بھیجنا چاہاتو تین بار آواز دینے کے بعد بھی کوئی نہ اٹھا، یہاں تک کہ آپ حضرت حذیفہ کے پاس آئے اور نام لے کر ان کو بلایا اور ان کو اس کام پر متعین کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسری طرف مدینہ کے یہود ایک مستقل اندرونی مسئلہ بنے ہوئے تھے۔ قریش سے مل کر دونوں کے درمیان اسلام کے خلاف سازشیں جاری رہتی تھیں۔ خندق کے 20روزہ محاصرہ کے بعدجب ایک شدید آندھی سے مجبور ہو کر قریش کی فوج مکہ واپس ہوئی تو آپ نے اس موقع کو مدینہ کے اندرونی یہودیوں سے نمٹنے کے لیے موزوں ترین سمجھا جس میں ان یہودیوں کی سازش او ر بغاوت برہنہ ہوکر سامنے آچکی تھی۔ آپ نے مدینہ کے ایک یہودی قبیلہ بنو قریظہ کو خندق سے لوٹتے ہی فورا ً گھیر لیا اور ان پر خود ان کی کتاب تورات کے قانون کو جاری کر کے ان کے مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔
اب مسئلہ خیبر کا تھا۔ ہجرت کے چھٹے سال یہ صورت حال تھی کہ درمیان میںمدینہ کا دارالاسلام تھا اور جنوب میں چار سو کلومیٹر کے فاصلہ پر مکہ کے قریش تھے اور شمال میں دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر خیبر کے یہودی۔ قریش اور یہودی، اسلام دشمنی میں متفق الرائے ہونے کے باوجود، اکیلے اکیلے اتنے طاقت ورنہ تھے کہ تنہا اسلام کو ختم کرنے کا حوصلہ کر سکیں۔ اسی لیے ان کے درمیان مشترکہ جنگی اقدام کی سازشیں چل رہی تھیں۔ دوسری طرف مسلمان بھی اس پوزیشن میں نہ تھے کہ بیک وقت اپنے دونوں دشمنوں کا مقابلہ کر سکیں ۔
ان حالات میں آ پ نے ربانی تد بر کے تحت ذی قعدہ 6ھ میں اپنے ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف کو چ کر دیا، اور اعلان فرمایا کہ ہم کسی کے خلاف جنگ کے لیے نہیں جارہے ہیں ،بلکہ عمرہ کرنے کے لیے جارہے ہیں۔ قربانی کے جانوروں کا قافلہ بھی آپ نے اپنے ساتھ لے لیا۔ حتٰی کہ زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق اونٹوں کو قربانی کا نشان (قلادہ) بھی پہنا نے کا حکم دیا تاکہ مکہ والوں کو بخوبی معلوم ہو جائے کہ آپ زیارت کعبہ اور قربانی ہی کے لیے آئے ہیں ۔ اس سفر کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ قریش پر اس بات کا مظاہرہ ہو کہ آپ کا مقصد کعبہ کی مذہبی یا تجارتی حیثیت کو ختم کر نا نہیں ہے۔
مکہ سے تقریباً گیارہ کیلو میٹر کے قریب حدیبیہ کے مقام تک پہنچے تھے کہ حسب توقع قریش نے آگے بڑھ کر روکا۔ آپ نے جھگڑے سے بچتے ہوئے وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور قریش کو پیغام بھیجا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان صلح کا معاہدہ ہو جائے
إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ، وَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ نَهِكَتْهُمُ الحَرْبُ، وَأَضَرَّتْ بِهِمْ، فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْتُهُمْ مُدَّةً، وَيُخَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ، فَإِنْ أَظْهَرْفَإِنْ شَاءُوا أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ فَعَلُوا، وَإِلَّا فَقَدْ جَمُّوا، وَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى أَمْرِي هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي، وَلَيُنْفِذَنَّ اللهُ أَمْرَهُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ يعني، ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں، بلکہ صرف عمرہ کے لیے آئے ہیں۔ جنگ نے قریش کا برا حال کردیا ہے اور ان کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میں ان کے لیے ایک مدت (جنگ نہ کرنے کی) مقرر کردوں اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ اگر میں غالب رہوں تو وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں گے جس میں لوگ داخل ہوئے، اور مجھے غلبہ نہ ہوا تو ان کا مدعا حاصل ہے ۔اور اگر قریش نے اس سے انکار کیا تو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میںمیری جان ہے، میں اس معاملہ میں ان سے لڑوں گاخواہ میری گردن الگ ہو جائے اور اللہ کا امر پورا ہوکر رہے گا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ پیغام درحقیقت خود قریش کے اندر موجود ایک فکر سے فائدہ اٹھانا تھا۔ مکہ کے ابتدائی دور میں جب عتبہ بن ربیعہ قریش کے ایک نمائندہ کی حیثیت سے آپ سے ملا اور آپ سے گفتگو کے بعد قریش کی طرف لوٹا تو ایک روایت کے مطابق اس نے جو باتیں قریش سے کہیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَاتْرُكُوا الرَّجُلَ وَاعْتَزِلُوهُ فَوَاللهِ مَا هُوَ بِتَارِكٍ مَا هُوَ عَلَيْهِ وَخَلُّوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَائِرِ الْعَرَبِ فَإِنْ يَظْهَرْ عَلَيْهِمْ يَكُنْ شَرَفُهُ شَرَفَكُمْ وَعِزُّهُ عِزَّكُمْ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْهِ تَكُونُوا قَدْ كُفِيتُمُوهُ بِغَيْرِكُمْ (دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصبہانی، حدیث نمبر 185)۔يعني، اس آدمی کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ خدا کی قسم وہ اپنی بات سے باز آنے والا نہیں۔ تم ان کے اور تمام عرب کے درمیان سے ہٹ جاؤ۔ اگر وہ عرب پر غالب آگئے تو ان کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور اگر وہ مغلوب ہوگئے تو تم دوسروں کےہاتھوں ان سے نجات پالوگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ فکر جو خود قریش کے اندر دبا ہوا موجود تھا۔ اسی کو آپ نے استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود دشمن کے اندر آپ کو اپنے نقطہ نظر کے حامی مل گئے۔
ایک طرف آپ نے یہ پیغام کہلایا۔ دوسری طرف قریش کو مختلف طریقوں سے متاثر کرنے کا عمل بھی شروع ہوگیا۔ بنی کنانہ کا ایک شخص، حُلَيس بن علقمة الكناني مکہ سے روانہ ہوکر حدیبیہ پہنچاتا کہ یہ معلوم کرے کہ مسلمان کس لیے آئے ہیں لوگوں نے آپ کو اطلاع دی تو آپ نے فرمایاکہ اس شخص کے قبیلہ میں قربانی کے اونٹوں کی تعظیم کی جاتی ہے تم لوگ اپنے قربانی کے اونٹوں کو لے کر اس کا استقبال کرو (هَذَا مِنْ قَوْمٍ يَتَأَلَّهُونَ، فَابْعَثُوا الْهَدْيَ فِي وَجْهِهِ)۔ مسلمانوں نے اونٹوں کا قافلہ بنایا اور لبیك اللّہم لبیك پڑھتے ہوئے اس کے سامنے سے گزرے۔ یہ شخص مکہ واپس ہو اتو بہت متاثر تھا۔ اس نے قریش سے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ مسلمان صرف زیارت کعبہ کی غرض سے آرہے ہیں انہیں روکا نہ جائے (مسند احمد، حدیث نمبر18910)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کے ایمان و اسلام کا مظاہرہ بھی انہیں شدید طور پر متاثر کرتاتھا۔ قریش کا ایک سفیر جب حدیبیہ پہنچا تو مسلمان صف بندی کر کے رسول اللہ کی امامت میں نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز کے نظم وضبط کا منظر دیکھ کر وہ اتنا مرعوب ہوا کہ واپس ہوکر قریش سے کہا کہ مسلمانوں کا اتحاد اتنا زبردست ہےکہ ساری کی ساری قوم محمد کے ایک اشارے پر حرکت کرتی ہے— ایک سفیر نے دیکھا کہ پیغمبر اسلام جب وضو کرتے ہیں تو مسلمان دوڑتے ہیں کہ ان کے غسالہ کو زمین پر گرنے سے پہلے اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ جب وہ بولتے ہیں تو سب کی آوازیں پست ہو جاتی ہیں۔ وہ ادب و تعظیم کی وجہ سے ان کی طرف دیکھتے تک نہیں۔ سفیر نے واپس ہوکر قریش سے مسلمانوں کی اس وفاداری اور محبت کا ذکر کیا تو وہ سخت مرعوب ہوئے۔ بُدَیل بن وَرقا الخزاعی کے ذریعہ جب مذکورہ پیغام قریش کو پہنچا تو ان کے ایک شخص (عروہ بن مسعود) نے تقریر کی
unverifiedAttribution could not be verified automatically
فَقَامَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ، فَقَالَأي قوم أَلَسْتُ بِالْوَالِد؟، قَالُوابَلَى، قَالَأَلَسْتُمْ بِالْوَلَدِ، قَالُوابَلَى قَالَفَهَلْ تَتَّهِمُونِي، قَالُوالَا، قَالَفَإِنَّ هَذَا قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ، خُطَّةَ رُشْدٍ، فَاقْبَلُوهَا، وَدَعُونِي آتِيَه(البدایہ والنہایہ، جلد4، صفحہ 174)۔يعني، اےمیری قوم ! کیا تم میں سے کچھ لوگ میرے والد کے برابر نہیں ۔ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، عروہ نے کہا، کیا تم میں سے کچھ میری اولاد کے برابر نہیں۔ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ۔ عروہ نے کہا کیا تمہیں میرے اوپر کوئی شک ہے۔ لوگوں نے کہا نہیں۔ عروہ نے کہا اس آدمی نے تمہارے سامنے ایک بہترین تجویز پیش کی ہے، تم اس کو مان لو اور مجھے جانے دو کہ میں ان سے بات کروں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
آپ نے اعلان کردیا کہ قریش جس چیز کا بھی مطالبہ کریں گے، میں اس کو مان لوں گا (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لاَ يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا)۔ تاہم نا جنگ معاہدہ لکھا جانے لگا تو انہوں نے طرح طرح سے حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کیا۔ معاہدہ کے مسودہ سے ’’محمد رسول اللہ ‘‘ کو مٹاکر محمد بن عبد اللہ لکھوایا۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بجائے بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ لکھنے پر اصرار کیا۔ یہ دفعہ بڑھائی کہ قریش کا کوئی آدمی مسلمانوں کے ہاتھ لگے تو وہ اس کو واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس کے برعکس، کوئی مسلمان قریش کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس کو واپس نہیں کریں گے۔ اس کی اجازت نہ دی کہ مسلمان اس سال مکہ جاکر عمرہ کریں۔ سارے صحابہ کے لیے یہ شرطیں انتہائی گراں ہورہی تھیں۔ حتٰی کہ ایک موقع پر جب عروہ بن مسعود نے کہا اے محمد ! یہ جو ادھر اُدھر کے لوگ آپ نے اپنے گرد جمع کر رکھے ہیں، یہ سب آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے (إِنِّي لَأَرَى أَوْشَابًا مِنَ النَّاسِ خَلِيقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ)۔اس کو سن کر ابوبکر جیسا سنجیدہ آدمی بھی غصہ میں آگیا۔ ان کی زبان سے نکلا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امْصُصْ بِبَظْرِ اللَّاتِ، أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ؟ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731) ۔یعنی، تو لات کی شرم گاہ چوس، کیا ہم آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
hadithQuotes a hadith
مگر خدا کا رسول ہر قسم کی اشتعال انگیز باتوں کو برداشت کرتارہا اور قریش کے ہر مطالبہ کو مان کر ان سے دس سال کے لیے ناجنگ معاہدہ کر لیا۔ اب قریش پا بند ہو گئے کہ وہ دس برس تک با لواسطہ یا براہ راست کسی ایسی جنگ میں حصہ نہ لیں جو مسلمانوں کے خلاف ہو۔
یہ معاہدہ جو مسلمانوں پر اتنا سخت تھا کہ اس کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں سے قربانی کرنے کو کہا تو تین بار اعلان کرنے کے باوجود کوئی ایک شخص قربانی کے لیے نہ اٹھا۔ اس کے بعد اٹھے بھی تو غم کا یہ حال تھا کہ قربانی کے بعد سر مونڈ نے لگے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو کاٹ ڈالیں گے (وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا)صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731۔مگر دب کر کیے جانے والے اس معاہدہ کے اتنے عظیم الشان فائدے ہوئے جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں کے دو طاقت ور حریف تھے، ایک خیبر کے یہودی، دوسرے مکہ کے قریش۔ مسلمان ابھی اتنے طاقت ورنہ ہوئے تھے کہ بیک وقت دونوں سے نمٹ سکیں۔ ایک پر حملہ کرنا گویا دوسرے کو موقع دینا تھا کہ وہ پیچھے سے آکر مدینہ میں گھس جائے اور مسلمانوں کے مرکز کو برباد کردے۔ آپ نے یہ کیا کہ قریش مکہ کے سارے مطالبات منظور کر کے ان کو دس سال تک کے ’’نا جنگ معاہدہ‘‘ پر راضی کر لیا۔ اور اس طرح انہیں ’’بطن مکہ‘‘ میں روک دیا (الفتح، 48:24)۔اس کے بعد مدینہ واپس آکر پہلی فرصت میں خیبر پر حملہ کر کے یہود ی مسئلہ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ پہلا واقعہ ذی قعدہ 6ھ میں ہوا اور دوسرا محرم 7ھ میں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خیبر میں یہودیوں کے آٹھ پتھر کے قلعے تھےجن میں 20ہزار جنگجو ایسے ہتھیاروں کے ساتھ موجود تھے جن سے اسلامی فوج بالکل خالی تھی۔ ان قلعوں کے استحکام کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا جس کو 1700ء میں فرانس کے فوجی انجینئر مارشل وابان (1633-1707ء)نے اختیار کرکے شہرت پائی۔ اس مضبوط اور مسطح شہر کو کس طرح فتح کیا گیا، یہ بذات خود ایک طویل داستان ہے۔ اس موقع پر جو حیرت انگیز جنگی حکمت عملی اختیار کی گئی، اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ واقعہ کافی ہے کہ قلعوں کا پھاٹک توڑنے کے لیے یہ کیا گیا کہ بھاری درخت کاتنہ لے کر پچاس آدمی دوڑتے تھے اور اس کو تیزی سے قلعہ کے پھاٹک پر مارتے تھے، چند بار ایسا کرنے سے قلعہ کا دروازہ ٹوٹ جاتاتھا اور اس کے بعد تیروں اور منجنیقوں کے طوفان میں مسلمان قلعہ کے اندر گھس جاتے۔ اس طرح چار قلعے مسخر ہوئے تھے کہ بقیہ نے مرعوب ہوکر خود سے اپنے دروازے کھول دیے اور اپنے کو اسلامی فوج کے سپرد کر دیا۔
خیبر کی تسخیر کے بعد اب قریش ِمکہ کا مسئلہ تھا۔ آپ کی فراست ربانی نے بتایا کہ اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ دشمن کو موقع دیا جائے کہ وہ کوئی غلطی کرے تاکہ آپ کے لیے مداخلت جائز ہو جائے۔ آپ جانتے تھے کہ قریش کو جس چیز نے اسلام کے خلاف برانگیختہ کر رکھا ہے، وہ بغض، حسد، اقتدار پرستی اور گھمنڈ کے سوا کچھ نہیں ہے اور جو لوگ اس قسم کی نفسیات کے تحت کسی چیز کی مخالفت کریں وہ اپنے آپ کو غیر منطقی اور غیر اخلاقی کا ر روائیوں سے باز نہیں رکھ سکتے۔ اندازہ نہایت صحیح نکلا۔ قبیلہ خزاعہ اور قبیلہ بنی بکر کی جنگ (شعبان 8ھ)میں قریش نے درپر دہ اپنے حلیف قبیلہ (بنوبکر) کی حمایت میں مسلمانوں کے حلیف قبیلہ (بنو خزاعہ) کے خلاف چڑھائی کرکے یہی غلطی کی۔ یہ معاہدۂ صلح کی صریح خلاف ورزی تھی۔ یہ صلح حدیبیہ کے دو برس بعد کا واقعہ ہے۔ اس صلح کے نتیجہ میں اس مدت میں اسلام اتنا بڑھ چکا تھا کہ صلح حدیبیہ کے وقت اگر آپ کے ساتھ ڈیڑھ ہزار مرد تھے تو اب ان کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی۔ آپ نے خاموشی کے ساتھ مکہ کی طرف مارچ کر دیا۔ یہ سب کچھ اتنی حکمت اور تدبر کے ساتھ ہواکہ تقریباً خون بہائے بغیر مکہ فتح ہوگیا
وَعَدَكُمُ اللهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ (48:20)۔ يعني، اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جن کو تم لوگے، پس یہ اس نے تم کوفوری طور پر دے دیا۔ اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معاہدہ کے وقت صورت حال یہ تھی کہ تقریباً 20برس کی مسلسل تبلیغی جدو جہد کے ذریعہ اسلام کی آواز سارے عرب میں پھیل چکی تھی۔ ہر قبیلہ میں بے شمار ایسے لوگ وجود میں آچکے تھے جن کے دلوں میں اسلام کی صداقت نے اپنی جگہ بنائی تھی۔ مگر اس وقت کے عرب میں قریش کو قیادت کا مقام حاصل تھا۔ لوگ قریش کے ڈر سے اپنے اسلام کا اعلان نہیں کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اسلام کا اعلان کرنا قریش سے جنگ چھیڑنے کے ہم معنی ہے۔ معاہدۂ حدیبیہ کے بعد جب لوگوں کو معلوم ہو ا کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ ہوگیا ہے تو یہ خطرہ دور ہو گیا اور لوگ اس طرح اسلام قبول کرنے لگے جیسے ٹریفک پوسٹ پر بند سڑک کھلنے کے بعد اچانک سواریاں ٹوٹ پڑتی ہیں۔
قال الفقیہ ابن شھاب الزھری وغیرہ ان اللہ فتح علی المسلمین بصلح الحدیبیۃ اکثر مما فتح اللہ علیھم بہ من اي غزو آخر بد لیل ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم رجع الی مکۃ عام الفتح بعشرۃ آلاف ولم تکن عدتۃ من قبل لتزید علی ثلاثۃآلاف یحال، و عللہ بانہ لماھادن قریشا لم یجدالعرب حرجا ان ید خلوالا سلام فان ذلک لایغیظ قریشا ولا یعتبر تحدیا لھا ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم و بنو اسرائیل للدکتور مصطفی کمال وصفی،1967، مصر، صفحہ 101-102)۔ يعني، ابن شہاب زہری اور دوسروں نے کہا ہے کہ اللہ نے صلح حدیبیہ کے ذریعہ مسلمانوں کو جو فتوحات دیں وہ کسی بھی دوسرے غزوہ سے زیادہ تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال مکہ میں دس ہزار افراد کے ساتھ داخل ہوئے جب کہ اس سے پہلے ان کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب قریش نے جنگ جوئی بند کردی تو عربوں کو اسلام میں داخل ہونے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ کیونکہ اب قریش کے غصہ اور مقابلہ کا خطرہ نہیں تھا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
بخاری نے حضرت براء سے روایت کیاہے، انہوں نے بعد کے لوگوں سے کہا، تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو۔ مگر ہم لوگ صلح حدیبیہ کو فتح کہا کرتےتھے (تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا، وَنَحْنُ نَعُدُّ الفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الحُدَيْبِيَةِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4150۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس معاہدہ کے ذریعے مدینہ کا اقتصادی محاصرہ ختم ہو گیا اور مدینہ کے تجارتی قافلے آزادی کے ساتھ مکہ سے گزر نے لگے۔ ابو بصیر، ابوجندل وغیرہ جن کو معاہدہ کے مطابق قریش کی طرف واپس آنا ضروری تھا، وہ بھاگ کر ذوالمروہ پہنچے۔ وہاں اس قسم کے اور مسلمان جمع ہونے لگے حتٰی کہ وہ ایک نیا مرکز بن گیااور اس نے قریش کے تجارتی قافلوں کو اتنا پریشان کیا کہ انہوں نے ازخود معاہدہ کی یہ دفعہ ختم کردی۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری عجلت اور ظاہر پرستی ہے۔ اگر آدمی ظواہر سےبلند ہو جائے تو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ایسے امکانات رکھے ہیں جو آدمی کو کامیابی تک پہنچانے کی یقینی ضمانت ہیں
وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ الصّدّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُمَا كَانَ فَتْحٌ فِي الْإِسْلَامِ أَعْظَمَ مِنْ فَتْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَلَكِنّ النّاسَ يَوْمئِذٍ قَصَرَ رَأْيُهُمْ عَمّا كَانَ بَيْنَ مُحَمّدٍ وَرَبّهِ، وَالْعِبَادُ يَعْجَلُونَ، وَاَللهُ تَبَارَك وَتَعَالَى لَا يَعْجَلُ كَعَجَلَةِ الْعِبَادِ حَتّى تَبْلُغَ الْأُمُورُ مَا أَرَادَ اللهُ(مغازی الواقدی، جلد2، صفحہ610)۔حضرت ابوبکر فرماتے تھے اسلام میں فتح حدیبیہ سے زیادہ بڑی فتح کوئی نہیں ہوئی، مگر اس دن لوگوں کی نظریں وہاں تک نہ پہنچ سکیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کے درمیان تھا۔ بندے جلدی چاہتے ہیں۔ مگر اللہ بندوں کی طرح جلدی نہیں کرتا یہاں تک کہ معاملات وہاں پہنچ جائیں جہاں وہ ان کو پہنچانا چاہتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت پسندی دنیا میں سب سے زیادہ کمیاب ہے، اگر چہ حقیقت پسندی ہی وہ چیز ہے جو کسی کامیابی تک پہنچنے کا واحد یقينی ذریعہ ہے۔
خیبر سے فارغ ہونے کے بعد ہی آپ نے ایک اور مہم کی تیاری شروع کردی تھی۔ مگرکسی ایک شخص سے بھی آپ نے نہیں بتایا کہ یہ تیاری کس کےخلاف ہے حتٰی کہ حضرت ابوبکر تک کو معلوم نہ تھا کہ آپ کدھر کا قصد کرنے والے ہیں۔ رمضان 8 ھ کے آغاز میں جب اسلامی لشکر نے آپ کے حکم کے مطابق مکہ کا رخ کیا، اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ کی منزل کیاہے۔ تاہم پورا سفر اتنی خاموشی سے طے ہوا کہ آپ مرالظہران تک پہنچ گئے اور مکہ والوں کو خبر نہ ہوئی (فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ الظَّهْرَانِ، وَقَدْ عُمِّيَتْ الْأَخْبَارُ عَنْ قُرَيْشٍ، فَلَمْ يَأْتِهِمْ خَبَرٌ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)۔آپ نے روانگی سے پہلے دعافرمائی
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اللَّهمّ خُذْ الْعُيُونَ وَالْأَخْبَارَ عَنْ قُرَيْشٍ حَتَّى نَبْغَتَهَا فِي بِلَادِهَا(خدایا قریش سے جاسوسوں اور خبروں کو روک لےیہاںتک کہ میں ان کے شہر میں داخل ہو جاؤں )۔
اس مہم کی تیاری کے لیے آپ نے حیرت انگیز انتظامات کیے۔ آپ نے حکم دیا کہ شہر مدینہ کا تعلق باہر سے منقطع کر دیا جائے۔ نہ کوئی شخص باہر سے شہر کے اندر داخل ہو اور نہ کوئی شخص شہر سے باہر جانے پائے۔ حضرت علی کی قیادت میں کچھ لوگ راستوں کی نگرانی کے لیے مقرر کر دیے گئے۔ انہیں لوگوں نے حاطب بن ابی بلتعہ کے قاصد کو پکڑ کر اس سے مشہور خط برآمد کیا تھا (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ397-400)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سارا لشکر سامان اور ہتھیار سے لیس تھا۔ مسلمانوں کی ساری تعداد کو ساتھ لیا گیا (فَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 400 ۔روانگی کا انتظام آپ نے اس طرح کیا کہ دس ہزار فوج کو مختلف دستوں میں بانٹ دیا۔ ہر دستہ کا ایک سردار تھا جو جھنڈا لے کر آگے چلتا اور اس کے پیچھے چند سو کا دستہ قطار درقطار مارچ کرتا۔ اپنے چچا حضرت عباس سے آپ نے کہا کہ ابو سفیان کو فوجوں کے مارچ کا منظر دکھا یئے۔ آپ نے حضرت عباس سے فرمایا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
احْبِسْهُ بِمَضِيقِ الْوَادِي عِنْدَ خَطْمِ الْجَبَلِ، حَتَّى تَمُرَّ بِهِ جُنُودُ اللهِ فَيَرَاهَا (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ403)۔يعني، ابوسفیان کو پہاڑ کے پاس گزر گاہ پر روکے رہیے تاکہ اللہ کا لشکران کے سامنے سے گزر ے اور وہ اس کو دیکھیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلامی لشکر قطار درقطار گزر رہا تھا اور ابو سفیان حیرانی کے ساتھ دیکھ رہے تھے، یہاں تک کہ ابو سفیان کی زبان سے نکلامَا لِأَحَدِ بِهَؤُلَاءِ قِبَلٌ وَلَا طَاقَةٌ (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ404)۔ کسی کے پاس ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہے۔ ایک روایت میں ہے فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ جُنُودًا قَطُّ، وَلَا جَمَاعَةً(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7263) ۔ یعنی، میں نے اس جیسا لشکر آج تک نہیں دیکھا، اور نہ ایسی جماعت۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک طرف آپ نے مکہ کے لیڈر (ابوسفیان) کو اس طرح متاثر کیا، دوسری طرف یہ اعلان کر دیا کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کو امان ہے (مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 1780۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو سفیان نے خود ہی مکہ میں اعلان کر دیا کہ اے لوگو، محمد کی اطاعت قبول کرلو۔ آج ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت کسی میں نہیں۔ فتح مکہ کے بعد کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اس مہم کے لیے اتنی زبردست تیاری مکہ میں خوں ریزی کے لیے نہ تھی بلکہ اہل مکہ کو مرعوب کرنے کے لیے تھی تاکہ خون بہائے بغیر مکہ پر اسلام کا قبضہ ہو جائے۔ لشکر اسلام کے سردار سعد بن عبادہ نے مکہ کے قریب پہنچ کر نعرہ لگایا الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ (آج گھمسان کا دن ہے ) آپ نے فرمایانہیں، آج رحمت کا دن ہے (الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَرْحَمَةِ)اور ان کو سرداری سے معزول کر کے جھنڈا ان کے لڑکے قیس کو دے دیا (تاریخِ دمشق لابن عساکر، جلد23، صفحہ454)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فتح مکہ کے بعد بھی اگر چہ کچھ لڑائیاں ہوئیں اور مجموعی طورپر آپ کے غزوات (چھوٹے بڑے) کی تعداد80 تک پہنچتی ہے۔ تاہم مکہ کا فتح ہونا ملک کے دارالسلطنت کا قبضہ میں آنا تھا۔ چنانچہ معمولی جھڑپوں کے بعد سارے عرب نے آپ کے اقتدار کو تسلیم کر لیا۔